معصومیت (ہماری ویب پر شائع شدہ سو لفظوں کی کہانیوں کا مجموعہ)

ماں کی لاڈلی

آدھی رات کا وقت تھا۔ ۔ ٹرین چیختی چنگاڑھتی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ چھ سیٹوں کے اس کْوپے میں صرف دو نفْوس تھے۔ سونے کے زیورات سے لدی پھْندی ایک نوجوان خاتون اور سامنے والی سیٹ پر بیٹھا بڑی بڑی مونچھوں والا ایک مرد جو بار بار اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ خاتون کے چہرے پر غصے ادر ناگواری کے شدید اثرات تھے۔
تھوڑی دیر بعد وہ مرد اپنی سیٹ سے اٹھا اور اس خاتون کے پاس بیٹھ گیا۔ “اچھا ناراضگی چھوڑو۔ ایک ہفتے کے بجائے تم دو ہفتے اپنی ماں کے گھر رہ لینا”۔
____________
ایک بے چارہ حالات کا مارا

پیاری سونو،
یہ خط میں بہت بوجھل دل سے لکھ رہا ہوں۔ جب سے میری نوکری لگی ہے امی میری شادی پر بضد ہیں۔ میں ان سے کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ شادی کروں گا تو صرف تم سے مگر وہ کہتی ہیں کہ میں ان کی بہن کی چھوٹی بیٹی سے شادی کروں۔ ان کی مسلسل ضد کے آگے اب میں نے بھی ہار مان لی ہے۔ تمہارے ساتھ ایک طویل عرصہ گزرا ہے۔ یہ خوشگوار لمحات اور باتیں زندگی بھر میرا سرمایہ رہیں گی۔ اس ایس ایم ایس کو میرا آخری پیغام سمجھنا۔
فقط بدنصیب گلّو
____________
مکافات عمل

شادی کے بعد اسے پہلی تنخواہ ملی۔ اس نے خوشبو دار نوٹ بیوی کے ہاتھوں میں دئیے۔ بیوی کی آنکھیں محبت اور خوشی سے چمکنے لگیں۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی ساس کے پاس آئ۔ “ماں جی آج ان کو تنخواہ ملی ہے، یہ لیجیے”۔
ماں جی بولیں۔ “بہو۔ تمھارے سسر نے بھی پہلی تنخواہ میرے ہاتھ پر لا کر رکھی تھی۔ میں نے بھی اسے اپنی ساس کو دینا چاہا۔ انہوں نے جو کہا تھا وہ ہی اب میں تم سے کہوں گی “میری بیٹی ان پیسوں کو اپنے پاس رکھو، خدا تمہارے سسر کو سلامت رکھے”۔
____________
دیے سے دیا جلتا ہے

موسلا دھار بارش اچانک ہی شروع ہوگئی تھی۔ بھیگتے ہوۓ لوگوں نے دیکھا چار نو عمر لڑکے درخت کے نیچے سائیکل کے پنکچروں کی دکان پر کھڑے لوگوں میں چھتریاں تقسیم کر رہے تھے اور ایک بڑے سے کارڈ بورڈ پر انہوں نے لکھ کر لٹکایا ہوا تھا:

“بارش ختم ہونے کے بعد پہلی فرصت میں چھتری اسی جگہ واپس کردیں”

انہوں نے یہ کام سو چھتریوں سے شروع کیا تھا اور انہیں اپنی پاکٹ منی سے خریدا تھا۔ اگلے دن جب انہوں نے واپس آئ ہوئی چھتریوں کی گنتی کی تو ان کی تعداد سو سے کہیں زیادہ تھی۔
____________

میں بھی بدل گئی ہوں

معمولی سی جھڑپ تھی مگر وہ غصے سے لال پیلی ہوگئی۔ پل کے پل میں بیگ میں سامان ٹھونسا اور زمین پر پاؤں مار کر بولی “میں امی کے گھر جا رہی ہوں”۔
اس نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں، موبائل میں ہی لگا لگا بولا “جاؤ”۔
اسے بڑی حیرت ہوئی۔ “آپ مجھے روکیں گے نہیں؟”۔
“نہیں”۔
“کیوں؟”۔
“نہیں بتاؤں گا”۔
“پہلے تو آپ اس طرح نہیں کرتے تھے”۔
“اب میں پہلے جیسا نہیں رہا۔ بدل گیا ہوں”۔
“ٹھیک ہے میں بھی اب کہیں نہیں جا رہی۔ آپ بدل گئے ہیں تو مجھے بھی خود کو بدلنا پڑے گا”۔
____________
معصومیت

