|
|
عام طور پر ہمارے گھرانوں میں کسی بھی شادی شدہ عورت کو
دو دعائيں بہت تواتر سے دی جاتی ہیں ایک دعا اس عورت کے سہاگ کی سلامتی کی
ہوتی ہے اور دوسری دعا اس عورت کو اولاد نرینہ یعنی بیٹے کے پیدا ہونے کی
دعا دی جاتی ہے۔ |
|
جب کسی عورت کے گھر بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اس کا مرتبہ
خاندان والوں کی نظر میں بڑھ جاتا ہے سسرال والے اس عورت کی عزت کرنے لگتے
ہیں اور وہ عورت خود بھی یہ محسوس کرنے لگتی ہے کہ اب سسرال میں اس کی
پوزيشن مضبوط ہو گئی ہے- |
|
ایک دکھیاری ماں کی
کہانی |
آج ہم آپ کو ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کریں گے جس کا
سہاگ بھی سلامت ہے اور اس کو اللہ نے دو بہت ہی پیارے بیٹوں سے بھی نوازہ
ہے جس میں بڑے نو سالہ بیٹے کا نام محمد وہاب جب کہ دوسرے چار سالہ بیٹے کا
نام محمد موسیٰ ہے۔ مگر اس کے باوجود اس عورت کے دکھوں کی گنتی نہیں کی جا
سکتی ہے- |
|
ان خاتون کا تعلق لالہ موسی سے ہے جہاں پر ان کا ایک
چھوٹا سا گھر ہے ان کے شوہر دبئی میں ایک پیکنگ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں
جب کہ وہ خود اپنے بچوں کے ساتھ لالہ موسیٰ میں رہائش پزیر ہیں۔ |
|
|
|
بڑے بیٹے کا دکھ |
ان خاتون کے ساتھ ہونے والی بدنصیبی کا آغاز اس وقت ہوا
جب ان کا بڑا بیٹا محمد وہاب صرف چار سال کا تھا تو ان پر یہ انکشاف ہوا کہ
ان کا بیٹے کے دماغ میں ٹیومر ہے- |
|
ان حالات میں انہوں نے اور ان کے شوہر نے اس کے علاج پر
اپنا سارا سرمایہ خرچ کر کے بیس لاکھ خرچ کر کے اس کا علاج کروانے کی کوشش
کی۔ جس کے لیے انہوں نے اس کو شعاعیں بھی لگوائيں مگر ڈاکٹروں نے ان کو
آپریشن کروانے کا مشورہ دیا۔ جس کے لیے مزيد بارہ لاکھ روپے درکار تھے مگر
یہ تو اپنی تمام جمع پونجی اس کے علاج پر خرچ کر چکی تھیں- |
|
ان حالات میں ان کے شوہر نے بچے کے علاج کے لیے بیرون
ملک نوکری کے لیے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اس کے علاج کے لیے پیسے جمع کر
سکیں۔ |
|
بڑے بیٹے کے دکھ ایک طرف
ہی رہ گئے |
یہ بدقسمت گھرانہ ایک بیٹے کے علاج کے لیے پیسے جمع کر
ہی رہا تھا کہ چھوٹا بیٹا محمد موسیے کو بھی گرنے سے بازو پر چوٹ لگی جب اس
کو ڈاکٹر کو دکھایا تو مختلف ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے ان کو بتایا کہ
ان کا چھوٹا چار سالہ محمد موسیٰ بھی ہڈيوں کے کینسر میں مبتلا ہے۔ |
|
موسیٰ کا کینسر چوتھی اسٹیج پر ہے اور اس کی تمام ہڈیوں
میں کینسر پھیل سکتا ہے درد اور تکلیف کے سبب یہ معصوم بچہ نہ تو کھڑا ہو
سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کھا پی سکتا ہے- یہاں تک کہ وہ درد کے مارے رو بھی
نہیں سکتا ہے- |
|
|
|
ڈاکٹروں کے مطابق موسیٰ کے علاج کے لیے تقریبا
ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ تکلیف کی شدت کے باوجود موسیٰ کو اس
کی ماں نے سورہ یسٰ یاد کروا رکھی ہے جس کو اپنی توتلی زبان میں سناتے ہوئے
وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کتنی اذیت کا سامنا کر رہا ہے - |
|
مسائل کے
باوجود خوداری کی انتہا |
ان خاتون کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے بچوں
کے علاج کے لیے وہ سب سے تھوڑا تھوڑا کر کے قرضہ لے چکی ہیں اور اس وقت
گیارہ لاکھ روپے کی مقروض ہو چکی ہیں- مگر اس کے باوجود ان کا یہ کہنا ہے
کہ وہ بہت مجبور ہو کر اپنے بچوں کے علاج کے لیے مخیر حضرات سے صرف یہ اپیل
کرتی ہیں کہ وہ ان کو کسی قسم کے پیسے نہ دیں بلکہ ان کے بچوں کا علاج کروا
دیں- |
|
ان کے جینے کا سہارہ یہی دونوں بیٹے ہیں جن کا
علاج کروانے کی اور اس کے اخراجات برداشت کرنے کی ان میں ہمت نہیں ہے۔ مگر
وہ اپنے بچوں کو بھی اس طرح سسک سسک کر مرتے نہیں دیکھ سکتی ہیں اس لیے ان
کی درخواست ہے کہ ان کے بچوں کے علاج کے لیے علاج کا بندوبست کیا جائے- |
|

قاری عمر فاروق - فیملی کی دیکھ بھال پر مامور رشتہ دار |