ایک مضبوط لڑکی کی زندگی

وہ کسی کہانی کی ہیروئن نہیں تھی، نہ اس کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی تھی، نہ قسمت اس پر خاص مہربان تھی۔ وہ ایک عام سی لڑکی تھی، مگر اس کی زندگی غیر معمولی جدوجہد سے بھری ہوئی تھی۔ اس کی مضبوطی کسی ایک دن میں نہیں بنی، یہ برسوں کی خاموش لڑائیوں، ٹوٹے خوابوں اور خود کو سنبھالنے کے عمل کا نتیجہ تھی۔
بچپن میں وہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح ہنستی کھیلتی تھی۔ اسے بھی رنگین خواب دیکھنا اچھا لگتا تھا، مگر جلد ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ زندگی ہر خواب کو آسانی سے پورا نہیں ہونے دیتی۔ کچھ خواہشیں دل میں ہی دفن کرنی پڑتی ہیں اور کچھ امیدیں وقت کے ساتھ دھندلا جاتی ہیں۔ اس نے کم عمری میں ہی سیکھ لیا کہ مضبوط ہونا کوئی انتخاب نہیں، بلکہ اکثر ایک مجبوری بن جاتا ہے۔
ندگی نے اسے بار بار آزمایا۔ کبھی حالات نے، کبھی لوگوں نے، اور کبھی اپنوں کی لاپرواہی نے۔ وہ ہر بار خود سے سوال کرتی کہ آخر اس کے حصے میں ہی اتنی آزمائشیں کیوں آئیں؟ مگر پھر وہی لڑکی، آنسو پونچھ کر، دوبارہ کھڑی ہو جاتی۔ اسے شکایت کرنے کی عادت نہیں تھی، شاید اس لیے کہ اسے معلوم تھا کہ شکایتیں کسی کا درد کم نہیں کرتیں۔
وہ خاموش تھی، مگر کمزور نہیں۔ اس کی خاموشی دراصل اس کی سمجھداری کی علامت تھی۔ وہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی تھی۔ کچھ باتیں وہ دل میں رکھ لیتی، کچھ دکھ وہ رات کی تنہائی میں آنسوؤں کے ساتھ بہا دیتی۔ دن کے اجالے میں وہ مضبوط نظر آتی، مگر رات کو اس کا دل بھی تھک جاتا تھا۔ پھر بھی وہ اگلی صبح نئے حوصلے کے ساتھ اٹھتی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
لوگ اکثر اس کی خاموشی کو غرور سمجھ لیتے تھے۔ کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا تھا کہ وہ کیوں کم بولتی ہے، کیوں ہنسی اس کے چہرے پر ٹھہر کر رہ جاتی ہے۔ کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ اس کے اندر کتنی جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ وہ دوسروں کو سہارا دیتی رہی، مگر جب اسے خود سہارے کی ضرورت پڑی تو وہ اکثر اکیلی ہی رہی۔
محبت بھی اس کی زندگی میں آئی، مگر ہر محبت اسے مکمل نہ کر سکی۔ کچھ رشتے ادھورے رہ گئے، کچھ وعدے وقت کے ساتھ ٹوٹ گئے۔ اس نے سیکھا کہ ہر قریبی شخص اپنا نہیں ہوتا اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے سچ نہیں چھپا ہوتا۔ یہ سیکھنا آسان نہیں تھا، مگر انہی تجربات نے اسے حقیقت پسند بنا دیا۔
وہ حساس تھی، مگر اب اس نے اپنی حساسیت کو کمزوری نہیں سمجھا۔ وہ جان گئی تھی کہ نرم دل ہونا جرم نہیں، بس ضروری یہ ہے کہ ہر کسی کو اپنی نرمی دکھانا لازم نہیں۔ اس نے اپنے دل کے گرد خاموشی کی ایک حد بنا لی تھی، جہاں ہر کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
زندگی کے سخت تجربات نے اسے خود پر یقین کرنا سکھایا۔ اب وہ اپنی قدر دوسروں کی رائے سے نہیں ناپتی تھی۔ وہ جان چکی تھی کہ اگر وہ خود کو کم سمجھے گی تو دنیا بھی اسے کم ہی سمجھے گی۔ اس لیے اس نے خود سے محبت کرنا سیکھا، چاہے یہ سیکھنے کا سفر کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
وہ مضبوط اس لیے نہیں تھی کہ اسے کبھی درد نہیں ہوا، بلکہ اس لیے کہ درد کے باوجود اس نے جینا نہیں چھوڑا۔ وہ جانتی تھی کہ مضبوط ہونا یہ نہیں کہ آنسو نہ آئیں، بلکہ یہ کہ آنسوؤں کے بعد بھی امید باقی رہے۔ اس کی زندگی میں کئی بار اندھیرا آیا، مگر اس نے ہر بار روشنی تلاش کرنے کی کوشش کی۔
آج وہ لڑکی مکمل نہیں، مگر مطمئن ضرور ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اس کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ اسے اب بھی لڑنا ہے، سیکھنا ہے، اور آگے بڑھنا ہے۔ مگر اب فرق یہ ہے کہ وہ خود کو کمزور نہیں سمجھتی۔ وہ اپنی خاموشی، اپنے صبر اور اپنی مستقل مزاجی پر فخر کرتی ہے۔
وہ ایک مضبوط لڑکی ہے
جو شور نہیں مچاتی، مگر ہار بھی نہیں مانتی۔
جو ٹوٹتی ہے، مگر بکھرنے نہیں دیتی۔
اور جو جانتی ہے کہ اصل طاقت چیخنے میں نہیں، بلکہ خاموشی سے خود کو سنبھالنے میں ہے۔



 
Sabeera shafique
About the Author: Sabeera shafique Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.