نوبل پرائز برائے طبیعیات 2022

فزکس کے میدان میں ملنے والے نوبل پرائز 2022ء کے بارے میں ایک تحقیقی مضمون۔ فزکس کے میدان میں سب سے انوکھے مظہر"الجھاؤ" یا اینٹینگلمنٹ پر تحقیق اور نوبل پرائز تک پہنچنے کا ایک تاریخ وار ارتقائی جائزہ ۔

نوبل پرائز ٢٠٢٢ء برائے طبعیات
نوّے سالوں پر پھیلی ہوئی تحقیق کا تاریخ وار ارتقائی عمل
نوبل پرائز ٢٠٢٢ء برائے طبیعیات تین سائینس دانوں کو دیا گیا ہے ۔ یہ انعام ایک ایسے اچھوتے قدرتی مظہر کے موضوع پر دیا گیا ہے جو اپنے آپ میں بہت دلچسپ اور انوکھاہے ۔ اس موضوع پر بحث آئینسٹائین کے زمانے سے چلی آ رہی ہے ، بلکہ آئینسٹائن نے ہی اس مظہر کو دو اور سائینسدانوں کے ساتھ اپنے ایک مشترکہ لیکن غیر معروف پیپر میں شائع کیا تھا ۔ اس مظہرِ قدرت کو "اینٹینگلمنٹ" یا "الجھاؤ" کا نام دیا گیا تھا اور آئینسٹائن نے بورس پوڈولسکی اور نیتھن روزن کے ساتھ ١٩٣٥ء میں ایک غیر معروف پیپر" آئینسٹائن ۔پوڈولسکی پیراڈوکس" میں بیان کیا تھا۔ اس وقت آئینسٹائین نے اسے "ایک فاصلے پر پراسرار عمل" کہاتھا،۔۔۔ یعنی
"Spooky action at a distance”
آگے بڑھنے سے پہلے ہم آسان الفاظ میں اس مظہرِ قدرت کی وضاحت کر لیتے ہیں تاکہ بعد میں کوئی ابہام نہ رہے ۔

جب ذرات کا ایسا جوڑا پیدا کیا جاتا ہے جن کی کوانٹم اسٹیٹ الجھی ہوئی یا "اینٹینگلڈ" ہوں اور پھر اگران ذرات کو ایک بہت بڑے فاصلے پر رکھا جائے اور ان میں سے ایک ذرے کی کوانٹم اسٹیٹ کی پیمائش کر کے کوئی نتیجہ حاصل کیا جائے تو یہ نتیجہ دوسرے ذرے کی کوانٹمی حالت پر اسی وقت فوری اثر انداز ہو کر اس کی سپر پوزیشن کی حالت ختم کر کے اسے ایک نئی کوانٹم اسٹیٹ میں لے آتا ہے۔ گویا بہت دور ہونے کے باوجود اس عمل میں کوئی وقت نہیں لگتا۔ مثلاً اگر دو اینٹینگلڈ الیکٹران ایک فاصلے پر ہیں تو ایک الیکٹران کی حالت مشاہدے کے نتیجے میںاگر اپ اسپن ظاہر ہوتی ہے تو اسی وقت دوسرا الیکٹران ، چاہے کتنے ہی فاصلے پر ہو، ڈاؤن اسپن ہو جائے گا۔

گرین اسٹائن اور جاژونک (مصنف ،دی کوانٹم چیلینج) اس تصور کو سمجھانے کے لیے ایک مثال پیش کرتے ہیں- ایک بیس بال کو اگر کسی دیوار پہ مارا جائے جس میں دو کھڑکیاں ہوں تووہ دونوں کھڑکیوں میں سے ایک ساتھ گزر کر باہر نہیں جاسکتی-یہ وہ بات ہے جو ہر بچہ تک اپنے وجدان سے جانتا ہے- لیکن جیسا کہ ینگ ڈبل سلٹ تجربہ سے ظاہر ہے کہ ایک منفی برقیہ(الیکٹرون)، تعدیلی برقیہ(نیوٹرون)) یہاں تک کہ ایک ایٹم تک کے راستے میں اگر کوئی رکاوٹ ہو جس میں دو جھرِیاں (سلٹ) ہوں تو وہ ان دونوں میں سے ایک ساتھ گزر جائے گا! یہی مافوق الوقوعیت“ (سپر پوزیشن) ہے----یعنی دو جگہوں پر ایک ساتھ موجود ہونا-----”الجھاؤ“ کے مظہر سے پیوستہ ، کسی ذرے کےایک ساتھ کئی جگہ ہونے کے ناممکن ہونے کے خیال کو کوانٹم تھیوری نے چکناچور کر دیا-

