چین کی دیہی ترقی اور انسداد غربت کا ماڈل

چین کی دیہی ترقی اور انسداد غربت کا ماڈل
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

سال 2026 میں چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) ملک کو ترقی کے نئے دور میں داخل کرے گا، جہاں چین معیشت اور سماجی ترقی کو تیز کرنے کے لیے فعال اقدامات اٹھانے کے حوالے سے پر عزم ہے۔ چین کی پالیسیوں کا محور معیشت کی بلند معیار پر ترقی اور تمام شعبوں میں جامع ترقی کی اہمیت پر مرکوز ہے۔

چین نے ہمیشہ زراعت، دیہی علاقوں اور کسانوں کے امور کو اپنی پالیسی میں اولیت دی ہے اور شہری و دیہی ترقی کو یکجا کرنے کی کوششوں میں دیہی احیاء اور زراعت کی جدید کاری کو آگے بڑھایا ہے۔ ان اقدامات میں غربت سے نجات پانے والے افراد کے دوبارہ غربت کا شکار ہونے کے خطرے کو روکنے کے لیے چینی حکومت کی پُرعزم کوششیں نمایاں ہیں۔ چین کا ترقی کا فلسفہ ہمیشہ عوامی مرکزیت پر مبنی رہا ہے، جس نے دیہی غربت کے خاتمے اور ترقی کو ایک نئی شکل دی ہے۔ملک نے ترقی پر مبنی نقطہ نظر کے ذریعے بنیادی طور پر دیہی مطلق غربت کا خاتمہ کیا، اور پھر بعد میں معاون اقدامات کے ذریعے کامیابیوں کو مستحکم اور انہیں وسعت دی۔

چین کے غربت سے نجات کے اقدامات نے نہ صرف دیہی ترقی کو فروغ دیا بلکہ عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے ماڈلز میں ایک نیا باب کھولا ہے۔ اصلاحات و کھلے پن کے آغاز میں، چین دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک میں سے تھا جہاں غربت کی صورت حال انتہائی سنگین تھی۔ بین الاقوامی امداد پر انحصار کرنے کی بجائے، چین نے اصلاحات و کھلے پن، خود انحصاری، محنت اور آزادانہ ترقی کے ذریعے غربت میں کمی کا راستہ اختیار کیا۔

چین نے زرعی جدید کاری، ٹاؤن شپ انڈسٹریز کی ترقی، اور دیہی علاقوں میں نقل مکانی کے پروگراموں کے ذریعے غربت میں کمی کے متعدد طریقے اختیار کیے۔ تعلیم پر زور دیتے ہوئے چین نے دیہی علاقوں میں مہارت یافتہ انسانی وسائل تیار کیے، جنہیں معاشی ترقی کی سمت میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا۔

چین نے عالمی سطح پر تخفیف غربت جیسے عفریت کے چیلنج کو اپنے ادارہ جاتی جدت طرازی کے ذریعے حل کیا ہے۔ سن 2012 سے شروع ہونے والی اہدافی غربت میں کمی کی حکمت عملی نے چین کو غربت کے خلاف ایک جامع اور فعال مہم چلانے کا موقع فراہم کیا۔ کچھ غریب دیہی گھرانوں کے لیے جہاں مقامی طور پر غربت میں کمی ممکن نہیں تھی، آبادیوں کو نئی جگہوں پر منتقل کرنے کے پروگرام نافذ کیے گئے، جس میں نقل مکانی اور ماحولیاتی تحفظ باہم مربوط حکمت عملی کے طور پر استعمال ہوئے۔ فعال انسداد غربت حکمت عملی نے گاؤں اور افراد تک درست امداد پہنچانے کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے غربت میں کمی کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا گیا۔

چین نے غربت میں واپسی کے خطرات کو روکنے کے لیے طویل مدتی پالیسی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ حکومت نے دیہی احیاء کی حکمت عملی کے تحت غربت میں کمی کی کامیابیوں کو مستحکم کیا اور ان کو دیہی ترقی کے مجموعی فریم ورک میں شامل کیا۔ روزگار کی پالیسیوں، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اور دیگر سہولتوں کی فراہمی نے غربت میں واپسی کے خطرے کو مؤثر طریقے سے ختم کیا ہے۔

چین کی دیہی ترقی کی حکمت عملی نہ صرف ملک کے لیے بلکہ عالمی سطح پر ایک کامیاب نمونہ ثابت ہوئی ہے۔ غربت کے خاتمے اور دیہی احیاء کے جامع ماڈل نے چین کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے، اور اس کے تجربات گلوبل ساوتھ ممالک کے لیے اہم سبق فراہم کرتے ہیں۔ چین کا یہ کامیاب ماڈل ثابت کرتا ہے کہ حکومتی عزم، ادارہ جاتی جدت اور ہدف شدہ پالیسیوں کے ذریعے غربت میں کمی اور دیہی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1743 Articles with 1004771 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More