میں نے تو بچوں کا گھر سے نکلنا ہی بند کردیا ہے٬ بچوں کے اغوا کے بڑھتے واقعات میں کتنی حقیقت ہے؟

image
 
حال ہی میں پنجاب میں بچوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی خبریں سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں جس کے باعث والدین سمیت تقریباً ہر دوسرے شخص کو یہ تشویش لاحق ہے کہ کیا واقعی ہی ہمارے بچے غیر محفوظ ہیں۔
 
تاہم ان خبروں یا واقعات میں کتنی حقیقت ہے اور کیا واقعی بچوں کو اغوا کرنے والا کوئی گروہ سرگرم ہے؟
 
اس کے لیے ہم نے درجنوں ایسے والدین سے بات کی جو ان خبروں کو سچ سمجھتے ہوئے یہ مانتے ہیں کہ ہمارے بچے غیر محفوظ ہیں۔
 
نبیلہ جمال تین بچوں کے ماں ہیں۔ انھوں نے اپنے اس خوف کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے بچے گھر سے باہر محلے میں کھیلتے تھے لیکن بچوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے میں نے ان کا گھر سے نکلنا بالکل بند کر دیا ہے۔
 
میں نے صرف یہ سنا ہے کہ ہمارے اردگرد کے علاقوں سے بچے اٹھائے گئے ہیں لیکن مجھ سمیت ہمارے کسی جاننے والے نے ایسا ہوتا دیکھا نہیں ہے۔‘
 
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ایسا نہیں بھی ہوا تب بھی ایک ماں کا ایسی خبریں سن کر کیا حال ہوگا آپ خود سمجھ سکتی ہیں۔‘
 
image
 
والدین میں پایا جانے والا خوف و ہراس
نبیلہ واحد ماں نہیں ہیں جو ان خبروں کی وجہ سے پریشان ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس وقت ہر دوسری ماں یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا واقعی ہی ایسے واقعات ہو رہے ہیں؟
 
ایسی ہی ایک ماں نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ میں بہت خوفزدہ ہوں کیونکہ حال ہی میں میرے بچوں کے سکول سے نوٹس آیا ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے بچوں کو سکول چھوڑنے اور لینے کے لیے آنے والے والدین کے لیے اصول تبدیل کیے جا رہے ہیں تاکہ بچوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
 
انھوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے بہت وہم ہوتا ہے جب تک میرا بچہ سکول سے واپس نہیں آ جاتا۔ عجیب عجیب خیال آتے ہیں کہ اگر میرے بچے کو کسی نے اٹھا لیا تو میں تو مر ہی جاؤں گی۔ حکومت کیوں اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھ رہی؟‘
 
پنجاب کے مختلف شہروں میں درجنوں نجی سکولوں کی جانب سے مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے اغوا کے کیسز اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے والدین کو نوٹس اور پیغامات بھیجے گئے ہیں جو مزید خوف وہراس پھیلانے کا باعث بنے ہیں۔
 
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دو بچوں کے والد محمد پرویز کا کہنا تھا کہ ’میری بیوی ان باتوں سے اتنی ڈری ہوئی تھی کہ وہ بچوں کو سکول سے چھٹیاں کروانے کو تیار تھی۔ جب ہر جگہ سے ایسی باتیں سامنے آتی ہیں تو جھوٹ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔
 
ہم نے سوشل میڈیا پر پہلے یہ افواہیں دیکھیں پھر ٹی وی پر بھی کچھ نیوز چینلز نے ایسی خبریں چلائیں اور پھر کچھ جاننے والوں نے بھی بتایا کہ انھوں نے ایسا سنا ہے۔ اب اگر اتنی جگہوں سے ایسی باتیں سامنے آ رہی ہوں تو ذہن میں سوالات تو اٹھتے ہیں کہ کوئی تو ایسی بات ہوگی جس کی وجہ سے یہ باتیں پھیل رہی ہیں۔‘
 
image
 
بچوں کے اغوا کی خبریں کہاں کہاں سے پھیلائی گئیں؟
والدین کے ان تمام سوالات کو لے کر ہم نے پولیس سے رابطہ کیا۔ جس پر ترجمان آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ’یہ جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے والدین بھی پریشان ہو رہے ہیں۔ ہم نے تمام تر حقائق چیک کیے ہیں۔ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
 
