اور
حافظ قاری حکیم عبدالغفار ذوقی مصطفائی الٰہ آبادی
" />

"تجزیہ حیات "

(Muhammad Ahmed Tarazi, karachi)
"تجزیہ حیات "
اور
حافظ قاری حکیم عبدالغفار ذوقی مصطفائی الٰہ آبادی
"تجزیہ حیات "
اور
حافظ قاری حکیم عبدالغفار ذوقی مصطفائی الٰہ آبادی
حکیم عبدالغفار ذوقی مصطفائی الٰہ آبادی 1904ء میں الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔والد حافظ منشی عبدالرحمٰن عیش آبادی ریلوے کے محکمہ ڈاک میں افسر تھے۔آپ کی تعلیم وتربیت الٰہ آباد میں ہوئی والد صاحب نے بڑے نازونعم سے پرورش کی۔بچپن میں قرآن پاک حفظ کیا۔قاری ضیاء الدین احمد سے تجوید وقرات کی تحصیل کی۔آپ حافظ قرآن،فن قرات میں طاق اور عربی و فارسی میں فاضل تھے۔علم الابدان کے شوق کی وجہ سے "حکیم حاذق" کی سند وہاجیہ طیبہ کالج لکھنو سے حاصل کی اور الٰہ آباد میں مطب قائم کیا۔
مذہب اور فلسفہ اُن کے خاص موضوع تھے۔شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ آپ خوشنویسی و خطاطی میں مہارت رکھتے تھے۔حکیم صاحب مصور بھی تھے۔آپ کم عمری ہی میں فن خطاطی میں مہارت حاصل کرچکے تھے۔اُنہوں نے تقسیم سے قبل الٰہ آباد میں ایک ادبی انجمن"معین الادب" بھی قائم کی۔آپ تقسیم کے بعد "بزم خلیل"حیدرآباد کے جنرل سیکرٹری نامزد ہوئے۔
حکیم عبدالغفار ذوقی مصطفائی الٰہ آبادی کو حضرت خواجہ مصطفیٰ صبغت اللہ پیرایرانی شاہ سے بیعت و خلافت حاصل تھی۔صدر شعبہ اردو سندھ یونی ورسٹی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔آپ حیدر آباد سے جاری رہنے والے ماہنامے "المصطفےٰ" کے ایڈیٹر،پبلشر اور پرنٹر بھی تھے۔یہ ماہنامہ 1956ء سے 1963ء تک پابندی سے شائع ہوتا رہا۔اُن کی وفات 3جولائی 1973ء کو لطیف آباد حیدرآباد میں ہوئی ۔
حکیم صاحب نے تحریری میدان میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں۔آپ کی تصانیف میں"مینائے مصطفیٰ" دو جلدیں،"میکدہ مصطفائی"،"مکتوبات " "طب القرآن" اور "تجزیہ حیات"شائع ہوچکی ہیں۔جبکہ درجنوں غیر مطبوعہ تصانیف میں"گیسو دراز"،"نکات عرفانی"،اور علامہ اقبال کی "ارمغان حجاز"کا منظوم اردو ترجمہ اہل علم کے لیے خاص تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔
"تجزیہ حیات"
حکیم عبدالغفار ذوقی مصطفائی الٰہ آبادی کی وہ تصنیف ہے جس کی اشاعت جدید"گلوبل اسلامک مشن،یوایس اے،کے چئیرمین جناب محمد مسعود احمد سہروردی اشرفی صاحب نے حال ہی میں کی ہے۔یہ کتاب"حیات"،"جمادات"،"نباتات"،"حیوانات"،"انسان"،"سینما کی حقیقت"،"انسان کی روحانی زندگی"،"دجال"،"انسان کی ظاہر ادنیٰ اور باطن اعلیٰ روحانی زندگی"،"شرائط بیعت،اعتقاد،اطاعت ،بدگمانی اور حضوری" جیسے اہم ترین موضوعات سے متعلق ہے۔