“تم ٹائی باندھ کر نہیں گئے تھے، مس کیا کہہ رہی تھیں ؟”۔ پانچ سالہ حامد کی امی نے پوچھا۔
حامد ذہن پر کچھ زور ڈالتے ہوۓ بولا “مس کیا کہہ رہی تھیں؟........ ہاں مس کہہ رہی تھیں تمہارے پاپا بہت اچھے ہیں۔ وہ میرا کتنا خیال رکھتے ہیں”۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ ایک دم سے پھٹ پڑی۔ “وہ تم سے یہ کیوں کہہ رہی تھیں؟”۔ حامد سہم گیا۔ بولا “امی یہ تو وہ اپنے بیٹے سے کہہ رہی تھیں، وہ ان کو بہت تنگ کرتا ہے۔ میں تو ان کے قریب بیٹھا ہوا تھا”۔
____________
اپنے اپنے ہوتے ہیں

وہ تصویر لٹکانے کے لیے دیوار میں کیل ٹھونک رہا تھا۔ اس کا چھ سال کا بیٹا اس کے قریب کھڑا تھا۔ ایک دفعہ ہتھوڑی بجاے کیل کے اس کے انگوٹھے پر پڑ گئی، وہ تکلیف سے کراہا اور ہتھوڑی زمین پر پھینک دی۔
اس کے بیٹے نے جلدی سے اس کے انگوٹھے پر پھونکیں ماریں، ہتھوڑی کو لات مار کر دور پھینکا اور پھر اس کے قریب جا کر بولا “تم بہت گندی ہتھوڑی ہو”۔
اس کے باپ کو ہنسی آگئی۔ “بیٹا غلطی میری تھی”۔
بیٹا بولا “نہیں۔ وہ آپ کے انگوٹھے پر لگی تھی، غلطی اسی کی تھی”۔
____________
ایسے بھی لوگ ہیں زمانے میں

بیٹی کی شادی کی بات پکّی ہوئی تو جہیز اور دوسرے اخراجات کی فکر سر پر سوار ہو گئی۔ شام کو اچانک لڑکے کے ماں باپ آگئے۔ لڑکے کی ماں نے کہا کہ جہیز کے بارے میں بات کرنے آئے ہیں۔ اس بات نے سب کو پریشان کردیا۔
لڑکے کا باپ خاموش تھا۔ ماں بولی۔ “بہن ہم غریب لوگ ہیں، ساٹھ گز کے ایک مکان میں رہتے ہیں، کل ملا کر دو کمرے ہیں اور وہ بھی سامان سے بھرے ہوےٴ۔ ہمیں صرف لڑکی چاہیے، فرنیچر اور دوسرا سامان بالکل بھی نہیں۔ امید ہے آپ ہماری بات مان لیں گے”۔
____________


یقین

ان کی محبّت کی شادی تھی۔ اس کی بیوی نہایت اچھی تھی۔ وہ اکثر یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا تھا کہ اگر اس کی شادی کسی دوسری عورت سے ہوجاتی تو وہ نہ جانے کیسی ہوتی۔ وہ بستر پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا مگر دھیان ٹی وی کی طرف نہیں تھا، ذہن میں یہ ہی خدشہ تھا۔
اس نے بیوی سے کہا “اگر تمہاری شادی مجھ سے نہ ہوتی تو تم کیا کرتیں”۔
اس کی بیوی نے فوراً کہا “میرے ذہن میں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا تھا کہ آپ سے شادی نہیں ہو سکے گی”۔
____________
سچ بتاؤں یا جھوٹ

تھوڑی دیر پہلے اس کے شوہر کا آفس سے فون آیا تھا – اس نے پوچھا کہ آج کیا پکایا ہے اس کے بعد کہا کہ ہنی کو جلدی سلا دینا۔ ہنی ان کا پانچ چھ سال کا بیٹا تھا۔
وہ اسے لے کر لیٹی اور تھپک کر سلانے لگی۔ ہنی غنودگی میں تھا ۔ اسے کچھ یاد آیا تو پوچھا “آپ مجھ سے زیادہ محبّت کرتی ہیں یا پاپا سے”۔
اس کی امی نے کہا “سچ بتاؤں یا جھوٹ؟”
ہنی کی آنکھیں بالکل بند ہونے لگی تھیں، بولا “جھوٹ بتائیں۔ اگر سچ بتائیں گی تو پاپا کا نام لیں گی”۔
____________


