جنت کا بزنس کلاس کا مسافر، کینسر کا مقابلہ کرتے ایک نوجوان کے حوصلے کی کہانی ڈاکٹر کی زبانی

image
 
ڈاکٹری کا پیشہ ایک ایسا پیشہ ہے جس سے منسلک افراد کو مسیحا اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی دکھ بیماری اور تکالیف کو ختم کرنے کا ایک وسیلہ ہوتے ہیں- جیسے کہ قرآن میں ارشاد ہے کہ بیماری دینے اور شفا دینے والی ذات اللہ کی ہی ہے تو اس وجہ سے ڈاکٹر کے بس میں صرف کوشش کرنا لکھا ہوتا ہے اس میں کامیابی کا ہونا اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے-
 
ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ
ڈاکٹر اسد امتیاز نے یہ کہانی سوشل میڈیا کی توسط سے تحریر کی ہے۔ عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مریضوں کا علاج کرتے کرتے ڈاکٹر حضرات کے دل سخت ہو چکے ہوتے ہیں اور مریض ان کے لیے صرف ایک کام کی طرح ہوتا ہے اور اس کی دکھ تکلیف سے ان کی جزباتی وابستگی نہیں ہوتی ہے-
 
مگر یاد رکھیں ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں اور ان کی بھی مریضوں کے ساتھ جزباتی اٹیچمنٹ ہو سکتی ہے ایسے ہی ایک مریض کی کہانی ڈاکٹر اسد امتیاز نے شئير کی ہے- اس مریض کی کہانی کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ یہ مریض جس مرض میں مبتلا تھا اسی مرض میں ان کی اپنی بیٹی فاطمہ اسد بھی مبتلا تھی اور اگرچہ وہ کینسر کا علاج کرنے والے ڈاکٹر تھے مگر اس کے باوجود وہ اپنی بچی کو اس موذی مرض سے بچانے میں ناکام رہے تھے-
 
احمد کی کہانی ڈاکٹر اسد امتیاز کی زبانی
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ وہ چوہدری کلینک میں بیٹھے تھے تو ان کے پاس ایک نوجوان آیا جس کا نام عمر تھا اس کے ہاتھ میں فائل کا ایک پلندہ تھا جس کو دکھاتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ یہ اس کے 23 سالہ بھائی کی رپورٹس ہیں جو آسٹریلیا پڑھنے گیا تھا اور اس کو وہاں بلڈ کینسر تشخیص ہوا- ڈاکٹرز نے اس کے علاج کی کوشش کی مگر ناکامی کے بعد ان کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اب صرف چار سے آٹھ ہفتے بچے ہیں-
 
image
 
احمد کی بینائی جا چکی ہے اور اس کے جسم کا نچلا دھڑ بالکل مفلوج ہو چکا ہے یہ جاننے کے بعد احمد نے آسٹریلیا کے ڈاکٹروں سے ضد کر کے پاکستان آگیا کیوں کہ وہ اپنی زںدگی یا یہ آخری وقت اپنے ماں باپ اور فیملی کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا-
 
عمر نے یہ بھی بتایا کہ وہ احمد کے پاس آسٹریلیا بھی گئے تھے جہاں ان کا بون میرو احمد کے بون میرو سے میچ بھی ہو گیا تھا مگر ڈاکٹروں نے کہا کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ عمر کی یہ بات سن کر ڈاکٹر اسد کو اپنی بیٹی فاطمہ یاد آگئی جس کو بھی کینسر تھا اور اس کی بہن کا بھی بون میرو میچ ہو گیا تھا مگر وقت نے اس کو مہلت نہ دی-
 
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمر سے دریافت کیا کہ کیا احمد اپنی بیماری اور اس کی سنگینی کے بارے میں جانتا ہے جس کے جواب میں عمر نے بتایا کہ احمد نہ صرف سب جانتا ہے بلکہ وہ بہت بہادری سے اس سب کا مقابلہ کر رہا ہے-
 
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ وہ جب پہلی بار احمد سے ملے تو اس سے بات کر کے ان کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اپنی بیٹی فاطمہ ہی سے بات کر رہے ہیں-
 
احمد کی بہادری
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ شروع میں تو احمد کی حالت بہت خراب تھی مگر ہسپتال آنے کے تین دن بعد وہ بات کرنے کے قابل ہوا تو وہ اس سے ملے اور اس سے دریافت کیا کہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کی کیا کنڈیشن ہے- تو اس کا کہنا تھا کہ اس کے آسٹریلین ڈاکٹر اس کو بتا چکے ہیں کہ اس کے علاج کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے اور اس کے پاس جینے کے لیے صرف چند ہفتے ہی بچے ہیں-
 
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ اس کی یہ بہادری دیکھ کر وہ صرف یہ سوچ کر ہی رہ گئے کہ اپنی موت سے واقف یہ بچے اتنی بہادری کہاں سے لاتے ہیں؟
 
میں تمھارے خدا سے ناراض ہوں
اس حوالے سے ڈاکٹر اسد کا یہ بھی کہنا تھا کہ احمد نے ان کو بتایا کہ جب احمد کے علاج کی ہر کوشش ناکام ہو گئی تو آسٹریلین ڈاکٹروں نے بہت بے بسی سے اس سے کہا کہ وہ احمد کے خدا سے ناراض ہیں جس نے احمد کو اتنی شدید تکلیف دی مگر اس موقع پر احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ میں ایسا بندہ نہیں ہوں جو اللہ سے گلہ کرے میں اس پر راضی ہوں جو اس نے میرے لیے لکھا-
 
image
 
کیا مرنے سے ڈر لگ رہا ہے
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ انہوں نے احمد سے اس حوالے سے پوچھا کہ کیا مرنے سے ڈر لگ رہا ہے تو اس کا کہنا تھا بالکل بھی نہیں بلکہ اللہ نے اس کے لیے کچھ اچھا ہی پلان کیا ہو گا تو اس جواب کے بعد ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ انہوں نے احمد کو کہا کہ جنت میں میری بیٹی فاطمہ سے جب ملو تو اس کو میرا سلام کہنا-
 
بزنس کلاس کا ٹکٹ
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ کسی کام سے ان کو چار دن کے لیے کراچی جانا پڑا جب واپس آئے تو ان کے کلینک پر عمر اور اس کے والدین آئے انہوں نے جب ان سے احمد کی طبعیت کے بارے میں پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے احمد کا انتقال ہو گیا- عمر نے یہ بھی بتایا کہ احمد مرنے سے پہلے بھی آپ کا پوچھ رہا تھا۔
 
مرنے والے دن شدید تکلیف کے عالم میں احمد نے اپنی ماں سے کہا میں جا رہا ہوں امی مبارک ہو میرا بزنس کلاس کا ٹکٹ آیا ہے-
 
ڈاکٹر اسد کا احمد کی موت کے حوالے سے کہنا تھا کہ احمد اب جنت کی بزنس کلاس کا مسافر ہے اور اس کا حوصلہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے-
YOU MAY ALSO LIKE: