|
|
بیٹی پرایا دھن ہوتی ہے یہ قول تو سب ہی نے سنا ہوگا اور
جس گھر میں بیری ہوتی ہے پتھر تو آتے ہی ہیں تو بیٹی والوں کے گھر میں رشتے
آنا تو عام سی بات ہے- مگر ان رشتوں کو قبول کرنے یا قبول نہ کرنے کا فیصلہ
والدین کے ہاتھ میں ہوتا ہے جن کی کچھ ترجیحات انہوں نے مقرر کی ہوتی ہے-
جن میں سے ایک اپنی بیٹی کا رشتہ کسی دوسرے شہر میں نہ کرنے کا فیصلہ بھی
ہوتا ہے- |
|
دوسرے شہر
یا ملک میں رشتہ نہ دینے کے اسباب |
کچھ والدین کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ بیٹی کی
شادی کر کے وہ پہلے ہی خود سے دور کر دیں گے لیکن اگر ان کی بیٹی ان سے دور
کسی دوسرے شہر یا ملک میں چلی جاۓ گی تو وہ اس کی اتنی دوری برداشت نہیں کر
سکیں گے- اس وجہ سے کچھ والدین بیٹی کے آنے والے مناسب ترین رشتوں کو بھی
صرف اس وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں کہ لڑکا کسی دوسرے شہر یا ملک میں سیٹل ہوتا
ہے- اس حوالے سے ان کے دل میں جو خدشات ہوتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہوتے ہیں- |
|
بیٹی اجنبی
ماحول میں سیٹل نہیں ہو پائے گی |
والدین کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ بیٹی کسی نئے
گھر میں تو سیٹل ہو جائے گی مگر نئے شہر یا نئے ملک میں اس کو سیٹل ہونے
میں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ایسے وقت میں والدین سے دور
ہونے کے سبب اس کو ان مسائل کا سامنا کرنے میں بھی مشکل ہو سکتی ہے- |
|
|
|
اس کی دکھ تکلیف میں اس
کی مدد نہیں کر پائيں گے |
والدین کے دل میں یہ بھی خدشہ ہوتا ہے کہ اگر خدا
نخواستہ بیٹی کسی تکلیف میں مبتلا ہوئی تو ایسے وقت میں وہ اس سے بہت دور
ہونے کے سبب اس کی کوئی مدد نہیں کر پائيں گے اور بیٹی کی اس لاچارگی کے ڈر
کے سبب وہ اس کو کسی دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں- |
|
ہمارے دکھ اور خوشی میں
شریک نہیں ہو پائے گی |
بیٹی کے رخصت کے وقت والدین بڑھاپے کے دھانے پر ہوتے ہیں
اس وقت میں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی دکھ بیماری پریشانی یا خوشی کے
موقع پر ان کے بچے ان کے ساتھ ہوں- اس وجہ سے اکثر والدین اپنی بیٹیوں کو
خود سے دور کرنے سے ڈرتے ہیں کہ ایسے کسی وقت میں مسافری ان کی بیٹی کو بہت
تڑپا سکتی ہے اور وہ بھی اس کی کمی محسوس کریں گے اس وجہ سے بھی اکثر
والدین بیٹی کو دور بھیجتے ڈرتے ہیں- |
|
دوسرے ممالک
کے ہولناک واقعات ڈرا دیتے ہیں |
جس طرح پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتی ہیں
اسی طرح سب لوگ بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مگر کسی ایک کے ساتھ ہونے والے برے
تجربات دوسرے افراد کو اس حوالے سے خوفزدہ ضرور کردیتے ہیں-
باہر کے ملک میں سیٹل لڑکے کے بارے میں صرف دور دراز کی باتیں سن کو بیٹی
دینے والوں کے ساتھ ہونے والے ہولناک واقعات کے قصے بھی والدین کو ڈرا دیتے
ہیں اس وجہ سے والدین ایسے کسی بھی فیصلے کو کرنے سے قبل خوف کا شکار ہو
جاتے ہیں- |
|
|
|
یاد رکھیں ! کچھ فیصلے تقدیر کے بھی ہوتے ہیں
مگر انسان کے بس میں تدبیر کرنا ہوتا ہے اس وجہ سے اگر آپ بیٹی کا رشتہ
کرنے جا رہے ہیں تو لڑکا آپ کے شہر کا ہوی ا دوسرے شہر اور ملک کا آپ اس کے
حوالے سے بہترین ترین تدبیر کریں- |
|
آج کل کے دور میں انٹرنیٹ کے اس دور میں کسی سے
بھی ملاقات کرنا بہت آسان ہے اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھا رشتہ ہے اور
اس کو صرف دوری کی وجہ سے ٹھکرا رہے ہیں تو اس فیصلے کو کرنے سے قبل ایک
بار ضرور سوچ لیں کیونکہ بیٹی کے نصیب میں اگر مسافری ہوئی تو اس کو آپ روک
نہیں سکیں گے اس وجہ سے کسی اچھے رشتے کو نہ ٹھکرائیں تو بہتر ہے- |
|