بغیر پیروں والی بچی کو والدین تک نے اپنانے سے انکار کردیا، لیکن ایسا کیا ہوا کہ یہی بچی اس وقت لاکھوں روپے ماہانہ کما رہی ہے

image
 
وہ 13 ستمبر 1992 کی ایک رات تھی جب تھائی لینڈ کے ایک ساحلی مندر میں بیٹھے بھکشوؤں کو کسی نومولود بچے کے رونے کی آواز نے اپنی جانب متوجہ کیا آواز کے تعاقب میں وہ جب دروازے تک آئے تو دروازے کے پاس ایک کمبل نما گٹھری میں سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں-
 
مندر کے بھکشوؤں نے اس بچی کو گود میں لے کر ارد رد گلیوں میں جاکر دیکھا کہ جس کی بچی ہو اس کے حوالے کر دیں مگر رات کی اس تاریکی میں سنسان پڑی گلیوں میں انہیں کوئی نظر نہ آیا- یہاں تک کہ انہوں نے قرب و جوار کے لوگوں سے بھی پوچھنے کی کوشش کی مگر جواب نفی میں ہی ملا -
 
بغیر پیروں کی معذور بچی
مندر میں واپس آنے کے بعد جب انہوں نے اس بچی کا کمبل کھول کر دیکھا تو ان کو اس بچی کے والدین کی جانب سے مندر کے دروازے پر رکھنے کی وجہ بھی سمجھ آگئی- بچی کی دونوں ٹانگيں پیدائشی طور پر نہیں تھیں اور اس کی اسی معذوری کو دیکھتے ہوئے اس کے والدین نے اس کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اس کو مندر کے دروازے پر چھوڑ دیا-
 
بچی کے والدین کی تلاش کا سفر
بچی کی اس معذوری کو دیکھ کر بھکشو اس سے پیار کیے بغیر نہ رہ سکے انہوں نے اس کو کنایہ سیسر کا نام دیا اور انہوں نے ایک سال تک اس کی پرورش کی مگر اس کے بعد اس کو بنکاک کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا-
 
image
 
بھکشوؤں کی خواہش تھی کہ ہسپتال میں ایک جانب تو اس بچی کے خون کے نمونوں کی مدد سے اس کے والدین کی تلاش کی جا سکے اور دوسری جانب یا تو ہسپتال والے اس بچی کو نقلی ٹانگیں لگا کر اس کو چلنے پھرنے کے قابل کر دیں یا پھر اس کو اسی معذوری کے ساتھ جینا سکھا دیں-
 
پانچ سال کی عمر تک کنایہ اسی ہسپتال میں رہی مگر اب ہسپتال انتظامیہ بھی اس کو رخصت کرنا چاہتی تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ مندر صرف مردوں کے لیے تھا اس وجہ سے اس مندر میں کنایہ کو لے جانا ممکن نہ تھا- یہ صورتحال کنایہ کے لیے انتہائی پریشان کن تھی مگر اس کے بعد ایک معجزہ ہوا جس نے کنایہ کی زندگی کو مکمل بدل کر رکھ دیا -
 
امریکی بے اولاد جوڑے کی خواہش
اسی دوران امریکہ سے تعلق رکھنے والا ایک بے اولاد جوڑا بچے کو گود میں لینے کے لیے تھائی لینڈ آیا تو انہیں کسی ذرائع سے کنایہ کے بارے میں پتہ چلا تو وہ فوری طور پر اس کو گود لینے کے لیے تیار ہو گئے-
 
عام طور پر امریکہ میں ایسے معذور بچوں کے والدین کو حکومت کی جانب سے بہت سہولیات ملتی ہیں جس کی وجہ سے بھی یہ جوڑا کنایہ کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہوئے تمام قانونی کاروائی پوری کر کے اپنے ساتھ لے گیا-
 
جسمانی معذور مگر ذہنی طور پر تیز
یہ امریکی جوڑا پانچ سالہ کنایہ کو امریکی ریاست آرنگون کے شہر پورٹ لینڈ لے کر آگیا- جہاں کنایہ کو اسکول میں داخل کروایا گیا جہاں اس نے فوری طور پر امریکی لہجے میں امریکی زبان فوراً سیکھ لی بلکہ اپنی ذہانت اور قابلیت سے سب لوگوں کو اس حد تک حیران کر دیا کہ اس کی ذہانت کے چرچے پورے امریکہ میں ہونے لگے-
 
معذوری کے باوجود کنایہ فٹ بال ،سوئمنگ ،سکیٹ بورڈنگ، ٹینس، رگبی، ریسنگ، بریک ڈانسنگ اور ماڈلنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ رکھتی تھی اور اسکول میں ہونے والے ان مقابلوں میں پہلی پوزيشن لینے لگی جس کے بعد اس جیت کا سلسلہ شہر کے اندر ہونے والے مقابلوں تک بھی پھیلتا چلا گیا -
 
جس کی وجہ سے اس کی شہرت مختلف کھیل کے سامان بنانے والے برانڈ تک پہنچی اور انہوں نے کنایہ کو اپنے اشتہارات میں ماڈلنگ کروانی شروع کر دی جس سے اس کی شہرت پوری دنیا میں پھیلتی چلی گئی-
 
image
 
کبھی نہ تھکنے والی لگن
اتنی کامیابیوں کے باوجود کنایہ کی جدوجہد کو قرار نہیں ہے وہ اس وقت جنوبی کوریا میں مونو سکینگ کی ٹریننگ لے رہی ہے جو کہ انتہائی دشوار کھیل ہے جس میں برف جمے پہاڑ سے اسکینگ کر کے وادی تک آیا جاتا ہے اور جس کے مقابلے جنوری میں ہونے ہیں اور کنایہ ان مقابلوں میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہے-
 
کامیابی کے باوجود اپنے اصل کو نہ بھولنا
اس وقت کنایہ ماہانہ 30 ہزار ڈالر تک کما رہی ہیں جو پاکستانی روپے میں 67 لاکھ روپے ماہانہ ہے اس خطیر رقم سے کنایہ نہ صرف اپنے امریکی والدین کی مدد کرتی ہے بلکہ یہ رقم تھائی لینڈ میں موجود اس مندر میں بھی بھیجتی ہے جس کی وجہ سے آج وہ اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکی-
 
معذوری کمزوری نہیں بلکہ ہمت ہے
کنایہ کا یہ کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ لوگ اسے کس طرح ہمدردی کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ ان کے لیے اہم یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہیں- ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللہ نے اگر مجھے ٹانگیں نہیں دی ہیں تو اس کی جگہ پر بے انتہا ہمت اور طاقت دی ہے اس وجہ سے ان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ معذوری ان کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی طاقت ہے-
 
YOU MAY ALSO LIKE: