مردے کو غسل دینے کے لیے بھی پانی نہیں، کیا ان حالات میں خودکشی کی اجازت ہے خواتین کا عالم دین سے سوال

 
اس وقت پورا ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ جب سورج کی شعاعوں کی تمازت بہت پریشان کرتی ہے جو چند گھونٹ پانی انسان کو جو فرحت بخشتا ہے اس کا نعم البدل دنیا کی کوئی اور نعمت نہیں ہو سکتی ہے- یہی وجہ ہے کہ پانی کو زندگی کا سب سےاہم جز بھی قرار دیا جاتا ہے-
 
مگر اس وقت گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کچھ علاقے بارشیں نہ ہونے کے سبب شدید ترین قحط سالی کا بھی شکار ہیں اور یہ علاقے ایک جانب تو شدید ترین گرمی کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری جانب قحط سالی کے سبب ہر جانب خشک ریت اڑتی پھر رہی ہے -
 
پاکستان میں قحط سالی کا سامنا کرتے علاقے
اس وقت چولستان اور بلوچستان کے کافی علاقے پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں جن میں سے ایک علاقہ پیر کوہ بھی ہے جہاں پر پانی کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں اور وہاں کی عوام پانی کے قطرے قطرے کو ترس رہی ہے-
 
پیر کوہ کی صورتحال
پیر کوہ بلوچستان کے حوالے سے کچھ ویڈيوز معروف سماجی رہنما جبران ناصر نے شئير کی ہیں جس میں ان کے مطابق پانی کی کمی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں ٹیوب ویل سے بھی اب پانی کے بجائے ہوا اور سیاہ رنگ کا سیال نکل رہا ہے-
 
 
ہیضے کی وبا
پانی کی کمی کے سبب لوگ جراثيم والا آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور گرمی کی شدت کے ساتھ پیاس کی حالت میں وہ ایسا پانی بھی پی رہے ہیں جن کو عام حالات میں کسی صورت بھی پینے کے قابل قرار نہیں دیا جا سکتا ہے- جس کی وجہ سے اس علاقے میں تیزی سے ہیضے کی وبا پھیلنا شروع ہو گئی ہے جس سے لوگوں کی اموات کا بھی سلسلہ شروع ہو چکا ہے -
 
مویشیوں کی اموات
کچھ ویڈيوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے مویشی بھی اس بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ ان کے پورے پورے ریوڑ قطرہ قطرہ پانی کو ترستے ہوۓ موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ لوگوں کے پاس اپنے پینے کے لیے پانی نہیں ہے تو اس وجہ سے وہ ان مویشیوں کی جان بچانے سے بھی قاصر ہیں-
یاد رہے کہ اس علاقے کے لوگوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ان کے مویشی ہی ہیں
 
عالم دین سے خواتین کا سوال
ایک ماں کے لیے اس سے بڑا امتحان کیا ہوگا کہ اس کے سامنے اس کا بچہ پیاس کی شدت سے بلک بلک کر رو رہا ہوں اور اس کے پاس اس کے آنسوؤں کے علاوہ بچے کی پیاس بجھانے کے لیے دو گھونٹ پانی نہ ہو-
 
ایسا بچہ اگر ماں کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ جائے تو اس صورتحال میں ماں کیا کر سکتی ہے پیر کوہ سے ایسے ہی ایک عالم دین کی ویڈيو بھی سامنے آئی ہے- جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے باہر نہ نکلتا لیکن وہ مجبور ہے کہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اس کے پاس مائيں آکر سوال کر رہی ہیں کہ اگر پیاس کی صورتحال اتنی خراب ہو اور ماں اپنے بچے کو دو گھونٹ پانی نہ دے سکے تو کیا اس صورت میں وہ خود کشی کر سکتی ہے؟
 
 
مردے کے غسل کے لیے ایک مگ پانی
جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے ان علاقوں میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی ہے جس سے سب سے زيادہ چھوٹے بچے متاثر ہوئے ہیں- اور علاج کی غیر مناسب سہولیات کے سبب ان کی موت کی شرح بھی بہت زیادہ ہے تو اس حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو کے مطابق اس علاقے کی ایک بچی ماہ نور کا جب انتقال ہوا تو اس کے لواحقین اس کو دفن کرنے کے لیے غسل دینے سے بھی عاجز نظر آئے-
 
وہ ایک ایک دورازے کو کھٹکھٹا کر ایک مگ پانی کا سوال کرتے رہے تاکہ دفنانے سے قبل اس کو غسل دے سکیں-
 
 
حکومت کیا کر سکتی ہے
پیر کوہ کی عوام کا اس وقت مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ان کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے اور نہ صرف ان کو پینے کا پانی فراہم کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی جائيں- اور ان کے علاقے کی بہتری کے لیے بھی حکام آگے بڑھ کر اقدامات کریں-
 
اس علاقے کے ایم پی اے اور ایم ایں ایز کو بھی چاہیے کہ جن لوگوں کے ووٹوں سے اسمبلی کے ٹھنڈے کمروں میں جاکر بیٹھنے کے قابل ہوئے ان کو نہ بھولیں اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
15 May, 2022 Views: 1408

Comments

آپ کی رائے