ہمیں ٹھیلے پر کھانا کھانے میں شرم کیوں آتی ہے؟ انوکھے خریدار کی کہانی جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا

 
عاصم نے ویب ڈیزائننگ کورس کیا تھا۔ اپنے مطلب کی نوکری نہ ملنے کے باعث فری لانس ویب ڈیزائننگ کر لیتا تھا ۔ اسے کوئی چھوٹا موٹا کام مل ہی جاتا تھا وہ نوکری کے بجائے بزنس کرنا چاہتا تھا ۔ اس مقصد کے لئے وہ تگ و دو میں لگا ہوا تھا ۔ ایک دن اس کے ساتھ عجیب واقعہ ہوا جس نے اس کا سوچنے کا انداز ہی بدل دیا آخر اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا؟
 
 ایک دن اسے ایک خاتون کی کال آئی کال کرنے والی کو 5 کھنٹوں کے اندر ارجنٹ ویب پیج ڈیزائن کروانا تھا۔ وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی تھی، عاصم نے 30،000 کی ڈیمانڈ کے ساتھ کام ہو جانے کا کہا اسے لگا کہ وہ عورت اسے پاگل سمجھ کر فون بند کر دے گی لیکن یہ کیا وہ تو فورا مان گئی۔ اس نے 4 گھنٹوں میں ہونے والا کام 3 گھنٹوں میں کر کے ان خاتون کو بھیج دیا۔ اب وہ اپنی رقم کی ادائیگی کا انتظار کر رہا تھا۔ رقم ٹرانسفر کا میسج نہیں آیا۔ اگلے دن رات کو اس نے ان خاتون کو فون کیا کہ اس کو رقم نہیں ملی تو وہ بہت شرمندہ ہوئی اور کہا اب دیر سے پیمنٹ کی وجہ سے آپکو آپکی ڈیمانڈ سے زیادہ رقم ملے گی۔ فون بند کرتے ہی اس کے بینک سے 60000 کی رقم کریڈٹ ہونے کا میسج آیا تو وہ تو جیسے ہواؤں میں اڑنا شروع ہو گیا۔
 
اس نے اپنے دوست علی کو بتایا علی کیونکہ مارکیٹنگ کا کام کرتا تھا اس نے بتایا یقیناً اس ویب سائٹ کو ڈیزائن کرنے کے کم ازکم ایک یا ڈیڑھ لاکھ ہوں گے اس عورت نے اسی لئے رقم اسے بڑھا کر دی کیونکہ اس کو تو ہر حال میں فائدہ ہوا۔ ان کے گھر کے قریب دو بھائیوں نے اپنا چھوٹا سا کھوکھا کھولا تھا وہاں انہوں نے کھانا کھایا اور ٹپ کے طور پر بل سے ڈبل پیسے دئے۔ وہ ان لڑکوں کے لئے ایک انوکھا خریدار بننا چاہتا تھا جس طرح فون والی خاتون اس کے لئے انوکھی خریدار تھی وہ یہ نیکی جاری رکھنا چاہتا تھا۔
 
 
اگر مندرجہ بالا واقعہ کو نظر میں رکھتے چند لمحوں کے لیے اپنا تجزیہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم اسٹیٹس کے مارے لوگ بنتے جا رہے ہیں ۔ برانڈ کے نام پر ہزاروں خرچ کردیں گے لیکن ایک غبارے والے سے بھاؤ تاؤ کریں گے ۔ ہم ہزاروں روپے کسی ریسٹورنٹ میں اڑاںے پر آسانی سے تیار ہوجاتے ہیں لیکن کسی ٹھیلے پر کھڑے ہو کر کھانا کھانے میں ہمیں شرم آتی ہے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے-ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے لوکل لوگوں کے کاروبار کو سپورٹ کریں۔ برانڈ تو امیروں کے لئے ہوتے ہیں جن کے پاس پیسوں کی روانی ہو۔
 
ہمارے ہاں مڈل کلاس کے لوگ بھی امیر طبقہ کی تقلید میں اپنا نقصان کر رہے ہیں باہر کی دنیا میں کسی کو اس چیز سے مطلب نہیں ہوتا کہ کس نے کیا پہنا ہوا ہے اور کیا کھاتا ہے اس کے برعکس ہمارے یہاں نمودو نمائش کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے ہم لوکل چیزوں کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں آخر لوکل لوگ اپنے کاروبار کو کس طرح بڑھائیں یہی وجہ ہے کہ یہاں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ پیسہ رواں رہنا چاہیے ہم کماتے ہیں تو ذخیرہ اندوزی کے بجائے اس کو آگے بڑھانا چاہیئے نئے کاروبار شروع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔
 
 
اگر وہ ایماندار ہیں اور ان کا کام بھی اچھا ہے تو ان کے کام کی تعریفیں آگے پہنچائیں تاکہ سوسائٹی میں نئے لوگ آگے آئیں اور دولت ہر طبقے میں رواں رہے۔ ہماری سوسائٹی میں ٹیلنٹ کی کمی نہی ۔ کیوں نہ نئے آنے والوں کو جگہ دی جائے کیونکہ کاروبار کا اصول ہی یہ ہے کہ اپنے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نئی اور لوکل چیزیں سوسائٹی میں متعارف کروائی جائیں ۔ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
 
 سوچیے گا ضرور...
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
23 May, 2022 Views: 2465

Comments

آپ کی رائے