|
|
’اب تو چائے کی پتی، دالیں اور کھانے پینے کی ضروری اشیا
خریدتے خریدتے ہی ماہانہ گروسری کے پیسے ختم ہو جاتے ہیں، کاسمیٹکس اور
دیگر چیزیں تو دیوانے کا خواب لگتا ہے۔‘ |
|
کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون خانہ سمعیہ الطاف ایک
متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور مہینے بھر کے راشن کے اپنے بجٹ کو لے
کر پریشان ہیں۔ |
|
وہ کہتی ہیں کہ ’آج سے چند ماہ قبل تک گھر کے ماہانہ
راشن کے بجٹ میں کھانے پینے کی ضروری اشیا کے ساتھ کچھ کاسمیٹکس اور گھر کی
سجاوٹ یا باورچی خانے میں استعمال ہونے والی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں بھی خرید
کر لے آتی تھی لیکن اب تو بنیادی سامان خریدتے ہوئے ہی پیسے ختم ہو جاتے
ہیں بلکہ کچھ نہ کچھ چیزیں کاؤنٹر پر ٹوکری سے نکالنا پڑتی ہیں۔‘ |
|
کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی عنبرین ظفر نے
بھی کیا جو ایک نجی کمپنی میں معقول تنخواہ پر ملازمت کرتی ہیں اور اپنے
والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔ گھر کے راشن کے اخراجات ان کے ذمہ ہیں۔ |
|
وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ گروسری سٹور میں داخل ہوتے ہی آپ کے بٹوے
سے پیسے نکل جاتے ہیں۔ گنتی کی چند چیزیں خریدیں تو بل آپ کی پہنچ سے باہر
ہو جاتا ہے۔ گروسری اشیا کی قیمتوں کو تو جیسے آگ لگ گئی ہو، یہ بھی ڈالر
کی قدر کی طرح بے قابو ہیں۔‘ |
|
پاکستان میں گذشتہ چند ماہ کے دوران ہر دوسرا فرد مہنگائی کا رونا روتے
دکھائی دیتا ہے لیکن جہاں ملک میں مہنگائی کی مختلف وجوہات، جن میں روپے کی
قدر میں کمی، پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، حالیہ سیلاب کے بعد کی
صورتحال نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے وہی حکومت کی جانب سے گروسری اشیا پر
عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسز نے بھی ان اشیا کو صارفین کی پہنچ سے دور کر دیا۔ |
|
اگر آپ اپنے ماہانہ سودا سلف کے بجٹ میں پیسوں کے کم ہو جانے کی وجہ سے
پریشان ہیں تو آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ اس کی وجوہات کیا ہیں۔ |
|
|
|
گروسری کی اشیا پر عائد ٹیکسز کون سے ہیں؟ |
پاکستان میں اس وقت کھانے پینے کی اشیا، کاسمیٹکس اور
دیگر چیزوں پر مختلف ٹیکسز لاگو ہیں جن میں سے کچھ بلاواسطہ اور بلواسطہ
ہیں۔ |
|
ملک میں کھانے پینے یا کسی بھی گروسری سٹور سے خریداری
کرنے پر صارفین کو بلاواسطہ 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ |
|
رواں برس کے آغاز میں سابق حکومت کے دور میں پیش کیے گئے
سپلیمنٹری یا منی بجٹ میں گروسری کی اشیا پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگایا
گیا تھا۔ جس کے بعد سے صارفین پیکٹ فوڈ اور صابن، شیمو جیسی مصنوعات پر 17
فیصد جنرل سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں یعنی اگر آپ ایک سو روپے قیمت کا ٹوتھ
برش خریدتے ہیں تو بل کے وقت آپ کو اس پر 17 روپے اضافی ادا کرنے ہیں۔ |
|
جبکہ دیگر بلواسطہ ٹیکسز میں درآمدی اشیا،
بیکری آئٹمز، ڈیری مصنوعات پر عائد ٹیکسز شامل ہیں جو براہ راست صارفین کو
پتا نہیں چلتے لیکن یہ ان اشیا کی قیمت میں شامل کیے گئے ہیں۔ |
|
امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر عائد امپورٹ ڈیوٹی مختلف
اشیا پر مختلف ہے اور کم از کم دو فیصد لاگو ہے۔ |
|
یعنی اگر آپ ڈبل روٹی خریدتے ہیں تو اس کی بڑھی
ہوئی قیمت میں وہ 17 فیصد ٹیکس شامل ہے اور اس پر آپ مزید 17 فیصد جی ایس
ٹی کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔ |
|
اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل اور
گارمنٹس پر بھی 12 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔ |
|
|
|
معاشی امور کے ماہر اور صحافی شہباز رانا نے بی
بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا اور
گروسری آئٹمز پر اس وقت دو طرح کے ٹیکس نافذ ہیں۔ |
|
امپورٹڈ اشیا پر ودہولڈنگ ٹیکس لگایا گیا ہے جو
درآمد کنندہ ان اشیا کی مارکیٹ ریٹ کی قیمت میں لگا کر فروخت کر رہا ہے اور
یہ صارف کو نظر نہیں آتا جبکہ دوسرا ٹیکس جنرل سیلز ٹیکس ہے۔ |
|
ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے نان فوڈ آئٹمز پر 17
فیصد جی ایس ٹی ہوتا تھا لیکن سابقہ حکومت کے دور کے اواخر میں ملکی تاریخ
میں پہلی مرتبہ کھانے پینے کی اشیا پر بھی 17 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا اور
یہ ہی مہنگائی کی ایک اہم وجہ ہے۔‘ |
|
وزارت خزانہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام نہ
ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گروسری اشیا کی خریداری پر اس وقت صارف کو
براہ راست 17 فیصد جی ایس ٹی ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے مگر امپورٹ ڈیوٹی،
ودہولڈنگ ٹیکس، خام مال کی تیاری پر ٹیکس سمیت متعدد ایسے ٹیکسز ہیں، جو
بظاہر تو عام شہری کو نظر نہیں آتے لیکن مینوفیکچرز ان کا بوجھ عام صارف کی
جیب پر ہی ڈالتے ہیں۔ |
|
ان کا کہنا تھا اس کے علاوہ اگر آپ نقد کیش کی
بجائے کسی اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ سے گروسری اشیا کی خریداری کرتے ہیں تو
اس پر بھی ایک ہزار روپے پر ایک روپیہ پوائنٹ آف سیل ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔ |
|
|
|
پاکستان میں مہنگائی اور اس کی وجوہات |
اگر ہم پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و
شمار کا جائزہ لیں تو اس کے مطابق رواں برس اگست میں ملک میں مہنگائی کی
شرح 27.3 فیصد رہی جبکہ ستمبر میں مہنگائی کی شرح کچھ کمی سے ساتھ 23.2
فیصد ریکارڈ کی گئی۔ |
|
گذشتہ چند ماہ کے دوران گروسری اشیا کی قیمتوں
میں ہوشربا اضافے پر بات کرتے ہوئے شہباز رانا کا کہنا تھا کہ ’اس کی مختلف
وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ کھانے پینے کی درآمدی اشیا مثلاً کوکنگ آئل،
گندم اور اجناس کی عالمی سطح پر بڑھنے والی قیمت کا اثر پاکستانی صارفین پر
بھی پڑا۔‘ |
|
وہ کہتے ہیں کہ اس کی دوسری وجہ پاکستانی روپے
کے مقابلہ میں ڈالر کی بڑھتی قیمت، تیسری وجہ پیٹرول کی بڑھتی قیمت ہے، جس
نے اشیا کی ٹرانسپورٹ کی قیمت بڑھائی اور اس کا بلواسطہ اور بلاواسطہ اثر
صارف کی جیب پر پڑا۔ |
|
شہباز رانا کے مطابق سبزی، گوشت اور پھل وغیرہ
کی قیمتوں میں حالیہ تین ماہ میں بے تحاشہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ ملک میں
بڑے پیمانے پر آنا والا سیلاب ہے۔ |
|
اس سیلاب سے جہاں فصلوں اور اجناس کو نقصان
پہنچا وہیں لائیو سٹاک بھی ختم ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سیلاب سے فوڈ
سپلائی چین متاثر ہوئی اور ایسے میں ذخیرہ اندوزی کرنے والوں نے موقع کا
فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی قیمتیں لگانا شروع کر دی۔ ‘ |
|
معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر خاقان نجیب بھی ان ہی
وجوہات کو ملک میں مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ |
|
ان کے مطابق ملک میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے کرائے
اور زراعت کے شعبے میں فصلوں کی تیاری کے لیے اضافی لاگت کے باعث ملک میں
اجناس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ |
|
اس کے علاوہ بجلی اور کھاد کی بڑھی قیمت بھی ان
محرکات میں شامل ہے۔ |
|
وہ کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر کھانے پینے کی
چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی گرتی قدر اور سیلاب نے اس پر جلتی
کا کام کیا اور ایک عام پاکستانی کے لیے روز کا چولہا جلانا مشکل بنا دیا۔ |
|
Partner Content: BBC Urdu |