|
|
مہنگائی کے اس طوفان نے عام عوام کی عزت بچانا مشکل کر
دی ہے۔ اشیا ضرورت کی ہر چیز کی قیمت میں دنوں کے حساب سے اضافہ دیکھنے میں
آرہا ہے۔ جس کی وجہ سے بجٹ بنانا دشوار ہو گیا ہے۔ ایسے حالات میں عام عوام
کا بچت کرنا تو ناممکن ہو گیا ہے اس کے بجائے روز کی دال روٹی پوری کرنا ہی
اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ عوام آٹھ آٹھ آنسو بہانے پر مجبور ہو گئی ہے- |
|
غریب عبارہ بیچنے والے
کی فریاد |
ایسے ہی ایک بزرگ شخص بشیر احمد کراچی کے ڈيفنس کے چوک
پر غبارے بیچ کر اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے جتن کرتے ہیں- ان کا کہنا
تھا کہ اس سے پہلے وہ فرنیچر کو پالش کرنے کا کام کرتے تھے مگر اس کے بعد
پالش کے سبب لگنے والی الرجی کے سبب وہ یہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے- جس
کے بعد انہوں نے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے غبارے بیچنے کا کام
شروع کر دیا ہے- |
|
ان کا یہ کہنا ہے کہ روز صبح وہ گلستان جوہر کی کچی آبادی سے غبارے لے کر
آتے ہیں اور یہاں چورنگی پر کھڑے ہو کر سارا دن غبارے بیچتے ہیں- مہنگائی
کے حوالے سے ان کا آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ کہنا تھا کہ مہنگائی کے ان
دنوں میں گزارا کرنا ان کے لیے بہت دشوار ہو گیا ہے- |
|
جب سارا دن کی کمائی کر کے وہ آٹا خرید کر گھر لے کر جاتے ہیں تو ان کو پتہ
چلتا ہے کہ آج گھی ختم ہے اور جب چائے کی پتی لے کر جاتے ہیں تو چینی ختم
ہوتی ہے- ان کو اللہ نے سات بچوں سے نوازہ ہے ان کا بڑا بیٹا بھی مزدوری کر
رہا ہے جب کہ ان کی بیوی لوگوں کے گھر میں کام کرتی ہے- |
|
|
|
ان کی بیٹیاں گھر بیٹھ کر سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں
گھر کے تمام لوگوں کے کام کرنے کے باوجود بھی یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ
وہ اپنے گھر کے اخراجات آسانی سے پورے کر سکیں- |
|
غریب آدمی دن کے بارہ
گھنٹے کام کر کے بھی پریشان |
ان حالات میں جب کہ کسی بھی طرح گھر کے اخراجات پورے
کرنے میں ناکام ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی حیثیت اب بھیک مانگنے والوں کے
برابر ہو گئی ہے جو کہ گھر کی دال روٹی چلانے کے لیے ہاتھ پھیلانے پر مجبور
ہو گئے ہیں- |
|
بشیر احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر دن بھر میں ایسے
بھی دن آتے ہیں جب کہ سارا دن کھڑے رہنے کے بعد بھی ان کے پاس واپسی کا
کرایہ تک نہیں ہوتا ہے۔ حالات اس حد تک خراب ہو گئے ہیں کہ وہ یہ سوچنے پر
مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا کریں- |
|
بشیر احمد
کی مدد |
بشیر احمد جیسے لوگ ہم سب کے لیے ایک مثال ہیں جو بھیک
مانگنے کے بجائے کام کرنے کے خواہشمند ہیں ایسے محنت کش افراد کو اگر کوئی
مدد مل جاۓ تو وہ خودکشی کا سوچنے کے بجائے عزت سے اپنے خاندان کا گزارہ کر
سکیں- |
|
|
|
ان کا یہی کہنا تھا کہ ان کی لوگوں سے اپیل ہے
کہ ان کی پیسے سے مدد بھلے نہ کریں ان کو ان کی دوا اور ان کے گھر کا راشن
لے دیں یہی ان کے لیے بہت ہوگی- |