|
|
جن اللہ تعالیٰ کی بنائی گئی ایک مخلوق ہے جس کا ذکر
قرآن پاک میں بھی آیا ہے۔ اس کے اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے
اور اس کے برے اثرات سے بچنے کے لیے قرآن پاک اور سنت نبوی میں اس حوالے سے
مکمل رہنمائی موجود ہے- |
|
خواتین پر جن کےعاشق
ہونے کی داستانیں |
عام طور پر ایسی بہت ساری جھوٹی سچی کہانیاں پم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں
جس میں جن کسی بھی خوبصورت، کنواری لڑکی پر عاشق ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر
قبضہ کر لیتا ہے اور ایسا بعض اوقات کسی نوجوان نو بیاہتا دوشیزہ کے ساتھ
بھی ہوتا ہے- |
|
جس کے بعد اس لڑکی کو مختلف پیروں اور تعویز دینے والے بابوں کے پاس لے
جایا جاتا ہے اور وہ مرچوں کی دھونی اور مار پیٹ کے ذریعے اس لڑکی میں سے
جن نکالنے میں یا تو کامیاب ہو جاتے ہیں یا اس مد میں بھاری نذرانے وصول کر
کے پتلی گلی میں سے نکل جاتے ہیں- |
|
جن صرف ایشیائی عورتوں کو ہی کیوں پسند
کرتے ہیں؟ |
حالیہ دنوں میں یہ سوال کئی سوشل میڈیا ذرائع پر پوچھا گیا ہے کہ جن آخر
انگریز عورتوں پر کیوں عاشق نہیں ہوتے ہیں جب کہ وہ گوری چٹی بھی ہوتی ہیں
اور خوبصورت بھی ہوتی ہے- جب کہ اس کے مقابلے میں ہماری بچیوں پر جن بہت
شدومد سے عاشق ہونے کو بے تاب ہوتے ہیں- |
|
|
|
اس حوالے سے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں
عام طور پر نوجوان لڑکیوں کو جو زندگی گزارنی پڑتی ہے اس میں بہت کچھ ان کی
مرضی کے خلاف ہوتا ہے جس کے سبب وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں- |
|
تاہم مغربی معاشرے میں خواتین پر اس طرح کا دباؤ نہیں
ہوتا ہے اس وجہ سے ان کے اوپر نام نہاد جن بھی عاشق نہیں ہوتے ہیں- |
|
ماہرین
نفسیات کی روشنی میں |
عام طور پر جن نوجوان لڑکیوں یا خواتین کے
اوپر عاشق ہوتا ہے اور اسکی علامات کی طور پر آواز کا تبدیل ہو جانا، رویے
میں تبدیلی اور دورے پڑنے جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے- |
|
ماہرین نفسیات کے مطابق جب کسی عورت کا جوان لڑکی کو اس
کی خواہشات کے برخلاف بہت زيادہ دبایا جاتا ہے تو اس کے اندر ایک لاوا پکنا
شروع ہو جاتا ہے جو کہ اس صورت میں باہر آسکتا ہے کہ اس کا دماغ ایک جن
تراش لیتا ہے جس کے قبضے میں وہ خود کو دے دیتا ہے اور اس حالت کا نام جن
رکھ دیا جاتا ہے- |
|
|
|
معروف نفسیات
دان کی تحقیق |
معروف نفسیات دان ڈينیٹ ایل نے اس حوالے سے
لندن میں سال 2005 سے لے کر 2008 تک ایک طویل ریسرچ کی جس میں اس نے تقریباً
18 سے 80 سال تک کی عمر کے مختلف افراد پر تفصیل سے ریسرچ کی جن کا تعلق
مختلف مذاہب اور معاشرت سے تھا- ان افراد میں ایشیائی اور یورپی تمام
قومیتوں کے افراد شامل تھے جس کے بعد ان نے جو نتائج اخذ کیے وہ انتہائی
حیرت انگیز تھے- |
|
اس کا کہنا تھا کہ مشرقی معاشرے کے افراد کی
پرورش جس ماحول میں ہوتی ہے اس کے سبب ان کو بچپن ہی سے جن اور ایسے نادیدہ
مخلوقات کی موجودگی پر یقین سکھایا جاتا ہے جبکہ مغربی معاشرت میں اس کے
الٹ ہوتا ہے اور وہ ایسی کسی نادیدہ چیز پر یقین نہیں رکھتے ہیں- لہٰذا جب
مشرقی معاشرے کے لوگ زندگی کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اس دباؤ کے سبب
ایسی کسی نادیدہ مخلوق کے اثرات کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ مغربی معاشرے کے
لوگ ایسا کوئی یقین نہ ہونے کے سبب اس سے محفوظ رہتے ہیں- ڈينیٹ ایل کا یہ
بھی ماننا تھا کہ مشرقی افراد میں ان اثرات کا سبب کوئی جن نہیں بلکہ ان کے
نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں- |
|
جن ہر جگہ
موجود ہیں |
اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جن
انسانوں کی طرح اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ہے اور اس بات میں کوئی صداقت
نہیں ہے کہ جن صرف مشرقی معاشرے میں بھی پائے جاتے ہیں اور مغربی معاشرے
میں نہیں ہوتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جن جس طرح ایشائی خواتین پر قبضہ
کرتے ہیں اسی طرح انگریز عورتوں پر بھی قبضہ کرتے ہیں- اس لیے یہ ایک غلط
خیال ہے کہ جن انگریز عورتوں پر عاشق نہیں ہوتے ہیں- |