انسانیت کے لئے مشعل راہ

تحریر: ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی

انسانیت کے لئے مشعل راہ

عرب کا معاشرہ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔بھائی بھائی کا دشمن تھا۔ لڑائیاں نسل در نسل چلتی تھیں۔بچیوں کو پیدا ہوئے ہی ذندہ دفن کرتے تھے۔شراب نوشی عام تھی۔ ظلم و جبر کا نظام قائم تھا۔انسانیت سسک رہی تھی۔ یکا یک رحمت خداوندی نے کرشمہ دکھایا۔ عرب کے معزز خاندان قریش کی شاخ بنو ہاشم میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ جس کی والدہ کا نام حضرت آ منہ اور والد کا نام عبداللہ تھا۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جسے دنیا محمد الرسول اللہۖ کے نام سے جانتی ہے۔ والدہ نے نام احمد رکھا اور دادا نے محمد رکھا۔ بچپن ہی سے اتنے سچے اور دیانت دار تھے کہ لوگ آپ کو صادق اور امین کے نام سے پکارتے۔ آپ نے جہالت کو علم کی روشنی میں بدلا۔ جنگ کو امن میں بدلا۔ ظلم کو عدل میں بدلا۔ دشمنیوں کا خاتمہ کیا۔اسی لئے رب العالمین نے فرمایا "وما ارسلنک الا رحمت للعالمین" جس کا مفہوم ہے کہ ہم نے آپ ۖ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اس سے مراد ہے کہ حضور نبی کریم ۖ کی زندگی، اخلاق، اور تعلیمات سب انسانوں کے لیے شفقت، ہمدردی اور بھلائی کا وسیع پیغام لے کر آئی ہیں۔ آپ کی رحمت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت، جانوروں، اور کائنات کی ہر مخلوق کے لیے ہے۔یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نبوت کا مقصد محبت، اصلاح، اور رحم دلی ہے۔ آپ ۖ نے دشمنوں کو معاف کیا، مظلوموں کی مدد کی، اور ہر حالت میں عدل و انصاف کا نظام قائم کیا۔ اس رحمت کے ذریعے اللہ تعالی نے آپ ۖ کو دنیا میں امن، بھائی چارہ، اور انسانیت کی خدمت کا باعث بنایا۔

سرور کائنات کے بلند پایہ اخلاق کو اس آیت کریمہ میں بڑی خوبصورتی سے سمویا "انک لعلی خلق عظیم" کا مطلب ہے کہ آپ ۖ کا اخلاق اور کردار بے مثال، عظیم اور بلند پایہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے حضور نبی کریم ۖ کی شخصیت کو ایک اعلی اور شاندار اسوہ کی حیثیت سے بیان فرمایا ہے جو ہر لحاظ سے انسانی کمالات کی معراج ہے۔ آپ ۖ کا برتاو، طرز گفتگو، رویہ، سلوک، اور اخلاقیات سب میں بہترین نمونہ رہا ہے۔یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ رسولِ اللہ ۖ کی شخصیت میں وہ تمام صفات جمع تھیں جو انسانوں کے لیے پیروی کے قابل ہیں۔ آپ ۖ کی سخاوت، حلم، صبر، رحم دلی، انصاف پسندی، اور حسن اخلاق نے عوام کے دل جیت لیے اور آج بھی آپ کی شخصیت انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ نبی کریم ۖ کی زندگی کامل اور بے نظیر ہے، اور ہر مسلمان کے لیے یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی میں آپ ۖ کی سیرت اور اخلاق کو اپنائے۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری زندگی کا وہ خوبصورت چراغ ہے جو ہر دور میں روشنی کا باعث رہا ہے۔ حضور اکرم ۖ کی زندگی صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ اور عملی نمونہ ہے۔ آپ کی ذات میں اخلاق، حلم، عدل، شرافت اور خدمت خلق کے بے مثال پہلو موجود ہیں جو ہر شخص کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔آپ ۖ کی عظیم آمد کا مقصد انسانوں کو رب کی طرف بلانا، انہیں حق و باطل میں فرق سکھانا اور دنیا و آخرت کی سعادتوں کا ضامن بنانا تھا۔ آپ نے ہر مشکل وقت میں صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا اور دشمنوں کی سختیاں برداشت کر کے بھی اپنی دعوت کو آگے بڑھایا۔ یہ وہ صبر و تحمل تھا جس کی بدولت اسلام کی حقیقت دنیا تک پہنچی۔

