قوم کے عالمی چیمپئن، ایک ہفتے میں تیار ہونے والے ہیرو اور بیرونِ ملک تصویری مارشل آرٹس

اگر آپ مارشل آرٹس کے کھلاڑی ہیں اور آپ کے پاس نہ انٹر کلب میڈل ہے، نہ ضلعی ریکارڈ، نہ صوبائی کامیابی اور نہ ہی قومی سطح کی کوئی پہچان، تو فکر نہ کریں۔ خیبرپختونخوا میں مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس پاسپورٹ تیار رکھیں، ایک اچھی سی وردی سلوا لیں، چند قومی پرچم خرید لیں اور کسی “انٹرنیشنل” مقابلے کا ٹکٹ کٹوا لیں۔ باقی کام تصاویر اور سوشل میڈیا خود کر لے گا۔

ملائیشیا، تھائی لینڈ، دبئی اور انڈونیشیا اس وقت پاکستانی مارشل آرٹس کے عالمی مراکز بن چکے ہیں۔ یہاں مقابلے نہیں ہوتے، معجزے ہوتے ہیں۔ ایسے معجزے جن میں ایک ایسا کھلاڑی، جسے اس کے اپنے ضلع میں کوئی نہیں جانتا، اچانک “انٹرنیشنل گولڈ میڈلسٹ” بن جاتا ہے۔ نہ ٹرائل، نہ کوالیفکیشن، نہ رینکنگ، بس پہنچیں، تصویر کھنچوائیں اور واپس آ کر قوم کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جائیں۔

یہ وہی کھلاڑی ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی انٹر کلب مقابلہ نہیں جیتا، جن کا نام کبھی ضلعی لسٹ میں نہیں آیا، مگر بیرونِ ملک جا کر وہ سب کچھ جیت لیتے ہیں جو شاید اولمپکس میں بھی آسان نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ کھلاڑی اتنے ہی باصلاحیت تھے تو اپنے علاقے میں کہاں تھے؟ جواب سادہ ہے، وہ وہاں تھے ہی نہیں، کیونکہ اصل مقابلہ تو دبئی میں ہوتا ہے۔یہ مقابلے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی کیٹیگری میں دو ہی کھلاڑی ہوتے ہیں، اور دونوں میڈل لے کر واپس آتے ہیں۔ کہیں کہیں تو مقابلہ ہی نہیں ہوتا، صرف اسٹیج ہوتا ہے، میڈل ہوتے ہیں اور کیمرہ ہوتا ہے۔ ریفری شاید ہو یا نہ ہو، مگر تصویر ضرور ہوتی ہے۔ کیونکہ آج کے دور میں کھیل تصویر سے جیتا جاتا ہے، میدان سے نہیں۔

واپسی پر یہ عالمی ہیرو سیدھے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان کا جھنڈا، قومی ترانہ، جذباتی کیپشن اور ایک آدھ آنسو۔ “الحمدللہ، پاکستان کا نام روشن کر دیا”، “قوم کے بیٹے نے تاریخ رقم کر دی”، “یہ کامیابی پوری قوم کے نام”۔ قوم بھی خوش ہو جاتی ہے، کیونکہ قوم کو سچ نہیں، خوشخبری پسند ہے۔اب اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ یہی تصویری چیمپئن صوبائی محکموں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ فائل میں تصاویر لگتی ہیں، سرخیوں کی کٹنگز لگتی ہیں اور فنڈز کی درخواست لگ جاتی ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ مقابلہ کس فیڈریشن کے تحت تھا، کسی عالمی باڈی سے منسلک تھا یا نہیں۔ کیونکہ سوال پوچھنا کھیل دشمنی ہے، اور خاموشی تعاون۔

خیبرپختونخوا میں یہ چند لوگ پورے مارشل آرٹس کو یرغمال بنا چکے ہیں۔ یہی فیصلے کرتے ہیں، یہی نام فائنل کرتے ہیں، یہی بیرونِ ملک جاتے ہیں اور یہی واپسی پر ہیرو بنتے ہیں۔ اگر کوئی اصل کھلاڑی پوچھ لے کہ بھائی، آپ کا ریکارڈ کیا ہے، تو اسے فوراً منفی سوچ کا حامل قرار دے دیا جاتا ہے۔اصل کھلاڑی کون ہوتے ہیں؟ وہ جو برسوں سے کلب میں مشق کر رہے ہیں، جن کے پاس کوچ نہیں، سہولت نہیں اور سپانسر نہیں۔ وہ جو ضلعی مقابلوں میں جیت کر بھی خاموش رہتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس تصویر بنانے والا نیٹ ورک نہیں ہوتا۔ ان کے لیے کوئی دبئی نہیں، کوئی تھائی لینڈ نہیں، ان کے لیے صرف انتظار ہے۔

ان نمائشی مقابلوں کا سب سے دلچسپ پہلو ان کی فیڈریشنز ہیں۔ ہر مقابلے کی ایک نئی فیڈریشن ہوتی ہے، جو شاید اسی ہوٹل میں رجسٹرڈ ہوتی ہے جہاں مقابلہ ہو رہا ہوتا ہے۔ اگلے سال وہ فیڈریشن غائب، مگر میڈل زندہ رہتا ہے۔ کھلاڑی کا تعارف ہمیشہ یہی ہوتا ہے: “انٹرنیشنل گولڈ میڈلسٹ”۔ کس فیڈریشن کا؟ یہ سوال بعد میں پوچھئے گا، ابھی تصویر دیکھئے۔

وفاقی سطح پر بھی کبھی کبھی آنکھ بند کر کے تعاون ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب تصویر میں پاکستان کا جھنڈا نظر آ جائے تو عقل چھٹی پر چلی جاتی ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ دورہ ذاتی تھا یا سرکاری، ایونٹ مستند تھا یا نہیں۔ بس قوم خوش، نظام خاموش۔سوشل میڈیا نے اس دھندے کو اور آسان بنا دیا ہے۔ چند پوسٹس، چند ٹیگز اور ایک آدھ ویڈیو۔ عوام کو کیا معلوم کہ اصل کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے۔ وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہر بیرونِ ملک تصویر کامیابی ہے، اور ہر میڈل تاریخ۔

اس سارے تماشے میں سب سے زیادہ نقصان کھیل کا ہوتا ہے۔ مارشل آرٹس جیسے سنجیدہ کھیل کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ جب ہر دوسرا شخص انٹرنیشنل چیمپئن ہو، تو اصل چیمپئن کی کیا قدر رہ جاتی ہے؟ جب میڈل خریدنا آسان ہو، تو محنت کیوں کی جائے؟

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کھیل کو روکا جا سکتا ہے؟ جی ہاں، مگر اس کے لیے نیت درکار ہے۔ اگر واقعی دیکھا جائے کہ کون سا ایونٹ مستند ہے، کون سی فیڈریشن حقیقی ہے، اور کون سا کھلاڑی واقعی اس قابل ہے، تو یہ سارا نظام ایک دن میں زمین بوس ہو جائے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ نظام بہتوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ چند لوگ بیرونِ ملک گھومتے ہیں، چند تصویریں بنتی ہیں، چند فنڈز جاری ہوتے ہیں اور اصل کھلاڑی ایک بار پھر نظر انداز ہو جاتا ہے۔

آخر میں صرف اتنی گزارش ہے کہ خدارا، قومی پرچم کو اس تصویری کھیل سے آزاد کیا جائے۔ قوم کے بیٹے اور بیٹیاں وہ ہوتے ہیں جو میدان میں پسینہ بہاتے ہیں، نہ کہ وہ جو ایک ہفتے میں عالمی چیمپئن بن جاتے ہیں۔ اگر مارشل آرٹس کو واقعی بچانا ہے، تو دبئی کے اسٹیج سے واپس گراونڈ کی مٹی میں آنا ہوگا۔ورنہ یاد رکھیے، تصاویر تو رہ جائیں گی، مگر کھیل ختم ہو جائے گا۔

#FakeChampions #MartialArtsDrama #SportsSatire #KPKSports #InternationalByPhoto #StopSportsScam #SaveRealAthletes


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 909 Articles with 723749 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More