تاہم پولیس کو پہلے سے زیادہ چوکنا رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔'
 
انھوں نے مزید کہا کہ ایسی افواہیں پھیلنے میں ایک عنصر شامل نہیں ہے۔ جس طرح یہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ بچوں کے اغوا کے کیسز میں خوف ناک حد تک اضافہ ہوا ہے تو یہ بات درست نہیں ہے۔ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق بچوں کے اغوا کے کیسز میں گذشتہ سال کے مقابلے میں ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔‘
 
دوسری جانب ہم نے پرائیوٹ سکول اسوسی ایشن سے یہ سوال پوچھا کہ ایسے نوٹس اور میسجز والدین کو کیوں بھیجے گئے ہیں؟ جس پر صدر پرائیوٹ سکول اسوسی ایشن کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ 'اب تک کوئی ایک بھی ایسا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا کہ سکول سے یا سکول کے باہر سے کوئی بچہ اغوا ہوا ہو۔‘
 
ان کا کہنا تھا کہ ’جن سکولوں نے ایسے پیغامات بھیجے ہیں وہ صرف خوف و ہراس پھیلانے کے مترادف ہے۔ اگر سکول انتظامیہ والدین کو ایسا کچھ کہنا بھی چاہتی تھی تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ والدین کو سکول بلا کر بات کرتے، ایسے پیغامات بھیجنے سے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات اور خوف پیدا ہوتے ہیں۔‘
 
اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کی ایم پی اے رابعہ نسیم فاروقی نے پنجاب اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’بچوں کے اغوا کا معاملہ فوری طور پر زیرِ بحث لایا جائے کیونکہ خبروں کے مطابق بچوں کے اغوا کے بڑھتے واقعات کی روک تھام میں پولیس بری طرح ناکام ہوئی ہے۔‘
 
image
 
اب تک اغوا کے کتنے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں؟
ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب وقاص نذیر کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ سب سے پہلے ان افواہوں کا سلسلہ گوجرانوالہ سے شروع ہوا کہ سیلاب زدہ علاقوں سے کچھ لوگ آ گئے ہیں جو نہ صرف ڈکیتیاں کرتے ہیں بلکہ بچے بھی اغوا کرتے ہیں۔
 
’اس کے بعد لاہور کے بارے میں یہ بات پھیلائی گئی۔ پنجاب پولیس نے تمام حقائق کو چیک کیا اور پھر ہم نے سوشل میڈیا پر اعداد و شمار کے ساتھ تردید بھی جاری کی ہے۔‘
 
انھوں نے کہا کہ ’بچوں کی گمشدگی اور اغوا کے کیسز پنجاب پولیس کے لیے سب سے اہم کیسز ہیں اور سینٹرل پولیس آفس میں باقاعدہ طور پر ان کیسز کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ جب بھی کوئی ایسا کیس رپورٹ ہوتا ہے تو فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔‘
 
پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کی بات کریں تو 80 فیصد بچے جن کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے وہ اسی دن شام تک مل جاتے ہیں۔ باقی 15 فیصد بچے کچھ دن بعد بازیاب ہوتے ہیں، جبکہ پانچ فیصد ایسے بچے ہیں جو واقعی اغوا ہوتے ہیں تو انھیں تلاش کیا جاتا ہے۔
 
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے حوالے سے انھوں نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے ان تمام ویڈیوز کو بھی چیک کیا ہے جن میں سے ایک ویڈیو انڈیا کے کسی شہر کی ہے، ایک وہ ویڈیو جس میں ایک خاتون پنسلیں تقسیم کر رہی ہے وہ بھی اغوا کی ویڈیو نہیں ہے۔‘
 
لاہور پولیس کے مطابق شہر میں پچھلے آٹھ ماہ کے دوران 13 سال سے کم عمر بچوں کی 932 اغوا اور گمشدگی کی وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
 
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اطہر اسماعیل کے مطابق رواں سال 687 بچوں کے اغوا کے مقدمات درج ہوئے ہیں جبکہ زیادہ تر والدین کے جھگڑوں اور گم شدہ بچوں کے واقعات پر ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ستمبر کے مہینے میں 96 بچے اغوا ہوئے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
YOU MAY ALSO LIKE: