|
|
عام طور پر ہم جتنا بھی پڑھ لکھ جائيں یا اپنی کشادہ
ذہنیت کا پرچار کرتے پھریں اس کے باوجود زندگی کے کچھ معاملات ایسے ضرور
ہوتے ہیں جن پر ہم نہ چاہتے ہوئے بھی توہم پرستی کا شکار ہوتے ہیں اور ایسے
معاملات میں اکثر افراد یہ تک کہتے نظر آتے ہیں کہ اگرچہ ہمیں اس پر اعتبار
نہیں ہے لیکن اگر خدا نخواستہ کچھ ہو گیا تو بہتر ہے کہ اس سے بچا جائے-
درحقیقت یہ بات بھی توہم پرستی کی ہی دلیل ہوتی ہے ایسا ہی ایک وہم والدین
کے دل میں ایک ہی گھر میں دو بہنوں کے رشتے یا دو بہنوں کے ایک وقت نکاح کے
حوالے سے ہوتا ہے- |
|
دو بہنوں کا ایک وقت
نکاح |
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر دو بہنوں کا ایک
ہی دن ایک وقت میں نکاح کیا جائے تو اس کے بدلے میں ایک بہن پر نحوست کا
سایہ آجاتا ہے اور وہ کبھی سکھی نہیں رہ سکتی ہے- |
|
یہی وجہ ہے کہ اس وہم کے سبب اکثر والدین اگر ایک ساتھ دو بہنوں کا رشتہ کر
بھی دیں تو ان کا نکاح ایک دن یا ایک وقت پر نہیں کرتے ہیں اور اس کے
درمیان کچھ دنوں کا فاصلہ رکھتے ہیں- |
|
|
|
حقائق |
اس بات کی حقیقت یہ ہے کہ پہلے تو اس کو یہ سمجھ لینا
چاہیے کہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہر فرد کی خوشیاں اور غم اس
کی تقدیر کا حصہ ہوتی ہیں- اس وجہ سے صرف ایک وقت میں نکاح کر دینے سے کسی
کی تقدیر پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے- |
|
تاہم اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب ایک وقت میں دو بہنوں
کا نکاح ہوتا ہے تو سمدھی ایک دوسرے سے مسابقت کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہر
ہر چیز میں مقابلے بازی کے سبب اکثر لڑکیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
جس کو لوگ نحوست سے تعبیر کرتے ہیں جب کہ حقیقت میں یہ ہمارے اپنے اعمال کا
نتیجہ ہوتا ہے- |
|
دو بہنوں کی ایک گھر میں
شادی |
اسی طرح اکثر والدین ایک گھر میں دو بہنوں کی دو بھائیوں
سے شادی کرنے سے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں رشتہ جتنا بھی اچھا ہو ان
کا کہنا ہوتا ہے کہ ایک گھر میں دو بہنیں نہیں دینی ہیں ورنہ ایک کا گھر
برباد ہو جاتا ہے- |
|
حقائق |
ایک بار پھر اس وہم کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ
بھی سراسر ہمارے ذہنوں کی کارفرمائی ہے جیسے کہ انسان کی پانچ انگلیاں ایک
جیسی نہیں ہوتی ہیں اسی طرح دو بہنیں بھی ایک مزاج کی نہیں ہوتی ہیں- اس
وجہ سے اگر کوئی سسرال والے بڑی بہن کو دیکھ کر چھوٹی بہن کا رشتہ کر لیتے
ہیں تو اس کے نتیجے میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ ان کی امیدیں بہت بڑھی ہوئی
ہوتی ہیں اور وہ چھوٹی بہن کو بھی بڑی بہن کے عکس کے طور پر دیکھتے ہیں جس
میں کسی قسم کی کمی یا کجی ان کو مایوسی کا شکار کر دیتی ہے جس کی وجہ سے
مسائل ہو سکتے ہیں- |
|
|
|
اس کے ساتھ ساتھ ایک بہن کے ازدواجی تعلقات کا
اثر بھی دوسری بہن کی زندگی پر براہ راست پڑتا ہے اس وجہ سے ایک گھر کی
بربادی دوسرے گھر کو بھی برباد کر ڈالتی ہے اس وجہ سے والدین اس حوالے سے
احتیاط کا شکار ہوتے ہیں- |
|
یاد رکھیں !
|
اس طرح کی توہم پرستی اگر دل میں ہو تو کچھ نہ
کچھ برا ہونے کی صورت میں خیال فوراً اسی طرف چلا جاتا ہے جو کہ شرک کے
متبادل ہوتا ہے اور ہمیں خدا کی قدرت پر یقین ہونے کے بجائے ایسا محسوس
ہونے لگتا ہے کہ جیسے یہ سب کچھ ہمارے اس عمل کے سبب ہوا جو کہ ایک بڑا
گناہ ہے- اس وجہ سے ایسے کسی بھی خیال کو ذہن میں لانے کے بجاۓ اپنی عقل
اور فہم کے مطابق بہترین فیصلہ کریں اور باقی اللہ پر چھوڑ دیں- |