باجوڑ کا ہاکی کھلاڑی، وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی اور زمینی حقیقتیں — امید اور احتساب کے بیچ کھڑا کھیل
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ہاکی کے نوجوان کھلاڑی مہران کا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے رابطہ بظاہر ایک سادہ سا واقعہ لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ قبائلی اضلاع میں کھیلوں کی حالت، سرکاری دعووں اور زمینی حقیقتوں کے درمیان موجود خلا کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ رابطہ ایک طرف امید کی کرن ہے تو دوسری جانب ایک سنجیدہ سوال بھی کہ کیا صرف یقین دہانی کافی ہے یا اب عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
مہران نے وزیر اعلیٰ کے سامنے جو نکات رکھے وہ نئے نہیں، مگر افسوسناک طور پر آج بھی حل طلب ہیں۔ باجوڑ کا ہاکی گراونڈ، جسے نوجوانوں کی توانائی اور خوابوں کا مرکز ہونا چاہیے، بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ٹرف کو دن میں صرف تیس منٹ پانی ملنا، مستقل گراونڈ مین کا نہ ہونا اور دیکھ بھال کے ناقص انتظامات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ کھیل کو فائلوں میں تو جگہ دی گئی ہے، میدان میں نہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی کھلاڑی سے اعلیٰ کارکردگی کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
یہاں سوال صرف ایک گراونڈ کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا ہے۔ قبائلی اضلاع میں کھیلوں کے لیے مختص فنڈز، منصوبے اور اعلانات اکثر کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ افتتاحی تقاریب، تصاویر اور بیانات تو مل جاتے ہیں، مگر چند ماہ بعد وہی گراونڈ، وہی مسائل اور وہی خاموشی واپس آ جاتی ہے۔ مہران کی بات اس لیے اہم ہے کہ وہ شکایت نہیں بلکہ حق مانگ رہا ہے، ایک ایسے کھلاڑی کا حق جو ریاست سے صرف اتنا چاہتا ہے کہ اسے برابر کا موقع دیا جائے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی خوش آئند ہے۔ یہ اعتراف بھی اہم ہے کہ قبائلی اضلاع کے کھلاڑی نظرانداز ہوئے ہیں اور اب انہیں مرکزی دھارے میں لانا ضروری ہے۔ تاہم، ماضی کا تجربہ ہمیں محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ یقین دہانیاں اس وقت معنی رکھتی ہیں جب ان کے ساتھ واضح ٹائم لائن، ذمہ دار افسران کی نشاندہی اور شفاف نگرانی کا نظام موجود ہو۔ ورنہ ہر نئی یقین دہانی پرانی فہرست میں شامل ہو جاتی ہے۔
فاٹا گیمز کا ذکر بھی اسی تناظر میں آتا ہے۔ اصولی طور پر فاٹا گیمز کا مقصد قبائلی نوجوانوں کو پلیٹ فارم دینا، ان کی صلاحیتوں کو سامنے لانا اور انہیں قومی سطح کے کھیلوں سے جوڑنا تھا۔ مگر عملی طور پر کئی بار یہ ایونٹس نمائشی بن کر رہ گئے۔ ٹیموں کے انتخاب پر سوالات، سہولیات کی کمی، اور ایونٹ کے بعد کھلاڑیوں کو تنہا چھوڑ دینا ایک تلخ حقیقت رہی ہے۔ اگر فاٹا گیمز کو واقعی مو¿ثر بنانا ہے تو انہیں ایک وقتی سرگرمی کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
مہران کی گفتگو میں سب سے مضبوط پہلو اس کی امید ہے۔ وہ مایوسی کے باوجود بات کر رہا ہے، سوال اٹھا رہا ہے اور حل کی بات کر رہا ہے۔ یہی رویہ دراصل کھیل اور معاشرے دونوں کو آگے لے جاتا ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ اس امید کو ٹوٹنے نہ دے۔ اگر ایک نوجوان کھلاڑی کو بنیادی سہولت بھی میسر نہ ہو تو اس سے حب الوطنی، قربانی اور صبر کی توقع محض نعرہ بن جاتی ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، مگر پالیسی سطح پر یہ کھیل طویل عرصے سے نظرانداز رہا ہے۔ بڑے شہروں میں بھی ہاکی مشکلات کا شکار ہے، تو قبائلی اضلاع میں صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس کے باوجود، باجوڑ جیسے علاقوں سے کھلاڑیوں کا سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ موجود ہے، کمی صرف سہولت اور سرپرستی کی ہے۔
اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو چند فوری اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، باجوڑ ہاکی گراونڈ کی بحالی اور مستقل بنیادوں پر دیکھ بھال کا انتظام کیا جائے۔ پانی کی فراہمی، ٹرف کی مینٹیننس اور گراونڈ مین کی تعیناتی کوئی بڑا مطالبہ نہیں۔ دوسرا، فاٹا گیمز کے لیے شفاف سلیکشن اور بعد از ایونٹ فالو اپ سسٹم بنایا جائے تاکہ کھلاڑی صرف چند دنوں کے لیے نہیں بلکہ مستقل ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔ تیسرا، مقامی سطح پر کوچنگ اور مقابلوں کا باقاعدہ کیلنڈر متعارف کرایا جائے۔
یہ کالم حکومت کو اس کے وعدوں کی یاد دہانی ہے۔ تنقید کا مقصد دروازے بند کرنا نہیں بلکہ انہیں کھولنا ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی اگر عمل میں ڈھلتی ہے تو یہ صرف مہران کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ باجوڑ اور دیگر قبائلی اضلاع کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے ایک مثال بنے گی۔آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کھیل محض تفریح نہیں، یہ شناخت، خود اعتمادی اور قومی یکجہتی کا ذریعہ ہے۔ جب ایک قبائلی نوجوان ہاکی اسٹک اٹھا کر میدان میں اترتا ہے تو وہ صرف اپنے لیے نہیں کھیلتا، وہ اپنے علاقے، اپنی محرومیوں اور اپنے خوابوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب یہ ریاست پر منحصر ہے کہ وہ اس نمائندگی کو تسلیم کرتی ہے یا اسے ایک اور خبر بننے دیتی ہے۔
#Kikxnow #SportsColumn #Hockey #Bajaur #KP #FATAGames #YouthSports #CMKPK #SportsPolicy #PositiveCriticism
|