کمزوروں کا استحصال

کمزوروں کا استحصال




پاکستان کی ابادی میں تقریباً 50 فیصد ابادی عورتوں کی ہے ۔جن کا استحصال ان کے گرد جو مرد ہیں وہ کرتے ہیں ۔۔

پاکستان کی ابادی کا تقریباً 40 فیصد طبقہ غریب ہے اور نہایت غریب ہے ان کا استحصال ان پر وارد امیر لوگ کرتے ہیں ۔

۔پاکستان میں تقریباً 6 فیصد بوڑھے اور بزرگ ہیں جن کا استحصال ان کے گرد جوان لوگ کرتے ہیں ۔۔


تقریباً 36 فیصد ابادی 14 سال سے کم عمر لڑکوں کی ہے جن کا استحصال ان پر قائم بڑی عمر کے لوگ کرتے ہیں ۔


استحصال میں بہت کچھ شامل ہے ۔۔

زور زبردستی کرنا

طاقت کا مظاہرہ کرنا نا جائز کام کروانا

لوگوں کو ڈرا اور دھمکا کر غلط کام کروانا۔

زندگی کی بنیادی ضرورت کی عدم فراہمی کرنا ۔

عزت ۔وقار ۔شرم اور حیاء کی عدم موجودگی ۔

مار پیٹ۔ بد زبانی ۔دھمکی۔گالی گلوچ ۔

امتیازی سلوک ۔تحقیر وغیرہ وغیرہ۔

حلال اور حرام کے فرق کی غیر موجودگی۔۔

۔یہ سارے جزبات اور احساسات اور کرتوت انسانوں میں کیسے آئے ۔

یہ ایک قدرتی سونچ ہے یا عمل ہے کہ انسان کے انسان ہونے پر ہر کوی رشک کرتا ہے مگر انسانوں کے ظالم اور جاہل ہونے پر ہر کوی افسوس بھی کرتا ہے

۔۔انسان اچھا کرسکتا ہے یا برا ۔اور دونوں کی ابتداء انسان کی تربیت میں ہے ۔

بچپن کی تربیت میں ۔۔اگر تربیت بہترین ہوگی تو وہ انسان کے اچھے کردار کی تشکیل کرے گی۔۔مگر بری ہوگی یا نہیں ہوگی تو وہ انسان کو وہ ہی بناے گی جو اس نے سیکھا اور دیکھا ۔۔


اس کی مثال ایسے ہے جیسے ہم کسی کو بھوک لگنے پر کھانا نا کھلائیں تو وہ کہیں سے ڈھونڈ کر کھانا کھا لے گا۔ ۔یا پھر ہم کسی کی بھوک پر اسے طیب کھانا کھلانے کے بجاے حرام کھانا کھلائیں۔ بھوک تو مٹنی ہے چاہے کسی چیز سے بھی مٹے۔ لہازا جو انسان کے پیٹ میں گیا وہی اس کی صیحت کا زمیدار ہے ۔۔۔

اسی طرح جو تربیت میں گیا وہی انسان کی

تربیت کا زمہ دار ہے ۔۔۔


اسی طرح ہمارے معاشرے کا ایک شعار غنڈہ گردی بھی ہے جس کی وجہ بھی تربیت ہے


جن کی تربیت نہیں ہو سکی ان کی تربیت ان کے ماحول نے کردی،

اور جن کی تربیت تو ہوی مگر بہت بری ہوی تو وہ بدنصیب ٹھہرے ۔ یہاں یہ بات ضروری ہے کہ غنڈہ گردی دو چیزوں کا نتیجہ ہے ۔ایک مظلوم کی محرومی اور دوسرا ظالم کی بدمستی اور حرام دولت کا غرور۔

مگر غنڈہ گردی سڑکون اور میدانوں کے علاؤہ ہر سطح پر ہوتی ہے


ہر جگہ ہر ادارے میں ہر گھر میں غنڈہ گردی ہو رہی ہے ۔ ۔وہ اس طرح کہ

ایک گھر جس میں کچھ لوگ مل جل کر رہتے ہیں ۔وہاں پیار محبت عزت ضروری ہوتی ہے ۔۔اور اگر اس گھر کا کوی بھی فرد اس ماحول کو اپنے غصے اور حسد کی وجہ سے خراب کرے اسے غنڈہ گردی کہتے ہیں ۔۔

