سجدہ خاص

زینب بیٹی بہت دنوں کے بعد اپنے خاوند اور تین سالہ بیٹے کے ساتھ ملنے آئی تھی آکر کہنے لگی انکل میں اپنی فیملی کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کر کے واپس آئی ہوں تو آپ کے تبرکات لے کر آپ کو سلام کرنے آگئی بہت دیر تک مکہ مدینہ کے روح پرور واقعات مشاہدات کا تذکرہ کرنے کے بعد جب واپس جانے لگی تو بولی انکل دعا کیجیے گا میرا خاتمہ ایمان پر ہو۔اﷲ تعالی ابا جان کی طرح مجھے بھی موت بھی نیک دے زینب یہ بات کہہ کر چلی گئی تو مجھے بہت سال پہلے کی ننھی منی زینب یاد آگئی ماضی کی چلمن سے یادوں کے دھند لکے چھٹنے لگے جب زینب اپنے والد صاحب میاں صاحب جن کو لاہور پیار سے حاجی صاحب کہا کرتے تھے کے ساتھ آتی تھی حاجی صاحب پہلی دفعہ مُجھ فقیر سے ملنے آئے تو بولے پروفیسر صاحب اﷲ کا دیا سب کچھ ہے میں اﷲ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہوں تو عمرخضر چاہیے اﷲ کے انعامات میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں جب حاجی صاحب اﷲ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کر رہے تھے مجھے بہت اچھا لگا میرے پاس ارب پتی اعلی سرکاری آفیسر بڑے وڈیرے زمیندار اعلی عدلیہ کے جج صاحبان حتی کہ زندگی کے ہر شعبے کے امراء بڑے صاحب اقتدار بھی جب آتے ہیں تو اﷲ کی موجودہ نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے جو تھوڑی بہت کمی یا آزمائش ہے اُس پر روتے پیٹتے نظر آتے ہیں اﷲ تعالیٰ نے بچپن سے جوانی بڑھاپے تک جو انعامات کی بارش کی ہے اُس ادراک نہیں بلکہ جو تھوڑی سی وقتی پریشانی یا الجھن ہے اُس پر شکوے شکایتوں کے رجسٹر کھول کر بیٹھ جاتے ہیں پروفیسر صاحب خوب عبادت سخاوت کر تا ہوں لوگوں کے مہینے بھی لگائے ہوئے ہیں مدرسوں میں بھی ماہانہ بنیاد پر پیسے دیتا ہوں پھر بھی یہ پریشانی مشکل کیوں آن پڑی پیرو ں فقیروں امام مسجد کی بھی خدمت کر تا ہوں یعنی اگر اﷲ نے ساری زندگی جو منہ سے نکالا وہ پورا کیا وہ یاد نہیں لیکن اگر زندگی کی کسی سٹیج پر تھوڑی بہت آزمائش آگئی تو جیسے مصیبتوں کے پہاڑ آن پڑے ہوں زیادہ تر اکثریت چھوٹے موٹے عارضی مسئلوں پر آئیں بھرتے شکوے کرتے نظر آتے ہیں شکوؤں کے اِس ہجوم میں جب بھی کوئی انسان آکر صبر شکر اﷲ کی موجود نعمتوں کا اقرار شکر ادا کر تا ہے تو لگتا ہے شدید حبس میں ہوا کا تازہ ٹھنڈ جھونکا آیا جس سے روح معطر اور سرشار ہو گئی اِسی طرح زینب کے بابا جان حاجی صاحب آکر پہلے خوب اﷲ کی نعمتوں کا اقرار شکر کر تے پھر کہتے تھوڑی سی آزمائش آگئی ہے اِس میں بھی سوہنے رب کی کوئی حکمت ہو گی آپ دعا کریں حاجی صاحب کی سات بیٹیاں تھیں دو کی شادی ہو گئی تھی اب مزید دو بیٹیاں جوان تھیں جن کی شادی کا وقت آیا تو حاجی صاحب نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئیے کیونکہ حاجی صاحب مجھے بتا چکے تھے کہ بچیاں یتیم ہیں اِن کی ماں نہیں ہے میں ہی ماں بھی ہوں میں جب بچیوں کی ماں کی ذکر کرتا تو حاجی صاحب بات کو ٹال جاتے اِس لیے میں اب دانستہ طور پر بچیوں کی ماں کا ذکر نہیں کرتا تھا حاجی صاحب کی کل کائنات یہ سات بیٹیاں تھیں جن کے لیے حاجی صاحب زندہ تھے خاندانی کام آڑھت تھا چند دوکانیں اپنا گھر تھا اتنی کمائی ہو جاتی کہ گھر کے معاملات احسن طریقے سے چل جاتے بلکہ بہت سارے پیسے بچ جاتے حاجی صاحب ہر سال حج یا عمرے پر ضرور جاتے جہاں تک ممکن ہو تا یتیموں مسکینوں کی مدد بھی خاموشی سے کرتے حاجی صاحب کی اِن خوبیوں کی وجہ سے میں اُن کی بہت قدر کرتا تھا وہ جب بھی آتے پیار احترام سے ملتا حاجی صاحب نیک انسان تھے نماز روزے