آپ کی بیٹی آپ پر بوجھ نہیں ہے، لڑکے والوں میں اگر ان 5 میں سے کوئی بھی چیز دیکھیں تو رشتے سے انکار کر دیں

image
 
بیٹی والوں کے لیے آج کے زمانے میں بیٹیوں کے رشتے کرنے ایک مشکل مرحلہ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر گھرانے بیٹیوں کے رشتوں کے لیے اپنے خاندان کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ ان کے ماضی اور مزاج سے وہ کسی نہ کسی حد تک آگاہی رکھتے ہیں- مگر بر کی تلاش میں فی زمانہ اکثر گھرانوں نے اب خاندان سے باہر رشتے دینے بھی شروع کر دیے ہیں۔ ایسے میں مختلف رشتے کروانے والے میرج بیورو سے رابطہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات بیچ کے لوگ بھی اس میں کام آتے ہیں-
 
جب کوئی اپنے گھرانہ اپنے بیٹے کے لیے رشتہ دیکھنے آتا ہے تو اپنا صرف اچھا رخ ہی بتاتا ہے اور اپنی کسی برائی اور کمزوری کی بھنک بھی لڑکی والوں کو لگنے نہیں دیتا ہے جبکہ لڑکی والے ہاتھ آئے رشتے کو ہاتھ سے نکل نہ جائے اس خدشے کے سبب جلد از جلد فیصلہ کر بیٹھتے ہیں اور لوگوں کی سنی سنائی بات پر یقین کرکے اپنے جگر کا ٹکڑا اجنبی لوگوں کو اس یقین کے ساتھ سونپ دیتے ہیں کہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائيں-
 
بیٹی کے رشتے سے قبل کچھ یاد رکھنے کی باتیں
یاد رکھیں آپ کے گھر بیٹھی بیٹی کی شادی آپ کی ذمہ داری ضرور ہے مگر وہ آپ کی ذمہ داری ہے بوجھ نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس کو سر پر سے بوجھ کی طرح اتار کر پھینکنے کے بجائے اچھی طرح سے لڑکے والوں کی کچھ باتوں کو صرف سن کر ماننے کے بجائے اس پر تحقیق ضرور کریں-
 
1: لڑکے کے ماضی حال سے آگاہی
ہمارا لڑکا اس کمپنی میں بڑے عہدے پر فائز ہے یہ وہ جملہ ہوتا ہے جو کہ لڑکے والے لڑکی والوں کو مرعوب کرنے کے لیے بولتے ہیں اور لڑکی والے زيادہ سے زيادہ چیک کر لیتے ہیں کہ لڑکا وہاں کام کرتا ہے یا نہیں- جبکہ حقیقت میں ان کو صرف یہ چیک نہیں کرنا چاہیے کہ لڑکا وہاں ملازمت کرتا ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کتنے عرصے سے وہاں کام کر رہا ہے- ہو سکتا ہے کہ لڑکے کو جم کر کام کرنے کی عادت نہ ہو اور ہر دو تین مہینوں کے بعد وہ نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتا ہو یا پھر اس ملازمت سے قبل کہاں ملازمت کرتا تھا اور وہاں سے اس نے ملازمت کیوں چھوڑی اور اس کا اپنے کام والی جگہ پر رویہ اور شہرت کیسی ہے- اگر وہ کاروبار کرتا ہے یا خاندانی کاروبار سے منسلک ہے تو اس کی حیثیت وہاں کیا ہے اگر اس انکوائری میں حوصلہ افزا جواب نہ ملیں تو اس رشتے کو قبول کرنے کے بجائے کسی اچھے رشتے کا انتظار آپ کو عمر بھر کی پریشانی سے بچا سکتا ہے-
 
