آغازِ وحی سے شعبِ ابی طالب تک: اہم واقعات و مراحل

ازقلم: ثانیہ بنتِ سعید
طالبہ جامعہ اسلامیہ حنفیہ، شعبہ درسِ نظامی (دورۃ الحدیث)
حضور خاتم النبیینﷺ کی مقدس زندگی نزول وحی اور اعلان نبوت سے پہلے بھی تمام عیوب اور نقائص سے پاک تھی، چنانچہ اعلان نبوت کے بعد آپﷺ کے دشمنوں نے انتہائی کوشش کی کہ آپ ﷺ کی خوبصورت سیرت میں کوئی داغ لگا سکیں لیکن کفارنے ہمیشہ ناکامی ہی پائی، بلا شبہ حضور خاتم النبیینﷺ کا کردار انسانیت کا ایک ایسا محیر العقول اور غیر معمول کردار ہے جوحضور خاتم النبیینﷺکے سوا کسی دوسرے کے لیے ممکن ہی نہیں اور حقیقت شناس لوگ فطرتِ عقیدت سے آپﷺکے حسنِ صداقت پر اپنی عقلوں کو قربان کر کے آپ کے بتائے ہوئے اسلامی راستے پر عاشقانہ اداؤں کے ساتھ زبان حال سے یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ:
چلو وادی عشق میں پابرہنہ!
یہ جنگل وہ ہے جس میں کانٹا نہیں ہے
جب حضور خاتم النبیینﷺ کی مقدس زندگی کا چالیسواں سال شروع ہوا، آپﷺخلوت میں بالخصوص غارِ حرا میں اللہ کا ذکر کرتے، عبادت کرتے، اپنی قوم کے بگڑے ہوئے حالات کے سدھار اور اس کی تدبیروں کی سوچ بچار میں مصروف رہتے اور ان ایام میں آپ کو کثرت سے ایسے خواب نظر آنے لگے جس کی تعبیر صبح صادق کی طرح روشن ہو کر ظاہر ہوتی۔

نُزولِ وحی کا آغاز:
ایک دن حضور خاتم النبیین ﷺ غار حرا میں عبادت میں مشغول تھے کہ غار حرا میں حضرت جبرائیل تشریف لائے۔ حضرت جبرائیل اللہ کا پیغام انبیاء اور رُسُل تک پہنچاتے رہے ہیں۔ آپ نے حضور خاتم النبیین ﷺ سے عرض کی، اِقْرَاْ (پڑھیں)۔ حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِی (میں پڑھنے والا نہیں)،حضرت جبرائیل نے دوسری مرتبہ عرض کی، آپ ﷺ نے وہی جواب دیا، پھر تیسری مرتبہ عرض کی اور آپ ﷺ کے سینے لگ کر اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ • خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ• اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ • الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ • عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ •
پڑھیں اپنے رب کے نام سے، جس نے پیدا کیا۔انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔ پڑھیں اور تمہارا رب ہی سب سے زیادہ کرم کرنے والا ہے۔جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (سورۃ العلق)
حضور خاتم النبیین ﷺ پر وحی الٰہی کی کیفیت طاری ہوگئی۔جب آپ ﷺ غارِ حرا سے اپنے گھر کی جانب تشریف لے گئے تو آپﷺ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کملی اڑاؤ، مجھے کملی اڑاؤ پھر جب وحی کی کیفیت ختم ہو گئی تو حضرت خدیجہ آپﷺ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ حضرت خدیجہ نے ورقہ بن نوفل سے کہا کہ آپ حضور خاتم النبیین ﷺ کی بات سماعت کریں، پھر آپﷺ نے غارِ حرا کا مکمل واقعہ بیان کیا، جس کو سن کر ورقہ بن نوفل نے کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسی کے پاس آیا تھا، پھر ورقہ بن نوفل کہنے لگے کہ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپﷺ کی قوم آپﷺ کو مکہ سے ہجرت پر مجبور کردے گی، یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا مکے والے مجھے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیں گے؟ تو ورقہ بن نوفل نے کہا؛ جی ہاں! جب بھی کوئی نبی اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیغام لے کر آیا ہے، تو لوگ اس نبی کے دشمن بن گئے۔