لیکن ”الجھاؤ“ مزید اور ڈرامائی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ہمارے اس تصور کو توڑ کے رکھ دیتا ہے کہ جس میں ہم سمجھتے ہیں کہ فاصلہ یا مکانی دوری کوئی معنی رکھتی ہے- ” الجھاؤکو ”اصول ِ مافوق الوقوعیت “ (پرنسپل آف سپر پوزیشن) کے طور پہ بیان کیا جا سکتا ہے جس میں دو یا دو سے زیادہ ذرات( یا فوٹان) شامل ہوں- ”الجھاؤ“ دو یا دو سے زیادہ ذرّات کی حالتوں کی ”مافوق الوقوعیّت “(سپر پوزیشن) ہے جنہیں ایک نظام(سسٹم) کے طور پہ لیا گیا ہو- دوری یا فاصلہ کا تصور ، جیسا کہ ہم اسے جانتے ہیں ، ا یسے نظام کی رو سے ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے-دو ذرّات جو لاکھوں میل یا نوری سال بھی دور ہوں ایک کنسرٹ کی طرح کام کرتے ہیں-جو کچھ ایک کے ساتھ ہوتا ہے وہ دوسرےپر فوری اثر اندازہوتا ہے یعنی اگر ایک کی اسپن مشاہدہ کرتے وقت ڈاؤ ن ہے تو دوسرے کی اپ ہو گی، فوری طور پہ ، ان کے درمیان فاصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے، ا نکے درمیان دوری سے علی الرّغم اور وقت سے آزاد۔
آئینسٹائین کا گمانِ غالب تھا کہ الجھاؤ کوانٹم میکینکس کے لئیے موت کا پیام ثابت ہو گا ۔ کیونکہ وہ اضافیت کے اس اصول کے خلاف جاتا ہوا لگ رہا تھا جو بنیادی طور پر اطلاع کی رفتار کو روشنی سے زیادہ تیز رفتار نہیں مانتی ۔آئینسٹائن کو امید تھی کہ یہ بےتکا نظریہ اس راستے کا محض ایک پہلا قدم ہے جو منطقی طور مزید مکمل ہو کر کلاسیکی طبیعیات سے جا کر مل جائے گا ۔ اس کا خیال تھا کہ دو الجھے ہوئے یا اینٹنگلڈ الیکٹران مخالف چکر یا اسپن اس لیئے کرتے ہیں کیونکہ کچھ "پوشیدہ متغیر "( ہڈن ویری ایبل) ہیں جو اس مخالف اسپن کی وجہ بنتے ہیں ۔ چونکہ اس کے نظریہ اضافیت کی نفی ہو رہی تھی اس لیئے وہ پر امید تھا کہ کوئی راستہ نکلے جو اس نظریہ کی نفی نہ کرتا ہو۔دوسرے الفاظ میں اس کے خیال میں جو کچھ اتفاقی یا رینڈم پیمائیش کے نتیجے کے طور پر کوانٹم میکینکس میں نظر آتا ہے وہ دراصل ابھی تک ایک" نامعلوم متعیّن وضاحت " ہے جس کے نا معلوم ہونے کی وجہ سے ذرات کے درمیان رابطے کے بارے میں یہ ابہام پیدا ہواہے۔ یعنی کوانٹم مکینکس ابھی نا مکمل ہے۔ آئینسٹائن اپنے نظریہ کے مطابق اس عمل کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔۔لیکن یہ ہو نہیں سکا!

١٩٣٠ء میں اینٹینگلمنٹ ایک گرما گرم موضوع بحث تھا جو آئینسٹائین اور شروڈنگر ، نیل بوہر جیسے اونچے درجے کے سائنسدانوں کے درمیان جاری تھا ۔ کہ کائینات اپنی بنیاد میں کس طور کام کرتی ہے ۔ آئینسٹائن کا یقین تھا کہ حقیقت کے تمام پہلوؤں اور تناظر کے لئیے ایک ٹھوس قابلِ عمل ، معلوم طریقہ موجود ہونا چاہیے ۔۔۔فلکی اجسام سے لے کر فوٹان تک ۔۔۔۔۔ ایسی درست اور متعیّن خصوصیات ہونی چاہیئے جن کی پیمائش درستگی سے کی جا سکتی ہو ۔۔۔نہ کہ امکان سے۔ لیکن اس کے برعکس اس وقت کی ابھرتی ہوئی کوانٹم میکینکس کے محرکین ، شروڈنگر ، بوہر اور دوسرے حقیقت کو بنیادی طور پر غیر یقینی ظاہر ہوتا ہؤا پا رہے تھے ۔ یعنی ایک ذرہ کسی خاص خاصیت کا حامل ہی نہیں ہوتا ہے یا سپر پوزیشن میں ہوتا ہے، جب تک اس کی پیمائش نہ کی جائے ۔

١٩٦٤ ء میں جان اسٹیورٹ بیل نے اس بحث کو سمیٹنے کے لیے ایک تجربہ تجویز کیا ۔بیل نے حساب لگایا کہ اگر کائینات حقیقی طور پر کوانٹم میکانکی ہو تو اور اینٹینگلمنٹ پراسرار یا اسپوکی ہو ،جیسا کہ لگتا ہے، تو محور کی سوئیچنگ لازم و ملزوم اسپن کی پیمائش کی طرف زیادہ متعدّد بار جائے گی بمقابلہ کلاسیکل تھیوری کے ممکنہ حساب کے ۔ ان کی کوانٹم حالتیں آپس میں اتنی زیادہ متعمّل ہیں کہ پوشیدہ متغیّر ( ہڈن ویری ایبل)سے ان کی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔

١٩٧٢ء میںکلاؤزر اور فریڈ مین بیل کے تجربے کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے فوٹان کے الجھے ہوئے جوڑے بنائے اور انکی پولارائیزیشن کی سمت معلوم کرنے کے لیے عدسوں کا استعمال کیا ۔ اپنے تجربے کے نتائج سے بے خبر، کلاؤزر نے دو ڈالر کی شرط لگائی کہ اس کا تجربہ آئینسٹائن کو صحیح ثابت کرے گا ۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس تجربے کے نتائج نے بیل کی پیشگوئی کو صحیح ثابت کیا اورآئینسٹائن کو غلط ، وہ شرط ہار گیا۔لیکن کلاؤزر کا ثبوت اب بھی مضبوط نہیں تھا ۔ اس کے تجربہ میں عدسوں کی سمت مستقل (فکسڈ) تھی یعنی ایک پوشیدہ متغیر(ہڈن ویریبل) جو فوٹان کی پولارائیزیشن سے معاونت کرتا ہو کسی طرح عدسوں کی پوزیشن پر منحصر ہو تو آئینسٹائن کا خیال اب بھی درست ہو سکتا ہے۔

١٩٨٢ء میں ایلین اسپیکٹ کا تجربہ سامنے آیا ۔ س نے میں کئی تجربات کئیے جو بہت ہی نازک اور اعلیٰ درستگی کے حامل تھے ۔ اس تجربے میں عدسے کی سمت ایک سیکنڈ میں کروڑوں بار تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ جو کہ فوٹان کا ایمیٹر سے عدسے تک پہچنے کا وقت ہوتا ہے ۔ اس طرح عدسے کی ابتدائی سیٹنگ ختم ہو جاتی ہے اور کسی خفیہ طریقے سے پولارائیزیشن پر کوئی بھی اثر نہیں رہ سکتا ۔ اس طرح ایک بار پھر تجربے نے کوانٹم میکینکس کی حمایت کی۔

اب صرف ایک بہت باریک شک کو دور کرنا رہ گیا تھا ۔ یعنی کوئی ایسا خفیہ پروسس جو تجربے کی ابتداء میں فوٹان پرکسی طرح شروع ہو سکتا ہے جو عدسے پر اثرانداز ہوتا ہو ۔ یونیورسٹی آف ویانا میں اینٹن سائیلنگر کی تحقیق نے اس باقی رہ جانے والے شک کو بھی رفع کر دیا۔

٢٠١٧ءمیں کئیے جانے والے تجربے میں اس نے ایک ٹیم کی قیادت کی جس نے تجربے میں وہ فوٹان استعمال کئیے جو ہزاروں سال پہلے دور دراز ستاروں سے خارج ہوئے تھے اس طرح یہ شک بھی دور ہو گیا۔
نوبل پرائز کمیٹی کے رکن ہنس ہینسن نے حوالہ دیا:
" جو تجربات کلاؤزر اور اسپیکٹ نے کیے اس نے شروڈنگر کے بیان کی گہرائی تک طبیعیات کے سماج کی آنکھیں کھول دیں ہیں ۔ الجھے ہوئے یعنی اینٹنگلڈ ذرّات کو پیدا کرنے، ان کی پیمائش کرنے اور ان کی حالتوں میں ردوبدل کرنے کا ٹول فراہم کیا ہے ۔

کوانٹم انفارمیشن سائینس کا ایک متنوّع، ترقی پذیر اور متحرّک میدان ہے ۔ "اینٹینگلمنٹ " یا "الجھاؤ " کا اطلاق محفوظ اطلاعات کی ترسیل ، کوانٹم کمپیوٹنگ اور حساس آلاتِ پیمائش میں بہت اہم ہے ۔ اس نے ایک نئی سائنسی دنیا میں دروازہ کھول دیا ہے ۔ اور انسانی پیمائش کے فہم کی جڑیں ہلا دی ہیں۔اینٹینگلمنٹ یا الجھاؤ اب ابھرتی ہوئی کوانٹم ٹیکنالوجی کے طوفان کو توانائی دینے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔ زائیلنگر اس کے ابتدائی محاذ پر سرگرمِ عمل ہے ۔وہ ایسی حیران کن تکنیک کی ایجاد کرنے میں مصروف ہے جو کوانٹم نیٹ ورکنگ ، ٹیلی پورٹیشن اور کرپٹوگرافی میں انقلاب لائے گی ۔

 

Tariq Zafar Khan
About the Author: Tariq Zafar Khan Read More Articles by Tariq Zafar Khan: 8 Articles with 4182 views A enthusiastic reader and writer. Interested in new discoveries, inventions, innovations in science and their place and effect in society and religio.. View More