|
|
پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو کہ اسلامی نظریہ کے
مطابق بنایا گیا تھا اور اس کو بنانے کا واحد مقصد اسلامی قوانین اور
تعلیمات کے مطابق ایک ایسے خطہ ارض کا حصول تھا جہاں پر ان کے مطابق زندگی
گزاری جا سکے۔ |
|
اسلام کے مطابق لاش کی
عزت و تکریم |
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کے تحت جہاں زندہ افراد
کے ساتھ کیسے رہنا ہے اسی طرح مردہ افراد کے جسم کو کس طرح ان کی آخری منزل
تک پہنچانا ہے- اس کا بھی سارا طریقہ کار موجود ہے اور زندہ افراد کی یہ
ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو عزت احترام سے غسل دے کر کفن پہنائے اور اس
کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کر کے اس کو اس کی آخری منزل یعنی قبر تک
پہنچائے۔ |
|
ویسے تو عام طور پر وارثین کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اگر کسی کا وارث
موجود نہ ہو تو یہ ذمہ داری ہر کلمہ گو مسلمان کے اوپر واجب ہوتی ہے- |
|
ملتان نشتر ہسپتال کے بھیانک مناظر |
جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر کے سب سے بڑے ہسپتال نشتر ہسپتال کے حوالے سے
نجی چینل نے وزیر صحت کے مشیر کیپٹن ریٹائر ثاقب ظفر کے نوٹس لینے کی خبر
نشر کی- |
|
جنہوں نے اچانک نشتر ہسپتال کی چھت پر چھاپہ مارا اور وہاں تقریباً ایک
کمرے کے اندر اور چھت پر موجود 500 لاشوں کو برے حال میں موجود پایا- |
|
|
|
چھاپے کی ویڈيو کے اندر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کمرے اور
نشتر ہسپتال کی چھت پر ایسی بے گور و کفن لاشیں موجود ہیں جن کے جسم گل سڑ
چکے ہیں اور جن کی شناخت کرنا نا ممکن ہے- |
|
نشتر ہسپتال کی انتظامیہ
کا بیان |
اس خبر کے میڈيا پر وائرل ہونے کے بعد نشتر ہسپتال کی
انتظامیہ نے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے یہ بتایا کہ یہ لاشیں لاوارث
افراد کی ہیں جن کو میڈیکل اسٹوڈنٹ اپنے پریکٹیکل کے لیے استعمال کرتے ہیں
تاہم اس کے بعد ان لاشوں کی یہ بے حرمتی ایک سوالیہ نشان ہے جس کے حوالے سے
مشیر صحت نے سخت ترین ایکشن لینے کا حکم جاری کر دیا ہے- |
|
اسلامی جمہوریہ پاکستان
میں لاشوں کو بھنبھورتے گدھ |
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کسی بھی مخلوق کو ناکارہ
نہیں بنایا اور ہر ایک کے ذمے کوئی نہ کوئی کام رکھا ہے جس میں گدھ کو مردہ
اجسام کو کھانے والی مخلوق کہا جاتا ہے جس کا کام ہی مردار کو کھانا ہوتا
ہے- |
|
مگر حالیہ تناظر میں نشتر ہسپتال کے پڑھے لکھے افراد نے
لاشوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس نے ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور
اگر گزشتہ دس سالوں میں ملتان میں لاوارث افراد کی ان لاشوں کی تعداد 500
تک ہے تو ملک کے دیگر شہروں میں اس حوالے سے کیا کیا کچھ ہو سکتا ہے- یہ
ایک ایسا سوال ہے جس نے لوگوں کی روح کو لرزا کر رکھ دیا ہے- |
|
سوشل میڈيا پر رقت انگیز
کمنٹ |
سوشل میڈيا پر اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ایک صاحب کا
یہ کہنا تھا کہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے جب یہ ویڈيو دیکھی تو پھوٹ
پھوٹ کر رونا شروع کر دیا جب اس سے اس حوالے سے دریافت کیا گیا تو اس کا
کہنا تھا کہ اس کا بیٹا گزشتہ 7 سالوں سے لاپتہ ہے کہیں اس کی لاش میں ان
لاوارث لاشوں میں موجود نہ ہو- |
|
|
|
اس حوالے سے نشتر ہسپتال کے ایک قریبی رہائشی
کا یہ بھی کہنا تھا کہ نشتر ہسپتال کی چھت پر کئی جگہوں پر لوہے کے کیل
لگائے گئے ہیں-میڈيکل اسٹودنٹ کے تجربات کے بعد بچی کچھی لاش کو چھت پر اس
کیل سے ٹانگ دیا جاتا تھا جس کو گدھ، کوے نوچ نوچ کر کھا لیتے تھے اور جب
لاش میں کچھ نہ بچتا تو اس کو اٹھا کر کمرے میں پھینک دیا جاتا تھا اور یہ
سلسلہ گزشتہ دس سالوں سے جاری تھا- |
|
لاشوں کے سڑنے
کی بو کیوں نہ ہوتی |
اس حوالے سے کچھ سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی
کہنا تھا کہ اگر دس سالوں سے اتنی لاشیں چھت پر موجود تھیں تو ان کی بدبو
کیوں نہ آتی تھی کیوں کہ ہمارے گلی محلے میں تو اگر ایک بلی بھی مر جائے تو
اس سے اٹھنے والا تعفن اتنا ہوتا ہے جس کو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے- |
|
تو اس حوالے سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد
کا یہ کہنا تھا کہ تجربات سے قبل ان لاشوں کو ایک مادے فارملین سے دھو دیا
جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی بد بو ختم ہو جاتی ہے- یہی وجہ ہے کہ میڈیکل
تجربات جن لاشوں پر کیے جاتے ہیں ان سے کسی قسم کی بد بو نہیں آتی اسی وجہ
سے ان لاشوں کی بد بو بھی کسی تک نہ پہنچ پائی- |
|
حرف آخر!
|
ان لاشوں کا استعمال جتنے بھی اعلیٰ مقصد کے
لیے کیا جاتا رہا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میڈيکل کے طالب علموں کے
پریکٹیکل کے لیے دنیا بھر میں ایک ضابطہ اخلاق موجود ہے اور اس کے لیے اس
طرح کسی کی بھی لاش کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے بلکہ اس کے لیے خاص اجازت
نامے کی ضرورت ہوتی ہے- |
|
اس کے علاوہ لاوارث قرار دے کر کسی کی لاش پر
اس طرح کے تجربات کی قانونی اجازت موجود نہیں ہے اس کے بعد اگر تجربات کر
بھی لیے جائيں تو اس کے بعد کم از کم کفن اور قبر تو اس کا حق ہوتا ہے جو
کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ان پڑھے لکھے افراد پر لازم تھا- |