سیرت پاک میں آپ کی شجاعت، عدل پسندی، معاف کرنے کی صلاحیت اور محبت انسانیت کی مثال ہے۔ آپ نے کبھی کسی کو تکلیف نہ دی، دوسروں کے درد میں برابر کے شریک رہے، اور ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیا۔ غریبوں، یتیموں، بیواوں اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ فرمایا اور ان کی مدد کی۔ یہی وہ اخلاق ہیں جو آج کے معاشرے میں بھی انصاف اور امن کے ضامن بن سکتے ہیں۔ کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ رض سے پوچھا کہ آپ کے اخلاق کیسے تھے تو انہوں نے فرمایا کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا درحقیقت قرآن ہی محمد کے اخلاق تھے۔ حضرت خدیجہ الکبری رض نے فرمایا آپ قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتے، مہمان نوازی کرتے، سچ بولتے، محتاجوں کی حاجت پوری کرتے، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے اور حق راستے میں مشکلات پیش آ نے والوں کی مدد کرتے آپ ۖ کی زندگی میں نماز، روزہ، زکواہ، اور حج جیسی عبادات کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر آپ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ دین کا تعلق صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق روزمرہ زندگی کے معاملات، اخلاقیات اور معاشرت سے بھی ہے۔

آپ نے کاروبار میں دیانت داری، تعلقات میں عدل واحسان اور معاشرے میں مساوات کا درس دیا جو آج بھی ہمیں کامیاب زندگی بسر کرنے کا سبق دیتے ہیں۔سیرت النبی ۖ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر مسئلے کا حل محبت، برداشت، مشاورت اور حکمت میں پوشیدہ ہے۔ آپ کی تمام زندگی ہمارے لیے سبق آموز ہے، جہاں آپ نے ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہو کر حق کا پرچم بلند کیا۔ آپ نے معاشرتی برائیوں کو ختم کیا اور انسانیت کو عزت و وقار دیا۔

رحمت اللعالمین ۖ کی سیرت کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے لازم ہے تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں ان کی تعلیمات کو نافذ کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرسکیں۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کیسے اشرف المخلوقات بن سکتا ہے، کس طرح دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے، اور کس طرح مشکلات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

درحقیقت آپ ایک عظیم الشان معلم، بلند مرتبہ منتظم، سربراہ حکومت، مجاہد،مبلغ، مربی، افضل البشر، امام الانبیا اور خاتم النبیین تھے۔سچ تو یہ ہے کہ کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایک عالمگیر درس دیتی ہے جو ہمیں محبت، امن، اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے۔ آیئے ہم سب مل کر اس کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو سنواریں اور اپنے کردار کو نبی کریم ۖ کی سنت کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم دنیا میں امن،عزت، ترقی اور خوشحالی کا بھرپور حصہ بن سکیں اور آ خرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کامیابی حاصل کر سکیں۔آیت "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسو حسنہ" کا مطلب ہے کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول ۖ میں ایک بہترین طریقہ کار اور عمدہ نمونہ موجود ہے جس کی پیروی کرنا تمہارے لیے لازم ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حضور پاک ۖ کی زندگی، کردار، اخلاق، اور عمل ہمارے لیے کامل مثال ہے جس سے ہم اپنی زندگیوں کو سنوار سکتے ہیں۔رسول اللہ ۖ کی سیرت میں ہماری ذرا بھی کمی یا کجی کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ نے ہر قسم کے مسائل، مشکلات، معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز کا بہترین حل اور احسن انداز میں دکھایا۔ چاہے وہ عبادات ہوں، معاملات ہوں، اخلاق ہوں یا معاشرتی روابط، آپ ۖ کی زندگی ہمارے لیے ایک مکمل رہنمائی ہے۔مذکورہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں نبی کریم ۖ کے اخلاق، عمل اور سیرت کے ہر پہلو کی تقلید کریں تاکہ ہم بھی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوسکیں۔ آپ ۖ کی پیروی کرنے والا ہی اصل مسلمان ہے۔

الطاف حسین حالی نے آپکی شہرہ آفاق شخصیت کے بارے میں کیا خوب کہا ہے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آ نے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماوی
یتیموں کا والی غلاموں کا مولا

 

Dr-Muhammad Saleem Afaqi
About the Author: Dr-Muhammad Saleem Afaqi Read More Articles by Dr-Muhammad Saleem Afaqi: 45 Articles with 53377 views
Dr. Muhammad Saleem Afaqi is a prominent columnist and scholar from Nasar Pur, GT Road, Peshawar. He earned his Ph.D. in Education from Sarhad Unive
.. View More