|
|
اس وقت ملک کی معاشی صورتحال شدید تنزلی کا شکار ہے۔
وزارت خزانہ خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں
پورٹ پر سیکڑوں کنٹینر پیاز اور ادرک کے سڑ رہے ہیں- مگر ان کو نکلوانے کے
لیے خزانے میں ڈالر موجود نہیں ہیں۔ بیرون ملک موجود سفارتی عملے کو گزشتہ
دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں یہ تمام ایسے حالات ہیں جو کہ ملک کو بہت
تیزی سے دیوالیہ والی جانب دھکیل رہے ہیں- |
|
دوسری طرف! |
دوسری طرف اس وقت ملک میں شادی ہال بھرے پڑے ہیں جہاں پر شادیاں منعقد کی
جا رہی ہیں سردی کے سبب مختلف برانڈز نے اپنے سردی کے سیزن کے نئے ڈيزائن
لانچ کیے ہیں جن کی خریداری کے لیے ان کے آؤٹ لیٹ خواتین سے بھرے پڑے ہیں-
بازاروں میں مہنگے ہونے کے باوجود چکن، انڈوں دودھ کسی بھی چیز کی مانگ میں
کوئی کمی نہیں آئی ہے ایسا لگ رہا ہے کہ عوام کے پاس کسی بھی چیز کی کمی
نہیں ہے- |
|
غریب ملک کی امیر عوام |
سوشل میڈيا کے سبب ملک بھر میں ہونے والی تقریبات کسی نہ کسی ذرائع سے سب
تک پہنچتی رہتی ہیں ایسی ہی ایک ویڈيو نے عوام کو حیران ہی کر دیا کہ ہم کس
ملک کے باسی ہیں جہاں پر کہا جا رہا ہے کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی
ہے- |
|
https://fb.watch/hxeenzkuxt/
ویڈیو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں |
|
اس تقریب کو دیکھ کر کہیں سے بھی یہ محسوس نہیں ہوتا ہے
کہ پاکستانی عوام ہے یہ تقریب راولپنڈی میں عتیق احمد کیانی (کیانی برادرز)
کے دوستوں کی جانب سے منعقد ہونے والی ایک مہندی تھی- |
|
مہندی کی اس ویڈيو کو اب تک پانچ لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں
اور ہزاروں کی تعداد میں اس کو شئير کیا جا رہا ہے جس کا آغاز مہنگی ترین
گاڑيوں میں عتیق احمد کے دوستوں کی آمد سے ہوتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ
وہ سب امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں- |
|
مہندی میں رونق میلے کے لیے گھوڑوں کا رقص
ڈھول والوں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ قوالی نائٹ کا
بھی ارینجمنٹ تھا- |
|
مگر جس چیز نے سب کو حیران کیا وہ اس تقریب میں ویلوں کی
صورت میں ہونے والی نوٹوں کی برسات تھی ہزار روپے، پانچ سو اور سو سو کے
نوٹ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ آسمان سے بارش کی طرح برس رہے ہیں- |
|
وہاں موجود قوال ان نوٹوں کو سمیٹنے کے لیے
بوریاں لائے تھے اور پھر بھی سمیٹنے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے- |
|
|
|
اس کے بعد انواع اقسام کے کھانے اور ان کی وافر
مقدار بھی اس بات کا ثبوت تھی کہ عتیق احمد کیانی نے بھی دوستوں کی
مہمانداری میں کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑی- |
|
خوشی کا یہ
اظہار اسراف کے زمرے میں |
شادی ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے جس کا اظہار ہر
بندہ اپنی حیثيت کے مطابق کرتا ہے مگر اس حوالے سے ہمارے مذہب میں اسراف سے
سختی سے روکا گیا ہے اور اس طرح نوٹوں کی برسات اسراف کے زمرے میں آتا ہے
کاش ہماری قوم ایسی خوشی کے موقع پر اس طرح کی ویڈيوز وائرل کرنے کے بجائے
ان لوگوں کا سوچ لیں جو کہ اس وقت معاشی مسائل کا شکار ہیں- |