دعوتِ اسلام کا پہلا دور:
ابتداء حضور خاتم النبیینﷺ انتہائی حکمتِ عملی اورپوشیدہ انداز کے ساتھ تبلیغِ اسلام کا فرض ادا فرماتے رہے اور عورتوں میں سب سے پہلے حضرت بی بی خدیجہ ، آزاد مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ، غلام مردوں میں سب سے پہلے زید بن حارثہ اور کم سن لڑکوں میں سب سے پہلے حضرت علی ایمان لائے۔
حضور خاتم النبیین ﷺ کے رفیق ، امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق بھی آپ ﷺ کی نبوت کا پیغام عام کرنے لگے اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے حضرت عثمان، حضرت زبیر بن عوام ،حضرت عبداللہ بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ بھی ابتدائی دور میں دامن اسلام سے وابستہ ہو گئے۔

دعوتِ اسلام کا دوسرا دور:
تین برس کی حکمتِ عملی اورپوشیدہ انداز کے ساتھ تبلیغِ اسلام سے مسلمانوں کی ایک جماعت تیار ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ پر سورۃ الشعراء کی آیت نمبر 214 کا نزول فرمایا:
وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ
اے حبیبﷺ اپنے قریبی خاندان والوں کو عذاب سے ڈرائیں
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ِکریمہ نازل ہو ئی تو نبی کریمﷺ کوہِ صفا پر چڑھے اور آپ نے آواز دی اے بنی فہر،اے بنی عدی، قریش کی شاخو!یہاں تک کہ تمام لوگ جمع ہو گئے اور جو خود نہ جا سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ آکر بتائے کہ بات کیا ہے۔ابو لہب بھی آیا اور سارے قریش آئے۔ (جب سب جمع ہو گئے تو) آپﷺ نے فرمایا؛ اگر میں آپ لوگوں سے کہوں کہ وادی کے اس طرف ایک لشکر ِجَرّار ہے جو آپ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا آپ مجھے سچا جانو گے؟سب نے کہاک؛ ہاں! کیونکہ ہم نے آپ سے ہمیشہ سچ بولنا ہی سنا ہے۔ رسولُ اللہﷺ نے ارشاد فرمایا؛ میں آپ لوگوں کو قیامت کے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو سب کے سامنے ہے۔ یہ سن کر ابو لہب (نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے)بکواس کرتے ہوئے کہنے لگا؛ کیا ہمیں اسی لئے جمع کیا ہے؟اس وقت یہ سورت نازل ہوئی:
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ
ترجمہ: ابو لہب کے دونوں ہاتھ (جو حضورﷺ کی گستاخی کیلئے اٹھے) تباہ ہوجائیں اور وہ تباہ ہوہی گیا
(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الشعراء، الحدیث: 4770)
دعوتِ اسلام کا تیسرا دور:
اللہ تعالیٰ نے سورہ حجر کی آیت نمبر 94میں حکم فرمایا:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ
اے حبیبﷺ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کو اعلانیہ بیان کریں

اعلانیہ تبلیغِ اسلام پرکفار بھی اعلانیہ مخالفت کرنے لگے۔ حضور خاتم النبیینﷺ اور تمام مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے سے روکا جانے لگا۔ کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو ستانا شروع کردیا تھا، عبادت میں خلل ڈالنا شروع کردیا تھا، یہاں تک کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی شان میں بے ادبی
اور گستاخی بھی کی جانے لگی، مگر اتنے ظلم و ستم کے باوجود بھی ایک مسلمان بھی اسلام سے منہ پھیر کر مرتد نہیں ہوا۔