"تجزیہ حیات"ایک علمی ،ادبی اور تحقیقی کتاب ہے ۔اس میں موجودہ دور کے مسائل پر بڑی تحقیق و جستجو کے بعد عالمانہ بحث کی گئی ہے۔جس سے زندگی کے ہر شعبے پر روشنی پڑتی ہے اور زندگی کی ارتقائی منازل کے متعلق اہم اور مفید معلومات فراہم ہوتی ہے۔اسی کے ساتھ اِس کتاب میں عادات واطوار،عبادات و اعمال،حرام وحلال،اور ملازمتوں اور پیشوں کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بھی حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے،جس سے نہ صرف انسانی زندگی اور روح پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس سے معاشرہ بھی ترقی پزیر یا زوال پزیر ہوتا ہے۔اسی طرح اِس کتاب میں علوم وفنون کے مثبت و منفی اثرات پر مدلل اظہار خیال کیا گیا ہے جسے اسلامی نقطہ نظر سے بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔
ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان اپنے جامع اور پر مغز تبصرے میں لکھتے ہیں کہ حکیم صاحب"خوش اخلاق،خوش اطوار اور خوش گفتار ایسے تھے کہ اُن سے ایک مرتبہ بھی ملنے والا اُنہیں فراموش نہیں کرسکتا تھا۔خوددار ایسے کہ بڑے بڑے افسروں سے عزیز داری ہونے کے باوجود کبھی اُن سے اپنی کوئی حاجت بیان نہیں کی۔سلیقہ و معاملہ فہمی ایسی کہ لوگ اُن سے اپنے معاشرتی معاملات میں مشورہ لینا موجب خیروفلاح سمجھتے تھے۔قرآن پاک سے شغف ایسا تھا کہ ہرروز دور کرتے اور بڑھاپے تک محراب سناتے رہے،اور محراب سنانے میں اتنی احتیاط ملحوظ رکھتے کہ آیات سجدہ کی تلاوت کے وقت اپنی آواز پست کرلیتے تھے تاکہ دوسرے لوگ جو تراویح میں شریک نہیں وہ سجدہ کرنے کے لیے مکلف نہ ہونے پائیں۔
مذکورہ بالا محاسن کا پرتو صراحۃ یا کنایۃ اُن کی اِس تصنیف "تجزیہ حیات" میں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔تجزیہ حیات کا ابتدائیہ حمد ونعت پر مشتمل ہے اور نئے انداز میں ہے۔پھر مخلوقات کی زندگی کا تجزیہ ہے۔موالید ثلاثہ یعنی جمادات،نباتات اور حیوانات کی زندگیوں کی چار اقسام پر بحث ہے۔یعنی ظاہر ادنی ٰ باطن ادنیٰ۔ظاہر اعلیٰ باطن ادنیٰ۔ظاہر ادنیٰ باطن اعلیٰ اور ظاہر اعلیٰ باطن اعلیٰ،کی تفصیل ہے۔اور حیوانات کی زندگی کے ذیل میں موجودہ مسائل کا ذکر بھی ہے۔مثلاً مردہ اور ذبیحہ کا فرق،جھٹکا اور ذبیحہ کا فرق،ذبیحہ پر اللہ کا نام،ذرونیاز اور فاتحہ،ہندو قوم کا ماش کی دال کھانے کا مقصد وغیرہ
پھر انسانی زندگی کا ذکر ہے کہ وہ موالید ثلاثہ سے کیوں افضل ہے اور اجنّہ ،ملائکہ اور ارواح سے کیوں مختلف ہے۔وہ معتدل المزاج،معتدل الافعال اور معتدل النتائج کیوں ہے۔اور اُس کی بھی چار اقسام مذکورہ کے ذیل میں اُس کے مختلف فضائل اور رذائل کا تجزیہ ہے۔اورموجودہ سائنسی دور سے متعلق ضروری مباحث کا مفصل جائزہ ہے۔اس کے بعد اسلام،مزاج اسلام،قبول اسلام،حقوق اللہ ،توحید(اس کی اقسام)ایمانیات وطہارت،تزکیہ وغیرہ پر سیر حاصل بحث ہے۔اور انسان کی اشرف اعلیٰ زندگی (ظاہر اعلیٰ باطن اعلیٰ) کے متعلق فرمایا ہے کہ" یہ زندگی اللہ کی صفت حیات سے اِس قدر قریب ہوتی ہے کہ اِسی زندگی کے حامل انسان کو خدا رسیدہ ۔۔۔وغیرہ کہتے ہیں۔حضرت حکیم ذوقی صاحب اسی زندگی جو زندگی کی معراج کہا ہے۔موضوع کا تمام وکمال تجزیہ یہیں مکمل ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مرحوم نے جس خوبی سے اس تجزیے کی تفصیل فرمائی ہے اور جس انداز سے اس کی تکمیل پر روشنی ڈالی ہے وہ اس مادی اور روحانی زندگی کے لیے بے حد مفید بھی ہے اور سہل الحصول بھی۔"