نفسیاتی گرہ

شوہر نے اس سےبالوں کی دو چوٹیاں باندھنے کو کہا تھا ان میں وہ اس کو اچھی لگتی تھی مگر وہ بھول گئی۔ وہ منہ پھْلا کر بیٹھ گیا۔
ساٹھ سال پہلے ان کی شادی کے موقع پر اس کی ساس نے کہا تھا کہ یہ جب بھی غصہ کرے اسے تل کے لڈو دے دیا کرنا۔ ایک ہی لڈو بچا تھا۔ وہ لے آئ۔
لڈو دیکھ کر شوہر خوش ہوگیا۔ اس نے لڈو کھا لیا پھر بولا۔ “سوری”۔
بیوی شکوہ بھرے انداز میں بولی “شام کو مارکیٹ سے زیادہ لڈو لیں گے، آج کل بہت جلد ختم ہوجاتے ہیں”۔
____________
خاندانی لڑکا

وہ غریب تھا۔ لڑکی کی ماں نے رشتے سے انکار کردیا۔ اس انکار پر بیٹی نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ ماں اسے منانے گئی۔ کمرہ خالی تھا کہ اتنے میں میز پر پڑے بیٹی کے موبائل پر میسج کی بیپ بجی۔
ماں نے لپک کر اسے اٹھایا۔ لڑکے کا میسج تھا “ہر گز نہیں۔ جانتی ہو کورٹ میرج کا مطلب ہوتا ہے لڑکی گھر سے بھاگ گئی ہے۔ یہ داغ زندگی بھر نہیں دْھلتا۔ مجھے تمھارے گھر والوں کی عزت زیادہ عزیز ہے”۔
تھوڑی دیر بعد وہ آئ تو ماں نے کہا “بیٹی۔ لڑکا خاندانی ہے۔ مجھے رشتہ منظور ہے”۔
____________

دو ہاتھ آگے

“یہ میرا مشاہدہ ہے۔ جس کسی کی ساس بدزبان اور بے مروت ہو۔ اس کا داماد ہمیشہ دب کر رہتا ہے”۔
“تمہارا مشاہدہ سہی مگر میرا تجربہ ہے۔ میں نے خود ساس سے اشارے کنایوں میں طعنے سنے ہیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں کوئی تلخ کلامی نہ ہو جائے ، میں تو خاموش ہی بیٹھا رہتا ہوں۔ اسی کو تم دب کر رہنا کہہ رہے ہو”۔
“نہیں۔ ایسی ساس کے داماد کو اپنی بیوی سے دب کر رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ اْس ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے اپنی ماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہوتی ہے”۔
____________
بیگم یہ ہے ہی چیز ایسی

بچے ماں باپ کی بھی نہیں سن رہے تھے۔ دادی ماں نے فیصلہ کیا کہ اب یہ مسلہ ان کے دادا ابّو کے سامنے رکھیں گی جن سے دادی ماں کے علاوہ پورا گھر ڈرتا تھا۔
رات کو وہ انھیں بچوں کے کمرے میں لے گئیں۔ تمام بچے اپنے قد سے بڑے موبائل کھولے بیٹھے تھے۔
“انہیں سمجھائیے ہر وقت موبائلوں میں لگے رہتے ہیں”۔
انھیں دیکھ کر بچے سہم گئے اور موبائلوں کو چھپانے لگے۔
دادا ابّو بچوں کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ جیب سے موبائل نکالا اور بولے “بیگم یہ ہے ہی چیز ایسی ان کو کیا سمجھائیں”۔
____________

تلخ حقیقت

فیکٹری میں چھٹی ہو گئی تھی۔ واش بیسن پر ایک مزدور نے کالک اور تیل سے ملے ہاتھوں پر صابن لگاتے ہوۓ کھڑکی سے باہر دیکھا۔
چھوٹے چھوٹے بچے کوڑے دان میں سے چیزیں چن رہے تھے۔ اس نے برابر میں منہ دھوتے ہوےٴ دوست سے کہا “سارے بچے ایک سے ہوتے ہیں مگر ان کو دیکھو”۔
دوست کو اپنا ماضی اور کام چور باپ یاد آگیا جو پیسوں کے لیے اس کی ماں کو مارتا تھا۔ تلخی سے بولا۔ “بچے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں باپ پالتا ہے اور دوسرے وہ جو باپ کو پالتے ہیں”۔
____________
ایسا ہی ہوتا ہے