قریش کا وفداور جناب ابو طالب:
کفار کے کچھ لوگ صلح پسند بھی تھے وہ چاہتے تھے کہ بات چیت کے ذریعے معاملات طے ہو جائیں، چنانچہ قریش کے چند لوگ جناب ابو طالب کے پاس آئے اور آپﷺ کی دعوتِ اسلام اور بت پرستی کے خلاف تقریروں کی شکایت کی جناب ابو طالب نے ان کو نہایت نرمی کے ساتھ سمجھا کر رخصت کر دیا۔ دوسری جانب حضور خاتم النبیینﷺ علی الاعلان شرک و بت پرستی کی مذمت اور دعوتِ توحید کا وعظ فرماتے رہے، قریش کا غصہ پھر بھڑک اٹھا، اس کے بعدتمام سردارانِ قریش پھر سے جناب ابو طالب کے پاس آئے، اہلِ قریش کے جذبات کو دیکھتے ہوئے جنابِ ابو طالب نے آپﷺ سے بات کی، تو حضور خاتم النبیینﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر قریش میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے ہاتھ میں سورج لا کر رکھ دیں، تب بھی میں اپنے اس فرض سے باز نہ آؤں گا یا تو اللہ اس کام کو میرے ذریعے پورا فرما دے گا یا میں خود دینِ اسلام پر نثار ہو جاؤں گا-

شعبِ ابی طالب:
اعلان نبوت کے ساتویں سال جب کفار مکہ نے یہ دیکھا کہ روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حضرت حمزہ اور حضرت عمر جیسے بہادرانِ قریش بھی دامنِ اسلام سے وابستہ ہوگئے ہیں، تو تمام سردارانِ قریش اور مکے کے دوسرے کفار نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ حضور خاتم النبیینﷺ اور آپ کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے، ان کو کسی تنگ جگہ میں قید کر کے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تاکہ یہ لوگ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائیں، پھر تمام قریش نے آپس میں معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم کے خاندان والے معاذ اللہ حضور خاتم النبیینﷺ کو قتل کیلئے ہمارے حوالے نہ کردیں، تب تک:
1۔کوئی شخص بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے
2۔ کوئی شخص ان لوگوں کے ساتھ کسی قسم کے سامان کی خرید و فروخت نہ کرے
3۔ کوئی شخص ان سے میل جول،سلام و کلام اور ملاقات و بات نہ کرے
4۔ کوئی شخص ان کے پاس کھانے پینے کا سامان نہ جانے دے
منصور بن عکرمہ نے اس معاہدے کو لکھا اور پھر تمام سردارانِ قریش نے اس پر دستخط کئے پھر اس دستاویز کو کعبۃ اللہ کے اندر لگا دیا گیا، پھر جناب ابو طالب مجبوراً حضور خاتم النبیینﷺ اور تمام خاندان والوں کو لے کر پہاڑ کی اس گھاٹی میں جس کا نام شعبِ ابی طالب تھا پناہ گزیر ہوگئے۔ یہ تین برس کا زمانہ اتنا کٹھن گزرا کہ بنو ہاشم درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے پکا پکا کر کھاتے تھے، یہاں تک کہ خود قریش کے کچھ لوگوں کو بنو ہاشم کے ساتھ یہ رویہ ناگوار گزرا اور ان لوگوں نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی کوششیں کی۔ ایک دن قریش کے تمام لوگ حرمِ کعبہ میں جمع ہوئے، جنابِ ابوطالب نے کہا کہ لوگوں! میرا بھتیجا محمد ﷺ کہتا ہے کہ اس معاہدے کے دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا ہے اور بس جہاں جہاں اللہ کا نام تھا اس جگہ کو کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے تو اس کو چاک کر کے پھینک دو اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں اپنے بھتیجے کو تمہارے حوالے کر دوں گا یہ سن کر مطعم بن عدی کعبۃ اللہ کے اندر گیا اور دستاویز کو اتار کر لایا اور سب لوگوں نے اس کو دیکھا تو واقعی میں اسمِ جلالت کے سوا پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا، پھر قریش کے چند بہادر جو کہ اس وقت حالتِ کفر میں تھے ہتھیار لے کر گھاٹی میں پہنچے اور خاندانِ بنو ہاشم کو وہاں سے نکالا اور ان کو ان کے مکانوں میں آباد کر دیا۔

 

Sania Saeed
About the Author: Sania Saeed Read More Articles by Sania Saeed: 36 Articles with 68351 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.