رائیگانی کا سفر

کوئی خاتون کنجوسی اور بخالت کی حد تک کفایت شعار تھیں کھانے پینے کی چیزوں میں ذرے ذرے اور قطرے قطرے کا حساب رکھتی تھیں کہ کچھ فالتو خرچ نہ ہو ضائع نہ جائے ۔ گھر میں کبھی کسی دعوت ضیافت اور تہوار منانے کا رواج نہ تھا نہ کسی آئے گئے کو چائے پانی پوچھنے کا تکلف ۔ ان کی اس عادت کا سبھی کو علم تھا کبھی کوئی رشتہ دار بھولے بھٹکے آ نکلتا تو کوئی خصوصی اہتمام نہیں بس جو کچھ گھر میں موجود ہو وہی حاضر ۔ ماری ماری پھر کر گھر کے لئے سستی اشیاء ڈھونڈ کر لاتیں ۔ جو محنت مزدوری وہ گھر میں رہتے ہوئے کر سکتی تھیں وہ ضرور کرتیں اور چار پیسے بچانے کے ساتھ بنانے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ۔ شوہر ایک بلدیاتی محکمے میں معقول ملازمت پر فائز تھے مگر پوری فیملی پر روکھی سوکھی کھانے اور موٹا جھوٹا پہننے والی مثال صادق آتی تھی جس کا سہرا اِنہی کے سگھڑاپے کے سر بندھتا تھا ۔ کبھی کوئی بیماری آزاری آ جاتی تو پوری کوشش ہوتی تھی کہ گھریلو ٹوٹکوں سے کام چلا لیا جائے ڈاکٹر کے پاس نہ جانا پڑے ۔

بس اسی طرح اپنے من کو مار مار کر اور اپنی جان پر جھیل کر انہوں نے اتنی بچت کر لی کہ اپنے بڑے بیٹے کو یورپ بھجوا دیا ۔ پھر ترسیل زر ہونے لگی تو بےحد خستہ حال سے گھر میں آسائشات و تعیشات کا رنگ جھلکنے لگا مگر اس ازلی کفایت شعاری اور جُز رسی کی جھلک بدستور موجود تھی ۔ پھر جانے کتنے جتن کر کے انہوں نے کسی وقت لے کر ڈالے ہوئے پلاٹ پر مکان بنوانا شروع کیا باقی بچے بھی پڑھ لکھ کر نوکریوں پر لگتے گئے باہر کی کمائی بھی آتی رہی اور ایک روز سب اپنے نئے وسیع و عریض عالیشان مکان میں منتقل ہو گئے ۔

نئے مکان میں بھی وہ ایک ایک کمرہ چیک کرتی پھرتیں کہ کہیں کوئی لائٹ یا پنکھا فالتو تو نہیں چل رہا ۔ باتھ رومز میں جا جا کر دیکھتیں کہ کہیں کوئی نل ٹپک تو نہیں رہا ۔ کچن میں پورا دھیان رکھتیں کہ کسی بھی اشیائے خور و نوش کا کوئی زیاں نہ ہو کوئی عیاشی والا معاملہ نہ ہو ۔ بجلی پانی گیس ہر سہولت کا استعمال ناپ تول کر ۔ غرض ایک سزا تھی جو اتنی فراغت اور فراخی کے دور میں بھی خود انہوں نے اپنے اوپر مسلط کر رکھی تھی ۔ پھر ان کے تعمیر کیے گئے ان کے اصولوں اور ضابطوں کے فولادی قلعے میں پہلی دراڑ تب پڑی جب بڑے پردیسی بیٹے کی کمائی سے انہوں نے منجھلے بیٹے کا بیاہ رچایا اور بہو گھر میں آئی اور اس نے ان کی راجدھانی میں اپنے راستے کی ہر رکاوٹ کو تاراج کیا سارا نظام تہس نہس کیا ۔ دن رات اے سی چلاتی کمرے کی لائٹ پنکھا گھنٹوں فالتو چلتا رہتا نہانے دھونے جاتی تو دل کھول کر پانی بہاتی کچن میں جو مرضی تباہی مچاتی ۔ بڑے گھر کی بیٹی تھی اور اپنے میاں کی من پسند ، خاتون کو خاموشی تماشائی بننا پڑا مگر اپنی خُو نہ بدلی جتنا اُن کا بس چلا اپنی جان کو ضیق میں ڈالے رکھا ۔

پھر انہی حالات میں دوسری بہو آئی پھر تیسری ۔ بچے بھی ہوتے گئے پورے گھرانے میں خوشحالی اور مالی آسودگی کا دور دورہ تھا جو اُن سبھوں کو بغیر کسی محنت اور قربانی کے میسر تھا ۔ محروم تھا تو سمندر پار بسا وہ بڑا بیٹا جو ہنوز کنوارا تھا اور اپنے پورے پریوار کا کفیل بنا ہوا تھا ۔ اور وہ ماں جس نے اپنے اوپر کوئی جبر یا دباؤ نہ ہونے کے باوجود ساری زندگی ذہنی آسودگی کو خود پر حرام کیے رکھا ۔ بہوؤں کا جینا حرام کرنا اُس کے نصیب میں نہیں تھا ۔ ساری زندگی تنکا تنکا جوڑ کر جو آشیانہ بنایا تھا اس پر پرائی بیٹیوں کا راج تھا جسے دیکھ دیکھ کر کُڑھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔ عمر بھر انتھک محنت اور چیک اینڈ بیلینس کے ساتھ ساتھ خود اپنی زندگی میں بھی کوئی توازن اور اعتدال رکھا ہوتا اور اولاد کے درمیان عدل تو یہ سفر یوں رائیگاں نہ جاتا ۔

رعنا تبسم پاشا
About the Author: رعنا تبسم پاشا Read More Articles by رعنا تبسم پاشا: 237 Articles with 1920552 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.