عمررسیدہ مرد نے لان میں رکھی کرسی اٹھا کر دور پھینکی اور گرج کر بولا۔ “ میں یہاں آلو لگاؤں گا”۔
“یہاں صرف شکرقندی لگے گی”۔ عورت بھی چنچنا کر چلائی اور میز الٹ دی۔ چائے کے برتن گھاس پر گر گئے۔
مرد نے غصے سے اس کا بازو پکڑا اور گھسیٹتا ہوا کوٹھی کے اندر لے گیا۔
اگلے روز میں نے دیکھا وہ ہی مرد کدال سے زمین نرم کر رہا ہے۔ عورت کرسی پر بیٹھی چائے بنا رہی تھی۔
میں نے چوکیدار سے پوچھا۔ “صاحب کیا کررہے ہیں؟”۔
اس نے جواب دیا “شکرقندی کے بیج لگا رہے ہیں”۔
____________

اسکول ٹیچر

تمہارے ماموں ڈنمارک سے اپنی بیٹی کے ہمراہ آئے ہوےٴ ہیں۔ وہ تمھارے متعلق پوچھ رہے تھے۔ میں نے بتا دیا کہ ڈگری ہولڈر ہو اور مہینوں سے نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہو۔ وہ یہ سن کر بہت افسوس کررہے تھے۔ ان کی بیٹی وہیں ڈنمارک میں سیٹ ہے اور ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور چلا رہی ہے۔ انہوں نے تم سے بیٹی کے رشتے کا کہا ہے۔ کہہ رہے تھے کہ اگر ہاں کردو گے تو تمھاری زندگی بن جائے گی۔ سوچ کر بتاؤ، ہاں یا پھر وہ ہی اسکول ٹیچر؟”
“جی وہ ہی اسکول ٹیچر”۔
____________
کلچر

اس کا چھوٹا بیٹا بولا “میرے دوستوں کی امّیاں بہت اچھی ہیں”۔
“سب امّیاں اچھی ہوتی ہیں”۔ اس نے خفگی سے کہا۔ “اگر میں اچھی نہیں ہوں تو پھر تم وہاں جا کر رہنے لگو”۔
وہ خاموش ہوگیا۔ رات کو اس نے پوچھا “تم دوستوں کی امیوں کے بارے ایسا کیوں کہہ رہے تھے؟”۔ “آپ بھی تو پاپا سے کہتی ہیں کہ دوسروں کے میاؤں کو دیکھو بیویوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں”۔
وہ بولی “تمہارے پاپا دنیا کے سب سے اچھے شوہر ہیں۔ تمھاری بیوی بھی تم سے یہ ہی کہا کرے گی۔ یہ ہم بیویوں کا کلچر ہے”۔
____________


مجھے آپ پر فخر ہے

“مجھے آپ پر فخر ہے”۔
“کوئی نئی بات نہیں ۔ ہر اچھی بیوی اپنے شوہر پر فخر کرتی ہے”۔
“شادی کے وقت ہمارے گھر میں بڑی پریشانی تھی ۔ آپ نے جہیز کے سلسلے میں کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ ابّا کو بڑی آسانی ہوگئی تھی۔ بہت دعائیں دیتے ہیں”۔
“ان کا شکریہ۔ یہ دیکھو پانچ دس سال بعد کسی کے گھر میں جہیز کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ان عارضی چیزوں کے لیے آدمی کسی کو مشکل میں کیوں ڈالے۔ اس سے بہتر یہ نہیں کہ دعائیں لے جو زندگی بھر اور بعد میں بھی کام آتی ہیں۔
____________
خوبانی کی گٹھلی

اس نے سن رکھا تھا کہ خوبانی کی گٹھلیوں کی گری نہیں کھانا چاہیے، بینائی کمزور ہوجاتی ہے۔ رات وہ یہ بات بھول گیا اور خوبانیوں کے ساتھ ان کی گری بھی کھالیں۔
صبح جب چشمہ لگا کر اخبار پڑھنے بیٹھا تو دل دھک سے رہ گیا۔ اسے ایک آنکھ سے بہت دھندلا نظر آ رہا تھا۔ وہ گھبرا گیا۔ “ایسا نہ ہو کہ نظر آنا بالکل ہی ختم ہوجائے”۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
اسی وقت اس کی پوتی کمرے میں آئ “دادا ابّو۔ دادا ابّو۔ آپ کے چشمے کا شیشہ وہاں قالین پر پڑا تھا۔ یہ لیجیے”۔
____________


دو کرداروں کے لوگ

ریسپشن پر بیٹھی خوبصورت لڑکی مسکراتے ہوۓ بڑے دھیان سے کسٹمرز کی باتیں سن رہی تھی ۔ کسٹمرز بھی لڑکی کے سامنے مجسم خوش اخلاقی کا نمونہ بنے بیٹھے تھے۔
پہلے نے کہا “ یہ میری بیوی ہے۔ میری حسرت ہے کہ یہ مجھ سے بھی اس انداز میں بات کرے”۔
دوسرا بولا “یہ خوش اخلاق اور نرم گفتار حضرات بھی گھر پر ہر وقت غصے میں رہتے ہونگے۔ دوسروں کے سامنے خود کو مہذب اور نرم گفتار ظاہر کرنے کی عادت اگر ہم گھر پر بھی اپنا لیں تو مزہ آجائے ۔ ہر گھر خوشیوں کا گہوارہ بن جائے”۔
____________
خوبصورتی کا پیمانہ

"بہت سے شادی شدہ مرد آفسوں میں، بازاروں میں اور دوسری جگہوں پر خواتین سے متاثر نظر آتے ہیں اور اس سلسلے میں اخلاقی حدوں سے بھی گزر جاتے ہیں۔ بسا اوقات انھیں اس کی پاداش میں سخت بے عزتی کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ یہ معاشرتی برائی ہے. کردار کی کمزوری ہے یا کچھ اور ؟"۔
"میرے خیال میں تو یہ ایک ذہنی مرض ہے۔ اس مرض میں مبتلا شخص کو ہر وہ عورت خوبصورت اور پرکشش نظر آتی ہے جو غیر ہوتی ہے۔ بیوی کی خوبصورتی اسے متاثر نہیں کرتی کیوں کہ وہ غیر نہیں ہوتی”۔
____________



بے چارہ بھول گیا تھا

آنکھ کھلی تو گھڑی پر نظر پڑی۔ دس بج گئے تھے۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ آفس کو دیر ہو گئی تھی۔ بیوی ابھی تک سو رہی تھی۔ وہ تلملاتا ہوا جلدی جلدی تیار ہونے لگا۔ جوتے پہنتے پہنتے جھنجلاہٹ عروج پر پہنچ گئی۔ اس نے ایک جوتا فرش پر پٹخ دیا۔ بیوی کی آنکھ کھل گئی۔
“کروادی نا مجھے دیر۔ اب وہاں باتیں سننا پڑیں گی”۔
یہ سنا تو وہ لیٹے لیٹے مسکرانے لگی۔
وہ طیش میں آکر کھڑا ہوگیا “تم مسکرا رہی ہو”۔ وہ گرجا۔
بیوی بدستور مسکراتے ہوۓ بولی “یکم مئی کو کون آفس جاتا ہے؟”۔
____________
چھوٹے میاں کا بڑا شکوہ

وہ رات گئے گھر آیا ۔ موڈ خراب تھا، جوئے میں لمبی رقم ہار گیا تھا۔ بیوی کے پوچھنے پر غصہ کرنے لگا ۔ چیزیں اٹھا کر پھینکیں تو شور شرابے سے چھ سالہ بیٹے کی آنکھ کھل گئی ۔ باپ کو اشتعال میں دیکھا تو سہم گیا اور خوف سے رونے لگا۔
یہ روز کا معمول تھا۔ صبح بیوی ناراض ہو کر ماں کے گھر پہنچ گئی۔ نانی نے نواسے کو گود میں لینا چاہا تو وہ بولا “میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ امی کی شادی کے لیے آپ کو اور کوئی نہیں ملا تھا “۔
____________

عام آدمی خاص آدمی
“ مس نے عام آدمی اور خاص آدمی پر مضمون لکھنے کو کہا ہے ۔ کیا لکھوں؟”۔
“کچھ بھی مشکل کام نہیں ہے۔ کوشش کرو تھوڑی دیر میں لکھ لو گے”۔
“عام آدمی کے بارے میں کیا لکھوں؟”۔
“لکھنا عام آدمی وہ ہوتا ہے جو صرف اپنے لیے اور خاندان کے چند لوگوں کے لیے جیتا ہے”۔
“ اور خاص آدمی؟ “
“خاص آدمی وہ ہوتا ہے جو نہ اپنے لیے اور نہ ہی اپنے خاندان والوں کے لیے جیتا ہے۔ وہ دنیا بھر میں بسنے والے انسانوں کو کسی کسی نہ شکل میں فائدہ پہنچانے کے لیے جیتا ہے”۔
____________
ساتھ نہ دینا پڑے

