|
|
کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا میٹرو پولیٹن شہر ہے ماضی
میں پاکستان کا دارالخلافہ ہونے کا اعزاز بھی اسی شہر کو حاصل تھا- پاکستان
کے اس شہر کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ یہاں کی آبادی ایک
گلدستے کی مانند ہے اور یہاں پر ہر صوبے اور ہر قوم کے لوگ آباد ہیں۔ ستر
کی دہائی میں کراچی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ شہر ایک ماں کی طرح ہے
جس کی گود میں آنے والا کوئی شخص بھوکا نہیں رہتا اور بے چھت نہیں رہتا-
کراچی کی اسی خوبی کے سبب پورے ملک سے لوگ روزگار کے لیے یہاں آئے اور اس
کے بعد اسی شہر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا- |
|
صوبہ سندھ میں واقع کراچی شہر میں سب سے بڑی تعداد اردو
بولنے والے ان افراد کی ہے جو کہ قیام پاکستان کے وقت ہندوستان سے ہجرت کر
کے آئے اور کراچی نے ان کو کھلی بانہوں نے خوش آمدید کہا۔ |
|
ستر کی دہائی کا کراچی
|
ستر کی دہائی کا کراچی جس کو اس وقت روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا اس شہر کے
بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہاں رات نہیں ہوتی ہے۔ امن و امان کے حساب سے یہ
شہر مثالی تھا۔ یہاں کے تعلیمی ادارے اعلیٰ ترین معیار کے تھے اور دوسری
جانب سرمایہ دار افراد یہاں پر تیزی سے پیسہ لگا رہے تھے جس کی وجہ سے یہاں
روزگار کے مواقعوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا- |
|
|
|
آج کا کراچی |
پاکستان کا یہ سب سے بڑا شہر کراچی جس کے غم میں تمام
سیاسی پارٹیاں بڑے بڑے نعرے لگاتی نظر آتی ہیں اور ہر سیاسی پارٹی کراچی کی
آج کی بربادی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتی نظر آتی ہے- |
|
پی ٹی آئی کو شکایت پیپلز پارٹی سے ہے کہ اس نے گزشتہ 30
سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود کچھ نہیں کیا تو دوسری جانب پیپلز پارٹی
کو یہ شکایت کہ کراچی کی شہری آبادی جب ہمیں ووٹ ہی نہیں دیتی تو پھر اپنے
کام بھی ان سے کروائيں جن کو وہ ووٹ دیتے ہیں یعنی متحدہ قومی مومنٹ- جبکہ
متحدہ قومی مومنٹ کراچی کی مئیر شپ اور گورنر کی سیٹ پر براجمان ہونے کے
باوجود یہی گلہ کرتی نظر آتی ہے کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ہم کچھ
کرنے کے قابل نہیں جب کہ ایک جماعت اسلامی بھی ہے جو کہ کراچی میں بڑے بڑے
جلسے تو کر لیتی ہے مگر عوام کے ووٹوں سے ہمیشہ محروم رہنے کے سبب صرف
کراچی کے مسائل پر بڑے بڑے جلسے ہی کرتی رہ جاتی ہے- |
|
نتیجے کے طور پر کراچی اس وقت ٹوٹی پھوٹی سڑکوں
، امن و امان کی بد ترین صورتحال اور بے روزگاری کا شکار ہے- |
|
کراچی کی
صورتحال پر آواز اٹھانے والا کراچی کا بیٹا |
زبانی طور پر تو ہم سب ہی بڑی بڑی باتیں کرتے
ہیں مگر عملی اقدامات کے لیے ہم میں سے کسی کے پاس وقت نہیں ہے اور ہم سب
اس بات کے خواہشمند ہیں کہ کوئی آئے جادو کا چراغ رگڑے اور کراچی پھر پہلے
جیسا ہو جائے اور جب اس حوالے سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کراچی کے لیے
کچھ کر سکتے ہیں تو ہم سمیت سب ہی بغلیں جھانکنے لگتے ہیں- |
|
مگر کراچی کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے 78
سالہ حامد علی ایک ایسے انسان ہیں جن کا عمل ہم سب کے لیے ایک مثال ہے- |
|
حامد صاحب پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ
ہیں اور اس وقت کراچی ڈاگیا نام کا ایک فیس بک پیج چلا رہے ہیں ان کا کراچی
کے مسائل کے حوالے سے ارباب اقتدار کی بند آنکھیں کھولنے کا طریقہ مثالی ہے- |
|
مسائل کو سامنے لانے کے لیے وہ کسی قسم کے جلسے
جلوسوں یا بھوک ہڑتال کرنے کے بجائے کراچی کے اس مسئلے کے حوالے سے ایک
تفصیلی ویڈيو انتہائی دھیمے لہجے کے ساتھ بناتے ہیں اور اس کو اپنے اکاؤنٹ
سے شئير کر دیتے ہیں۔ |
|
|
|
کراچی کا ڈرگ
روڈ کا انڈر گراونڈ برج |
حالیہ ویڈيو میں انہوں نے ڈرگ روڈ برج کی حالت
زار بیان کی یہ برج کچھ سال قبل ہی مکمل ہوا مگر اس میں پانی کی سیپیج کے
سبب اس کی دیواریں شدید نمی کا شکار ہیں- جس کی وجہ سے اس پل کی زندگی تیزی
سے کم ہو رہی ہے عوام کے پیسے سے بننے والا یہ پل کچھ رشوت خور ٹھیکیداروں
کی ملی بھگت سے بنا تو دیا گیا ہے مگر اس کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ
زيادہ دن نہیں چلے گا- |
|
حامد صاحب نے اپنی ویڈیو میں اسی مسئلے کی طرف
سب کی توجہ مبذول کروائی ہے- |
|
کراچی کو
لاوارث بنا دیا ہے |
اسی طرح حامد صاحب اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کراچی
میں موجود کچرے کے انبار کی ویڈيوز بناتے نظر آتے ہیں جن کو کوئی صاف کرنے
والا نہیں ہوتا ہے بعض جگہوں پر تو حامد صاحب نے احتجاجی پلے کارڈ ہاتھ میں
لے کر تصاویر بھی بنوائیں تاکہ ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈيا کی توسط سے ان کی
آواز کسی تک پہنچ جائے- |
|
سول سوسائٹی سے
اپیل |
اپنی ویڈيوز میں حامد صاحب بار بار کراچی کی
سول سوسائٹی سے اپیل کرتے نظر آتے ہیں کہ باہر نکلیں اور کراچی کو بچائيں
ورنہ کراچی برباد ہو رہا ہےتباہ ہو رہا ہے- جب ایک 78 سالہ بزرگ کراچی کے
لیے آواز اٹھا سکتا ہے تو باقی آبادی کیوں نہیں سوچیے گا ضرور کہ کچھ
احتجاج بغیر جلسے جلوسوں کے بھی کیے جا سکتے ہیں- |