نیا سال: عددی نہیں، فکری تبدیلی

نیا سال: عددی نہیں، فکری تبدیلی
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر طالب علی اعوان
۔۔۔۔۔
وقت ایک عجیب مسافر ہے۔ نہ رکتا ہے، نہ پلٹتا ہے، نہ کسی کا انتظار کرتا ہے۔ وہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے اور پیچھے صرف یادیں، تجربے اور فیصلوں کے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ ایک اور سال بھی اسی خاموشی کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ کیلنڈر نے نیا ورق پلٹا، تاریخ نے نیا عدد اوڑھ لیا، اور ہم نے رسمی جملوں میں ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دے دی۔ مگر سوال یہ ہے کہ
کیا واقعی ہم کسی نئے سال میں داخل ہوئے ہیں؟
یا صرف ایک اور سال سے گزر گئے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ نیا سال وقت کا نہیں، انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر سال بدلنے سے ہماری سوچ نہ بدلے، ہمارے رویّے نہ سنوریں، اور ہمارے اعمال میں بہتری نہ آئے تو یہ تبدیلی محض کیلنڈر تک محدود رہتی ہے، زندگی تک نہیں پہنچ پاتی۔
ہم ہر نئے سال پر امیدوں کی ایک نئی فہرست بناتے ہیں۔
اس سال ہم سچ بولیں گے،
اس سال ہم صبر سیکھیں گے،
اس سال ہم یہ کریں گے،
اس سال ہم وہ کریں گے،
اس سال ہم نفرت کم کریں گے،
اس سال ہم خود کو بدل ڈالیں گے۔
مگر چند ہی دن بعد یہی وعدے روزمرہ کی دوڑ میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ ہم پھر وہی بن جاتے ہیں جو پہلے تھے، وہی شکایتیں، وہی عذر، وہی الزام تراشیاں، اور وہی خود فریبی۔ یوں نیا سال بھی پرانے رویّوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
اسلام ہمیں وقت کے بارے میں ایک نہایت سنجیدہ اور بامقصد تصور دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں وقت کی قسم کھا کر انسان کو متنبہ فرماتا ہے:
"وَالْعَصْرِ، إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ"
"وقت کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔"
یہ محض ایک آیت نہیں، بلکہ ایک مستقل وارننگ ہے کہ جو انسان وقت کو مقصد، کردار اور عمل سے خالی گزار دے، وہ نقصان میں ہے، خواہ وہ خود کو کتنا ہی کامیاب کیوں نہ سمجھتا ہو۔ وقت کا ضیاع دراصل زندگی کے مواقع، صلاحیتوں اور اخلاقی امکانات کا ضیاع ہے۔
نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم خود سے چند بنیادی مگر کڑے سوال کریں:
کیا ہم پچھلے سال بہتر انسان بن سکے؟
کیا ہمارے الفاظ نے کسی کا دل دکھایا؟
کیا ہم نے اختلاف کو دشمنی میں بدلا؟
کیا ہم نے علم کو عمل میں ڈھالا یا صرف تقریروں تک محدود رکھا؟
کیا ہم نے اپنے فائدے سے آگے سوچنے کی جرأت کی؟
آج کا انسان سہولتوں کی فراوانی میں جیتا ہے، مگر سکون کی قلت کا شکار ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے، مگر دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیں۔ سوشل میڈیا پر ہمارے ہزاروں دوست ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہم تنہائی، بے چینی اور عدمِ اعتماد میں مبتلا ہیں۔ ہم معلومات کے سمندر میں کھڑے ہیں، مگر حکمت کے قطرے کو ترس رہے ہیں۔
ایسے میں نیا سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل ترقی عمارتوں کی بلندی میں نہیں، کردار کی مضبوطی میں ہے۔ قومیں صرف منصوبوں، بجٹ اور نعروں سے نہیں بنتیں، بلکہ سچ، امانت، انصاف اور احساسِ ذمہ داری سے بنتی ہیں۔ جب فرد درست ہو جاتا ہے تو معاشرہ خود بخود درست سمت میں چل پڑتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔"
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی قدر و قیمت اس کے فائدے سے ہے، عہدے، دولت یا شہرت سے نہیں۔ اگر نیا سال ہمیں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے والا بنا دے تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
بدقسمتی سے ہم تبدیلی کی ذمہ داری ہمیشہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشرتی اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔ جب تک ہم خود بدلنے پر آمادہ نہیں ہوں گے، کوئی نیا سال، کوئی نیا نظام اور کوئی نیا نعرہ ہمیں نہیں بدل سکتا۔
یہ نیا سال ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے دائرۂ اختیار میں ایمانداری سے کام کریں۔
ہم استاد ہیں تو دیانت سے پڑھائیں،
ہم طالب علم ہیں تو سچے طالب علم بنیں،
ہم والدین ہیں تو مثال بنیں،
ہم قلم کار ہیں تو ذمہ دار قلم اٹھائیں،
اور اگر ہم عام شہری ہیں تو کم از کم اچھے انسان بن جائیں۔
ہمیں چاہیے کہ اس سال کو محض تقریبات، آتش بازی اور رسمی دعاؤں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے خود احتسابی، خود اصلاح اور خود سازی کا سال بنائیں۔
اپنی زبان کو شائستہ بنائیں،
اپنے اختلاف کو مہذب رکھیں،
اپنے غصے کو قابو میں رکھیں،
اور اپنے عمل سے معاشرے میں آسانی پیدا کریں، الجھن نہیں۔
یاد رکھیے!
اگر اس نئے سال میں ہم نے صرف ایک انسان کے لیے سہولت پیدا کر دی،
ایک ٹوٹے دل کو جوڑ دیا،
ایک ناانصافی پر خاموشی توڑ دی،
ایک غلطی سے سیکھ لیا،
اور ایک لمحہ اللہ کی رضا کے لیے وقف کر دیا
تو یقین کیجیے، یہی سال ہمارے لیے نیا ہو جائے گا۔
کیونکہ
سال تو ہر سال بدلتے ہیں،
کیلنڈر تو خود بخود پلٹتے ہیں،
مگر تاریخ وہی لوگ بناتے ہیں
جو خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
آئیے!
اس نئے سال کو نعروں کا نہیں، نیتوں کا سال بنائیں۔
وعدوں کا نہیں، عمل کا سال بنائیں۔
اور شکایتوں کے بجائے اصلاح کا سال بنا دیں۔
شاید یہی سنجیدہ فیصلہ
ہمیں واقعی
ایک نئے سال میں داخل کر دے۔
(ڈاکٹر طالب علی اعوان)

 

Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 52 Articles with 106946 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.