دولہا اور دلہن اپنے کمرے میں تھے۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ دولہا کے ماں باپ اپنے کمرے میں باتوں میں مصروف تھے۔
“بیگم یاد ہے تم بھی ایک روز ایسے ہی اس گھر میں آئ تھیں”۔
دولہا کی ماں مسکرانے لگی۔
دولہا کے باپ نے پھر کہا “خدا بخشے اماں کو۔ ان کا بہت برا رویہ تمہیں یاد ہے؟”
لڑکے کی ماں کو سب یاد تھا۔ بولی۔ “اس برے وقت میں آپ کے ابّا نے میرا بہت ساتھ دیا تھا”۔
“بس بیگم تم اس بات کا خیال رکھنا کہ مجھے کبھی بہو کا ساتھ نہ دینا پڑے”۔
____________

جہنم سے فرار

میرا باپ پیسے والا تھا مگر میری شادی ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔ باپ نے مہر اپنی حیثیت کے لحاظ سے رکھوایا۔ شوہر فرمابردار تھا، میری ہر بات مانتا تھا۔
سسرال والے کم ذات تھے، ہر وقت لڑتے رہتے۔
شادی خوشی کا نام ہے مگر میرا شوہر ہر وقت شکل سے پریشان دکھائی دیتا۔ جھگڑے بڑھے تو میں نے شوہر سے گھر خریدنے کی فرمائش کردی۔
اس بات کو تین سال ہوگئے ہیں۔ وہ پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہے۔ آپ تو انصار برنی صاحب انسانیت کے خدمت گار ہیں خدا کے لیے میرے شوہر کو کہیں سے ڈھونڈھ نکالیں۔
____________
بنارسی ساڑی ہاؤس

اس کے چہرے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔ ایک طرف ماں تھی تو دوسری طرف شوہر۔ شوہر کی سنے یا ماں کی۔ وہ سخت الجھن میں تھی۔
دونوں اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
بہت سوچ کر اس نے شوہر سے کہا “سنیے۔ گلابی ساڑی امی کو پسند ہے اور کالی آپ کو۔ آپ دونوں کی پسند سر آنکھوں پر، آپ ان دونوں کو پیک کروادیں۔ مجھے جامنی رنگ والی بھی پسند آگئی ہے۔ وہ بھی لے لیں۔ اور بھائی سیلز مین۔ پنکھا تو ادھر کر دو دیکھ نہیں رہے گرمی سے برا حال ہوگیا ہے”۔
____________


راز کی بات

اتفاق ہی تھا کہ اس نے بیٹے کو باپ سے کہتے ہوۓ سن لیا “ابّو باہر چلیں ورنہ میں وہ بات امی کو بتا دوں گا”۔ اس کا باپ کام چھوڑ کر اسے باہر لے گیا۔
وہ پریشان ہوگئی۔ وہ کونسی بات ہے جس سے باپ بیٹے کے ہاتھوں بلیک میل ہورہا ہے۔
رات کو اس نے بیٹے سے کہا “مجھے وہ بات بتا دو پھر میں تمہیں کل سائیکل دلاؤں گی”۔
بیٹا لالچ میں آگیا “ابّو نے شادی کی سالگرہ پر آپ کو دینے کےلیے سونے کی انگوٹھی خریدی ہے۔ کہہ رہے تھے امی کو ابھی نہیں بتانا”۔

کہانی جہیز کی

شادی قریب تھی۔ لڑکے نے کہا “اگر جہیز میں دینے والی چیزوں کی لسٹ مل جاتی تو میں اپنی لسٹ سے ملا لیتا۔ اطمینان ہوجاتا کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی”۔
یہ سن کر لڑکی کا باپ طیش میں آگیا “تمہارا مطلب ہے کہ ہم نے کوئی چیز چھوڑ دی ہوگی”۔
“میرا یہ مطلب ہرگز نہیں”۔ لڑکے نے نرمی سے کہا۔
“تو پھر کیا مطلب ہے تمہارا؟” لڑکی کے باپ نے پوچھا ۔
لڑکا بولا “میرا مطلب ہے کسی چیز کی کمی نہ رہ جائے۔ ہم لڑکی والے ہیں۔ خاندان میں ناک کٹتے دیر ہی کتنی لگتی ہے ابّا”۔

(ختم شد)

 

Mukhtar Ahmad
About the Author: Mukhtar Ahmad Read More Articles by Mukhtar Ahmad: 70 Articles with 95366 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.