image
 
2: ساس اور نندوں کا برتاؤ
شادی دو افراد کی نہیں بلکہ دو گھرانوں کا میل ہوتا ہے جس میں آپ کی بیٹی کا سب سے زيادہ واسطہ اس کی ساس اور نندوں سے پڑنے والا ہے جو شادی سے قبل تو واری صدقے ہو رہی ہوتی ہیں مگر شادی کے بعد ان کے رویے میں آنے والی تبدیلی آپ کی بیٹی کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہے- اس وجہ سے بظاہر رویے کو دیکھنے کے بجائے اپنے مشاہدے کو تیز کریں اور ان کے حوالے سے بھی تھوڑی اریب قریب کے لوگوں سے تحقیق کرنا ضروری ہے ان کے گھر کا ماحول ان کے گھر کی خواتین کا ماحول کے بارے میں آگاہی ضروری ہے اور اس میں کسی قسم کے شکوک کی صورت میں فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں-
 
3: پہلی بہو سے رویہ
کسی بھی گھرانے کے ماحول کی آگاہی اس بات سے بھی ہو سکتی ہے کہ ان کی پہلی بہو کو انہوں نے کیسے رکھا ہوا ہے اگر پہلی بہو ان سے خوش نہیں ہے اور اس کے ذمہ دار ان لوگوں کی بے جا پابندیاں اور کچ کچ ہے تو پھر یاد رکھیں ایسے لوگ آپ کی بیٹی کے لیے بھی ایسے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں- یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعض گھرانوں میں پہلی بہو بھی سسرال والوں کے ناک میں دم اپنے رویے کے سبب کر کے رکھتی ہے اس وجہ سے اس موقع پر سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے مکمل تحقیق کر نا ضروری ہے-
 
4: معاشی صورتحال
عام طور پر رشتہ کے لیے آنے والے لوگ سب اچھا ہے کہ پیغام دیتے نظر آتے ہیں ایسی صورت میں ان کی منہ کہی باتوں پر اعتبار کے بجائے اس بات کو جاننا زيادہ ضروری ہے کہ حقیقی طور پر اس گھرانے کے معاشی ذرائع کیا ہیں- کیوں کہ آنے والے وقت میں آپ کی بیٹی کی خوشی کا انحصار زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل پر ہوگا- لیکن اگر پورا گھر صرف ایک ہی شخص پر انحصار کرتا ہو جو کہ آپ کا ہونے والا داماد ہوگا تو پھر آپ کی بیٹی کی ساری زندگی ان معاشی مسائل سے الجھتے ہوئے ہی گزرے گی جو کہ اس کی زندگی کو نا آسودہ کر سکتے ہیں-
 
image
 
5: لالچی اور مطالبات کرنے والے افراد
آپ کی بیٹی نوکری کرتی ہے تو ہمیں اس کی نوکری جاری رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ، اس کی تنخواہ کتنی ہے نوکری کے علاوہ اس کو کیا کیا سہولیات ملی ہوئی ہیں یا پھر آپ جہیز میں بیٹی کو کیا کیا دیں گے یا ہمارے بڑے بیٹے کو سلام کرائی میں گاڑی یا بائک ملی تھی- یہ سب کچھ ایسی باتیں ہیں جو کہ منگنی کے بعد سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں- لہٰذا اگر منگنی کے بعد بھی آپ کے سامنے ایسے معاملات آئيں تو فیصلہ کرنے میں تاخیر نہ کریں اور نہ ہی یہ سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے کیوں کہ لوگ کچھ بھی کہیں زندگی گزارنا تو آپ کی بیٹی کو پڑے گا اس وجہ سے درست وقت پر فیصلہ کریں-
 
یاد رکھیں ! بیٹی کی شادی کسی ایک دن کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس کی زندگی بھر کا سوال ہے اور اگر آپ کی بیٹی اس فیصلہ کے لیے آپ پر انحصار کر رہی ہے تو اس کے مستقبل کی ذمہ داری آپ پر بہت بڑھ جاتی ہے- اس وجہ سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کیوں کہ اس فیصلے کے بعد پچھتاوا صرف آپ کی نہیں بلکہ بہت ساری زندگیوں کو برباد کر سکتا ہے-
YOU MAY ALSO LIKE: