سبز اور اسمارٹ مصنوعات کا فروغ

سبز اور اسمارٹ مصنوعات کا فروغ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں گھریلو کھپت کو فروغ دینے اور معیشت کی اندرونی طلب کو متحرک کرنے کے لیے ٹریڈ اِن پروگرامز کو رواں برس مزید وسعت دی گئی ہے، جن میں سبز اور اسمارٹ مصنوعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدامات صارفین کو پرانی مصنوعات تبدیل کرنے میں سہولت فراہم کریں گے اور ملک کی مجموعی کھپت کی صلاحیت کو مزید اجاگر کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 میں اس کھپت بڑھانے والے پروگرام کے لیے مختص مالی وسائل میں گزشتہ سال کے 300 ارب یوان کے مقابلے میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ مراعات کا دائرہ کار دیرپا اشیا تک محدود رہنے کے بجائے خدمات کے شعبے تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔

وزارتِ تجارت اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے جنوری کے اوائل میں جاری کردہ نوٹس کے مطابق توانائی اور پانی کی بچت کرنے والے گھریلو آلات کی خریداری پر فی آئٹم زیادہ سے زیادہ 1,500 یوان تک سبسڈی دی جائے گی۔ اس فہرست میں ریفریجریٹر، واشنگ مشینیں، ٹیلی وژن، ایئر کنڈیشنرز، واٹر ہیٹرز اور کمپیوٹرز شامل ہیں، جن پر رعایت کے بعد حتمی قیمت کا 15 فیصد بطور سبسڈی فراہم کیا جائے گا۔

اسی طرح موبائل فونز، ٹیبلٹ کمپیوٹرز، اسمارٹ واچز اور اسمارٹ بینڈز جیسی بعض ڈیجیٹل اور اسمارٹ مصنوعات بھی اس اسکیم کے تحت شامل ہیں، بشرطیکہ فی آئٹم قیمت 6 ہزار یوان سے زیادہ نہ ہو۔ اس زمرے میں سبسڈی کی حد 500 یوان مقرر کی گئی ہے۔

مزید برآں پرانی گاڑیاں اسکریپ کر کے نئی گاڑیاں خریدنے والے صارفین کو بھی مراعات دی جائیں گی، جو نئی گاڑی کی قیمت کے تناسب سے طے کی جائیں گی، جبکہ زیادہ سے زیادہ سبسڈی 20 ہزار یوان تک محدود ہو گی۔

چین کے قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کے مطابق رواں سال صارفین کی اشیا کے ٹریڈ اِن پروگرامز کی معاونت کے لیے 62.5 ارب یوان مالیت کے انتہائی طویل مدتی خصوصی سرکاری بانڈز کی پہلی قسط پیشگی جاری کی جا چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق چین میں گھریلو کھپت کا تناسب اب بھی بین الاقوامی سطح پر نسبتاً کم ہے، جو واضح مواقع اور نمایاں گنجائش کی نشاندہی کرتا ہے۔ 2024 میں گھریلو کھپت مجموعی قومی پیداوار کا 39.9 فیصد رہی، جو ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں 10 سے 30 فیصد پوائنٹس کم ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریڈ اِن پروگرامز کے تحت انتہائی طویل مدتی بانڈز سے مختص مالی وسائل 2026 میں بڑھ کر 500 ارب یوان تک پہنچنے کی توقع ہے، جو 2025 کے 300 ارب یوان سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

وزارتِ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ٹریڈ اِن پروگرام کے تحت صارفین کی اشیا کی فروخت 2.6 ٹریلین یوان سے تجاوز کر گئی، جس سے 36 کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔ 2025 کے دوران اس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ پندرہ لاکھ سے زائد گاڑیاں، 12 کروڑ 90 لاکھ گھریلو آلات، 9 کروڑ 10 لاکھ ڈیجیٹل مصنوعات، 12 کروڑ گھریلو تزئین و آرائش اور کچن و باتھ روم کی اشیا، جبکہ ایک کروڑ 25 لاکھ الیکٹرک سائیکلیں خریدی گئیں۔

ماہرین نے اخراجات کی ساخت کو بھی ایک اہم پہلو قرار دیا ہے، کیونکہ چین میں خدمات کے شعبے پر خرچ ہونے والی کھپت ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ حکام کے مطابق چین بتدریج ایسی کھپت کی ساخت کی جانب بڑھ رہا ہے جو اشیا اور خدمات کے درمیان توازن پر مبنی ہو، جبکہ ثقافت، سیاحت، بزرگوں اور بچوں کی نگہداشت جیسے شعبوں میں طلب مسلسل مضبوط ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ معیاری خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں موجودہ فراہمی کی صلاحیت ابھی پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے پیپلز بینک آف چائنا کی جانب سے گزشتہ سال قائم کردہ 500 ارب یوان کی ری لینڈنگ سہولت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ خدمات اور بزرگوں کی نگہداشت کے شعبوں میں معیار اور دستیابی دونوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے کھپت بڑھانے کی مراعات کا دائرہ مستقبل میں دیرپا اشیا سے آگے بڑھ کر بنیادی خدمات، بشمول بچوں کی تعلیم، تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اسی تناظر میں دسمبر کے اواخر میں وزارتِ تجارت، پیپلز بینک آف چائنا اور قومی مالیاتی ریگولیٹری انتظامیہ نے ایک مشترکہ دستاویز جاری کی، جس میں مالیاتی اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ بڑے پیمانے کی اشیا اور خدمات دونوں کے لیے مالی معاونت کے نظام کو مزید مؤثر بنائیں۔

مجموعی طور پر چین کے ٹریڈ اِن پروگرامز نہ صرف سبز اور اسمارٹ کھپت کو فروغ دینے کا ذریعہ بن رہے ہیں بلکہ گھریلو طلب کے استحکام، خدماتی معیشت کے فروغ اور اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی کے لیے بھی ایک اہم پالیسی آلہ کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1758 Articles with 1010129 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More