|
|
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو بنانے کے ساتھ ساتھ انسان کی
ہدایات کے لیے ہر دور میں اپنے پیغام اور پیغمبر انسانوں کے درمیان بھیجے
تاکہ وہ گمراہی سے بچے رہیں۔ یہاں تک کہ سب سے آخری نبی کے طور پر انسانوں
کی رہنمائی کے لیے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا- |
|
فرمان خداوندی ہے کہ کسی بھی مسلمان کا ایمان اس وقت تک
مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو اس دنیا کی ہر شے ہر رشتے سے عزیز نہ ہو
جائے- یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان سنت نبوی پر عمل پیرا ہو کر اور
بارگاہ نبوی میں درود و سلام کا تحفہ پیش کر کے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہیں- |
|
ملائشیا میں میلاد نبی
ایوارڈ |
جس طرح دنیا بھر کے مسلمان ربیع الاول کے مہینے میں میلاد نبی صلی اللہ
علیہ وسلم بہت جوش و جزبے سے مناتے ہیں اسی طرح ملائشیا میں بھی اس دن کی
مناسبت سے ملک میں میلاد النبی ایوارڈ دیا جاتا ہے جو کہ ایک باقاعدہ تقریب
میں ملائشیا کے سربراہ مملکت اپنے ہاتھوں سے دیتے ہیں- |
|
یہ ایوارڈ ملک کے ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے پورے سال میں اسلام کی
خدمت کے حوالے سے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو ملک کی تاریخ میں اس سال پہلی
بار یہ واقعہ دیکھنے میں آیا کہ ملائشیا میں اس سال یہ ایوارڈ ایک غیر مسلم
چینی خاتون کو دیا گیا جس کا تعلق بدھ مذہب سے تھا- |
|
|
|
شی ہوئی لین کی اسلام کے
لیے نیکی |
شی ہوئی لین جس کی عمر اس وقت 83 برس ہے اور وہ اپنی مدد
سے چلنے پھرنے سے قاصر ہے اور وہیل چئير تک محدود ہے۔ اس کا تعلق چین سے
تھا جو کہ ملائشیا میں ایک اسکول میں بچوں کو نرسری میں پڑھاتی تھی جہاں پر
اس کے ساتھ ایک انڈونیشین عورت بھی کام کرتی تھی- |
|
اس عورت کی دو ماہ کی بچی بھی تھی مگر اپنے حالات کے سبب
اس کو ملائشیا چھوڑ کر واپس انڈونیشیا جانا پڑا اور اپنی دو ماہ کی بچی کو
نہ لے جا سکی جس کے بعد اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری شی ہوئی لین نے اٹھا
لی- |
|
ایک غیر مسلم عورت کا ایک مسلمان عورت کی بچی کی پرورش
کا سن کر یہی خیال آتا ہے کہ اس بچی کو غیر مسلم اپنے مذہب کے مطابق پروان
چڑھائے گی مگر اس کے برخلاف شی ہوئی لین نے اس بچی روحانہ عبداللہ کی پرورش
اسلامی اصولوں کے مطابق کی بلکہ اس کو قرآن بھی حفظ کروایا اور اس کے ساتھ
ساتھ اس کو کمپیوٹر انجینئرنگ کی تعلیم بھی دلوائی اور یہ سب انہوں نے تن
تنہا اپنی مدد آپ کے تحت کیا- |
|
|
|
شاہی اعزاز کے
ساتھ ایوارڈ |
ملائشیا کے شاہ ال سلطان عبداللہ ریاط الدین
المصطفی نے چائی ہوئی لین کو ان کی اس خدمت کے بدلے ایوارڈ سے نوازہ، اس
موقع پر چائی ہوئی لین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کافی خوش ہیں جب کہ اس
حوالے سے ملائشیا کے اس ایوارڈ کو دینے والے بورڈ آف گورنر کے ممبر سید زین
العابدین کا کہنا تھا کہ ایک بچی کی تربیت ایک نسل کی تربیت کے برابر ہوتی
ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت نے چائی ہوئی لین کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب
کیا۔ |