کے پابند سخاوت دوسروں کی مدد پر ہر وقت تیار دنیاوی کوئی عیب نہیں تھا حاجی صاحب شاندار مثالی اسلامی زندگی گزار رہے تھے اِس کے باوجود وہ ہر ملاقات پر یہ ضرور کہتے پروفیسر صاحب دعا کریں میرا خاتمہ ایمان پر ہو تو میں کہتا حاجی صاحب آپ ایک مکمل دینی بھائی ہیں آپ کو یقینا اﷲ تعالی معاف کرے گا آپ پریشان نہ ہوا کریں تو حاجی صاحب آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہتے موت پہلی گھاٹی ہے اگر پہلی گھاٹی خاتمہ ایمان پر ہوا موت اچھی نیک آئی تو امید ہے خیر اور روز محشر کے معاملات بھی ٹھیک ہوں گے لیکن اگر خاتمہ ایمان پر نہ ہوا تو مسئلہ بہت خراب ہے وقت کا بے راس گھوڑا دوڑتا رہا سالوں پر سال گزرتے چلے گئے آخر کار حاجی صاحب کی ساتوں بیٹیاں شادی کر کے پردیسن ہو گئیں زینب بھی جوان ہو ئی توحاجی صاحب نے خاندان میں ہی اچھا لڑکا دیکھ کر اُس کو گھر داماد بنا کر گھر میں رکھ لیا کاروبار کے معاملات زینب کے میاں کے سپرد کر دئیے اب کبھی کبھار میرے پاس آجاتے عمرے پر جب موقع ملتا کمزوری بڑھاپے کی وجہ سے معاشرتی سرگرمیوں کو ترک کر دیا اب زیادہ وقت مسجد میں ہی گزارتے ظہر کی نماز کے لیے مسجد جاتے تو اکثر عشاء کی نماز کے بعد ہی گھر آتے پھر اچانک ایک دن زینب کا آہوں سسکیوں میں روتے ہوئے فون آیا انکل میرے ابو آپ کے حاجی صاحب اب اِس دنیا میں نہیں رہے تین دن پہلے اُن کا انتقال ہو گیا میرے دل میں برسوں سے ایک سوال پھڑ پھڑا رہا تھا میں نے فوری پوچھا بیٹی حاجی صاحب کی موت کیسے واقع ہو ئی تو زینب گلو گیر لیجے میں بولی وہ فجر کی نماز میں سجدے میں تھے کہ سجدے کی حالت میں ہی اﷲ کے پاس چلے گئے اُن کی برسوں کی دعا قبول ہو ئی جو وہ سب سے آپ سے خانہ کعبہ جا کر خاتمہ بالخیر کی دعائیں کرتے اور کراتے تھے تو میں بولا بیٹی و ہ حاجی نمازی تھے سخاوت کرتے تھے ان کی یہ خواہش تو پوری ہونی تھی تو زینب بولی یہ نیکیاں تو وہ کرتے ہی تھے اُن کی اصل نیکی کوئی اور ہے جو راز ہے وہ میں آکر آپ کو بتاؤں گی زینب کا فون بند ہو گیا تو میری حیرتوں کے دریچے کھل گئے کہ حاجی صاحب اور کونسی بڑی نیکی کرتے تھے جس کا مجھے نہیں پتہ اور وہ خاص نیکی ایسی قبل ہوئی کہ حاجی صاحب کو سجدے میں موت نصیب ہوئی جو نیک لوگوں کی نشانی ہے اب شدت سے انتظار میں تھا کہ زینب کب آکر بتائے گی اُس راز سے پردہ اٹھائے گی کہ حاجی صاحب کا خاتمہ بالخیر ہوا پھر انتظار ختم ہوا چند دن بعد زینب میرے پاس آئی تو ہم دیر تک حاجی صاحب کی باتیں اور نیکیاں یاد کرتے رہے پھر بولی انکل آج میں آپ کو وہ نیکی بتاتی ہوں جو باباجان کو سجدے میں موت نصیب ہوئی وہ رازیہ ہے کہ ہم حاجی صاحب کی سگی بیٹیاں نہیں ہیں حاجی صاحب نے تو ساری زندگی شادی ہی نہیں کی میں حاجی صاحب کے بھائی کی بیٹی ہوں میرے والدین کا روڈ حادثے میں انتقال ہوا تو ہم دو بہنیں تھیں حاجی صاحب نے ہمیں اپنی بیٹیاں بنا لیا اور وعدہ لیا وہ شادی نہیں کریں گے خاندان میں پانچ اور یتیم بیٹیاں تھیں ان کو بھی گھر لے آئے اب انہوں نے ساری زندگی پرائی بیٹیوں کو سگی اولاد کی طرح پالا شادیاں کیں یہ وہ نیکی تھی جو انہیں سجدے میں موت نصیب ہوئی زینب حاجی صاحب کی بہت ساری باتیں کر کے چلی گئی تو مجھے حاجی صاحب کا بار بار خاتمہ خیر کا سوال یاد آنے لگا کہ اﷲ تعالی کو اگرمنانا ہو تو انسان کی خدمت سے بہتر کوئی عمل نہیں ۔
 

Prof Abdullah Bhatti
About the Author: Prof Abdullah Bhatti Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 705 Articles with 465611 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.