جب کوی اپنی بات زور زبردستی سے منوانے کی کوشش کرے اسے غنڈہ گردی کہتے ہیں ۔۔۔

غنڈہ گردی کے پیچھے حسد اور جہالت ہے ۔انا ہے ۔ان سارے شیطانی جزبات کے پیچھے ۔ بچپن کی بری تربیت اور محرومیاں ہیں ۔۔اور بچپن کی ان خرابیوں کے پیچھے برے ماں باپ اور برا ماحول ہے ۔۔اور اس برے ماحول اور معاشرے کے پیچھے ایک بہترین اسلامی نظام کی عدم موجودگی ہے ۔۔لہازا سلامتی اور اچھے معاشرے کا سفر شروع کرنے کے لیے پہلا قدم اسلامی نظام قائم کرنے کا ہی ہوگا۔۔

ایک عام اسطلاح میں ہم انسان برے کو برا کہتے ہیں مگر جب کوی بڑا بزرگ کوی برای کرے تو اس کو غنڈہ گردی کہنے کے بجاے ۔یہ کہدیتے ہیں کہ بزرگ ہیں سخت ہیں مگر دل کے اچھے ہیں یہ لا قانونیت ہے اور استحصال ہے اس انسان کا جس کے ساتھ ان بزرگ نے برا کام کیا ۔


اچھے اور صیحت مند معاشرے کا طرہقہ یہ ہے کہ جو کام جیسا ہے اس کو اسی نام سے پکارا جائے ۔۔۔اگر کسی اعلی عہدے پر فائز شخص نے برای کی ظلم کیا تو اسے ہم corruption کہتے ہیں ۔اس کی برای کو اچھے الفاظ سے ڈھانپ دیتے ہیں ایسا کرنا منافقت ہے ۔جس نے جو کام کیا اس برے کام کا وہی نام ہونا چاہیے ۔

۔اسی طرح کوی بچہ برا کام کرے تو اس کے برے کام پر اس کو محبت سے سمجھانے کے بجاے اس پر خش ہوتے ہیں ۔ یہ ہی تربیت ہے ۔جو ہم کررہے ہیں ۔

جب تک ہم کالے اور سفید میں فرق نہیں کرینگے ۔ہمارے معاملات بگڑتے چلے جائیں گے ۔

چور کو چور اور جھوٹے کو جھوٹا اور ۔خائن کو خائن ۔ظالم کو ظالم کہنا ہمارا قانونی فرض ہے ۔

ایسا نہیں ہے تو یہ ہی کمزوروں کا استحصال ہے ۔




ہم انسانوں نے کبھی جانوروں کو کسی کا مزاق اڑاتے دیکھا اور پھر مزاق اڑا کر دوسرے جانور کو مناتے دیکھا ہے ۔۔


کبھی کسی جانور نے شاعری نہیں کی ۔

کبھی جانوروں نے جرگہ نہیں بٹھا یا۔۔

انسان یہ سب کچھ کرتا ہے ۔

اور اگر نہیں کرتا ہے تو وہ غیر تربیت یافتہ ہے ۔

اور تربیت کا اعلی ترین ذریعہ سیرہ النبی ہے ۔احادیث نبوی ہیں ۔اہل بیت اطہار کی کہانیاں ۔ہیں ۔ صحابہ کرام کے قصے ہیں ۔۔ہمارے وہ ہیرو جنہوں نے دنیا میں فتوحات کی ان کی کتابیں ہیں ۔۔

یہ بات بلکل درست ہے کہ سارے انسان ایک جیسے نہیں ہوتے ۔ عقل، سمجھ، اگاہی۔ زہانت تجربہ ۔تربیت۔تعلیم سب انسانوں کا فرق ہوتا ہے ۔۔ مگر ہر پیدا ہونے والے بچے کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کی دیکھ بھال پیار محبت سے کی جاے۔اور اس کے لیے بہترین زندگی میسر کی جائے جس میں صیحت مند ماحول اور تعلیم اور تربیت موجود ہو ۔۔۔



تانیہ احسن۔

 

Tania Ahsan
About the Author: Tania Ahsan Read More Articles by Tania Ahsan: 2 Articles with 92 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.