بچوں کی زندگی میں زہر نہ گھولیں، میاں بیوی کی علیحدگی تو ہو گئی مگر بچوں کو کیسے پالیں؟

 
شادی انسانی کی زندگی کا وہ اہم مرحلہ ہوتا ہے جس کی کامیابی کی خواہش ہر ایک کے دل میں ہوتی ہے مگر ہر شادی شدہ جوڑا اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا ہے کہ وہ جیون ساتھی کے ساتھ تاعمر ایک خوشگوار زندگی گزار سکے- کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے درمیان کا باہمی تعلق ٹکراؤ کا شکار ہو کر ایسے نہج پر پہنچ جاتا ہے کہ ان کو بلاآخر راہیں جدا کرنے کا ناپسندیدہ فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے-
 
طلاق کے بعد بچوں کا مستقبل
عام طور پر جب ماں باپ کے درمیان طلاق ہو جاتی ہے تو بچے دو گھروں کے درمیان بٹ جاتے ہیں بچے اگر چھوٹے ہوں تو ان کی کسٹڈی عدالت کے مطابق ماں کو مل جاتی ہے- مگر اس کے ساتھ ساتھ عدالت بچوں کو باپ سے ملنے سے بھی نہیں روکتی ہے اور ماں کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ باپ سے بھی بچوں کو ملواتی رہے-
 
ایک برا شوہر ایک اچھا باپ بھی ہو سکتا ہے
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو شخص اچھا شوہر نہیں بن پایا وہ اچھا باپ بھی نہیں بن سکتا ہے یہ ایک خام خیال ہے کیوں کہ ضروری نہیں ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان تعلقات اچھے نہ ہوں اور شوہر غیر ذمہ دار ہو تو وہ ایک خراب باپ ہوگا-
 
 
اپنے اندر کا زہر بچوں کو نہ منتقل کریں
عام طور پر طلاق کے بعد جب بچے باپ سے ملتے ہیں تو وہ ان کی ماں کی برائياں کر کے بچوں کو ماں سے بد دل کرنے کی کوشش کرتا ہے جب کہ ماں جس کے پاس معصوم چھوٹے بچوں کی کسٹڈی ہوتی ہے وہ صبح شام ان کے باپ کے خلاف شکائيتیں کر کر کے بچوں کے اندر ان کے باپ کے خلاف زہر بھرتی رہتی ہے-
 
جس طرح ماں اور باپ کے اندر بچوں کی محبت ایک فطری جزبہ ہوتا ہے اسی طرح بچوں کے اندر بھی اپنے ماں باپ سے محبت فطری طور پر موجود ہوتی ہے- مگر اس طرح کے رویۓ کے سبب اس کے دل میں سے ان دونوں رشتوں کا احترام رخصت ہو جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر بچے کی شخصیت میں خود غرضی کا عنصر اجاگر ہو جاتا ہے-
 
وقت سے پہلے بڑا نہ بنائيں
جس طرح ایک معصوم بچہ ابتدائی طور پر نرم غذا ہی ہضم کر سکتا ہے اور اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا ہے کہ وہ ثقیل غذا کو ہضم کر پائے- اسی طرح سے کچھ جذبات بھی ایسے ہوتے ہیں جن کی سمجھ بوجھ بچے کو عمر کے ساتھ ہی آئے تو بہتر ہے وقت سے پہلے ان جذبات سے آگاہی بچے کی پرورش کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں-
 
یہی وجہ ہے کہ ایسے گھرانوں کے بچے حساس ہونے کے ساتھ ساتھ اکثر ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور معاشرے کے لیے مس فٹ ہو جاتے ہیں-
 
 
عورتیں مردوں سے زيادہ مضبوط ہوتی ہیں
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جسمانی طاقت کے اعتبار سے مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے تو اسی طرح جزباتی طور پر عورتیں مردوں کے مقابلے میں زيادہ مضبوط ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ابتدائي عمر میں بچوں کی تربیت کی بنیادی ذمہ داری ماں کو سونپی جاتی ہے کیوں کہ وہ زيادہ برداشت سے بچوں کی تربیت کر سکتی ہے-
 
اسی وجہ سے طلاق کے بعد بچوں کی جذباتی تربیت کی بنیادی ذمہ داری بھی ماں کے ذمے ہوتی ہے لہٰذا اگر اپنے بچوں سے محبت کرتی ہیں تو ایسے وقت میں بچوں کی نفسیاتی تربیت کے لیے اپنے سابقہ شوہر کی برائی بچوں کے سامنے کرنے سے گریز کریں-
 
آج کل کے معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کے بعد بچوں کی تربیت ایک اہم فریضہ ہے اس کے حوالے سے مکمل آگاہی کے فقدان کے سبب اکثر گھرانوں میں ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جس کی تربیت پر اگر توجہ نہ دی گئی تو وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
24 May, 2022 Views: 866

Comments

آپ کی رائے