میرے مرنے کے بعد میرے بیوی بچوں کو تنگ مت کرنا، ایک اور گھر کے سربراہ کا آخری خط جس نے ہر کسی کو رُلا دیا

image
 
موت ایک ازلی حقیقت ہے اور ہر انسان کو اس بات کا علم ہے کہ ایک نہ ایک دن اس نے مرنا ہے مگر اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لینے والا شخص یا خودکشی کرنے والا شخص بیک وقت بہادر اور بزدل ہوتا ہے۔
 
اپنے ہاتھوں اپنی جان لینا ایک آسان کام نہیں ہے اس وجہ سے ایسا کام کرنے والا بہت ہی دل گردے والا بندہ ہوتا ہے جب کہ دوسری طرف حالات کے سبب اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس سے ہار مان کر خودکشی کرنے والا بزدل بھی ہوتا ہے-
 
ملک میں پے درپے خودکشی کے بڑھتے واقعات
سال 2022 اس حوالے سے ایک بہت بدقسمت سال رہا کہ اس سال خودکشی کے بہت سارے ایسے واقعات سننے کو ملے جس میں گھر کے سربراہ نے صرف اور صرف معاشی مسائل کے سبب، قرض خواہوں کے مطالبات سے پریشان ہو کر اور ان کی رقم کی واپسی کی کوئی صورت نہ دیکھ کر خودکشی کر کے راہ فرار اختیار کر لی-
 
image
 
ایک اور شخص کی حالات کے ہاتھوں خودکشی
گزشتہ دنوں سوشل میڈيا پر ایک پوسٹ بہت تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک جوان شخص فیاض احمد کی لاش چھت سے لٹک رہی ہے جبکہ اس کے قدموں میں اس کی بیوی عروسہ اس کے پیر پکڑ کر بیٹھی گریہ کر رہی ہے-
 
خودکشی کرنے والے کا معافی نامہ
اس تصویر کے ساتھ پنسل سے لکھا گیا ایک معافی نامہ بھی تھا جو کہ خودکشی کرنے والے فیاض احمد نے اپنی بیوی عروسہ کے نام لکھا- جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ تحریر کیا کہ ان کا نام فیاض احمد ہے اور انہوں نے کچھ افراد کے پیسے دینے ہیں جس کی طاقت وہ نہیں رکھتے ہیں-
 
اس کے بعد انہوں نے ان قرض خواہوں کے فرداً فرداً نام لے کر ان سے درخواست کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیوی بچوں کو تنگ نہ کیا جائے ان کو ان کی زندگی جینے دی جائے- ان کو اس حد تک تنگ نہ کیا جائے کہ وہ بھی ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائيں-
 
اس کے بعد فیاض احمد نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے اس سے معافی مانگی اور اس کو وضاحت دی کہ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی حل نہ تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان کے مرنے کے بعد حرم اور ان کے بچوں کا خیال رکھنا-
 
image
 
معاشی حالات کے سبب ہونے والی خودکشیوں کا ذمہ دار کون؟
پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے جہاں پر اسلامی نظام قائم ہے تاریخ شاہد ہے کہ اسلامی حکمران ایسے ہوتے تھے جو سمندر کنارے ایک بکری کے بچے کی موت کی ذمہ داری بھی خود قبول کرتے تھے اور اللہ کی بارگاہ میں اس کو جوابدار سمجھتے تھے- یہ ایک حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو روزگار فراہم کرے اور اس ذمہ داری سے ناکام ہونے کی ذمہ داری قبول کرے-
 
فیاض احمد کی بیوہ اور بچے شوہر اور باپ کے مرنے کے بعد کس کے سہارے زندگی گزاریں گے۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ قرض خواہ اب ان کو تنگ نہیں کریں گے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ فیاض احمد کے بعد ان کی بیوی ایسا عمل نہیں دوہرائے گی-
 
یہ تمام سوالات ایسے ہیں کہ اگر ان کے جواب تلاش لیے جائیں تو دوبارہ کوئی فیاض احمد خودکشی جیسا فیصلہ نہیں کرے گا-
YOU MAY ALSO LIKE: