ایمانداری کی روشنی

اس مختصر سی کہانی میں دفتروں میں محنت اور ایمانداری سے کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور کام چوری سے احتراز کرنے کا درس دیا گیا ہے

ایمانداری کی روشنی

ریاض ایک سرکاری دفتر میں کلرک تھا۔ ابتدا میں، وہ کام میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ دفتر میں دیر سے آنا، کام کو غیر ضروری تاخیر کا شکار کرنا، اور وقت گزارنے کے بہانے ڈھونڈنا اس کی عادت بن چکی تھی۔ جب بھی کوئی فائل اس کے پاس آتی، وہ کہہ دیتا، "کل آ کر لے جانا، ابھی بہت مصروف ہوں۔" اس کی لاپرواہی کی وجہ سے لوگ پریشان رہتے، اور دفتر کا کام متاثر ہوتا تھا۔

ایک اہم سبق

ایک دن ایک بزرگ شخص دفتر میں آیا، جن کی پنشن کئی ماہ سے رکی ہوئی تھی۔ وہ بڑی امید کے ساتھ ریاض کے پاس آیا اور فائل اس کے سامنے رکھ دی۔
"بیٹا، میں کئی دنوں سے چکر لگا رہا ہوں، مہربانی کرکے میرا کام آج ہی کر دو۔"
ریاض نے فائل کو ایک طرف رکھا اور کہا، "بابا جی، ابھی میرے پاس وقت نہیں، کل آ جائیے۔"

بزرگ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ دھیمی آواز میں بولے، "بیٹا، تمہاری ایک دستخط میرے کئی مہینوں کے انتظار کو ختم کر سکتی ہے۔ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا، تو کیا میں تمہیں اسی طرح انتظار کراتا؟"

یہ سن کر ریاض چونک گیا۔ اس نے پہلی بار سوچا کہ اس کی لاپرواہی دوسروں کے لیے کتنی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ اس دن کے بعد اس نے اپنا رویہ بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔

بدلاؤ کی ابتدا

اب ریاض دفتر وقت پر آتا، دل لگا کر کام کرتا اور ہر آنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا۔ جو فائلیں پہلے کئی دنوں تک اس کے پاس پڑی رہتی تھیں، اب وہ انہیں فوراً مکمل کر کے آگے بھیج دیتا تھا۔ اس کی ایمانداری اور محنت کی بدولت دفتر میں بہتری آنا شروع ہو گئی۔

کچھ مہینے بعد، دفتر کے سربراہ نے ایک میٹنگ میں کہا، "مجھے خوشی ہے کہ ریاض جیسے ایماندار ملازمین ہمارے ساتھ ہیں، جو عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔" اس تعریف کے بعد ریاض کو ترقی دے دی گئی، اور اس کا شمار بہترین ملازمین میں ہونے لگا۔

سبق:

ایمانداری اور محنت ہمیشہ انسان کو عزت اور ترقی دلاتی ہے۔

کام چوری اور لاپرواہی نہ صرف دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ خود انسان کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو دیانت داری سے نبھائے تو معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

Iftikhar Ahmed
About the Author: Iftikhar Ahmed Read More Articles by Iftikhar Ahmed: 57 Articles with 44755 views I am retired government officer of 17 grade.. View More