بقول ناشر کتاب جناب محمد مسعود احمد سہروردی اشرفی صاحب کے کہ اس کتاب نے"نہایت ہی سادہ انداز میں ہماری زندگی کا مقصد ہمیں سمجھا دیا کہ کائنات ہماری ظاہری مادی زندگی کے لیے بنائی گئی ہے اور ہماری ظاہر مادی زندگی ،ہماری روحانی زندگی کے لیے ،اور ہماری روحانی زندگی اللہ تعالیٰ کے لیے ۔حکیم صاحب نے مخلوق کی تمام اقسام کی ظاہری اور باطنی حیات کا تجزیہ کرتے ہوئے سمجھایا کہ روحانی زندگی کا ارتقاء کسے کہتے ہیں اور اس کو کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے اور ہمارے غلط اعمال اس کے ارتقاء میں کیسے رکاوٹ بنتے ہیں۔ہمیں اشرف المخلوقات بننے کی ساری صلاحیتوں کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا گیا ہے ۔اب ہمیں اپنے آپ کو اس اشرفیت کے منصب جلیلہ کے لائق بنانا ہے اور اپنی باطنی روحانی زندگی کو اعلیٰ بنانے کی جانب کوشش کرنئ چاہیے۔یہ کتاب عمومی طور پر ہرانسان اور ہر مسلمان کے لیے ہے لیکن خصوصی طور پر اُن کے لیے جو اپنی زس دنیاوی زندگی کو ظاہر اعلیٰ اور باطن اعلی روحانی بنانے کی جانب پیش قدمی کرنے کے خوہاں ہیں۔یہ کتاب وہ معجون مرکب ہے جو ہمیں حقیقت کی طرف سفر کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔"
کتاب کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ناشر کتاب مزید لکھتے ہیں کہ "کتاب ھذا سے استفادہ نے میری معلومات میں حیرت انگیز اضافہ کیا اور اگر ملک پاکستان میں میرا حکم چلتا یا میری سنی جاتی تو صدر مملکت ،وزیر اعظم،چیف جسٹس،آرمی کے اعلیٰ عہدیداران،سیاسی ومذہبی دانشوران سے لے کر کاروباری حضرات ، ڈاکٹر،وکیل اور عوام الناس تک اس کتاب کا مطالعہ لازمی قرار دلوایتا۔"
ایک سو پچاس صفحات پر محیط یہ کتاب بہت ہی اعلیٰ کاغذ پر خوبصورت سرورق کے ساتھ انٹرنیشنل معیار کے مطابق شائع کی گئی ہے جس کے لیے "گلوبل اسلامک مشن ،یو ایس اے کے جملہ اراکین اور بالخصوص جناب محمد مسعود احمد سہروردی اشرفی مبارکباد اور ستائش کے مستحق ہیں۔ہماری دعا کے رب کریم جملہ وابستگان مشن کی اس سعی کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرماکر توشہ آخرت بنائے۔آمین
محمداحمد ترازی
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M.Ahmed Tarazi

Read More Articles by M.Ahmed Tarazi: 263 Articles with 205760 views »
I m a artical Writer.its is my hoby.. View More
14 May, 2022 Views: 221

Comments

آپ کی رائے