کھیل فائلوں کے رحم و کرم پر، کھلاڑی میدان میں بے یار و مددگار — بنوں کا واقعہ محض حادثہ نہیں، ایک پورا نظام کٹہرے میں ہے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
ہمارے ہاں جب بھی کوئی کھلاڑی میدان میں گرتا ہے تو اسے حادثہ کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے۔ دو چار بیانات آتے ہیں، ایک نوٹس جاری ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر چند دن شور مچتا ہے، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر بنوں میں گورنمنٹ ہائی اسکول ممہ خیل بنوچی کے طالب علم کھلاڑی کا میدان میں گرنا کوئی سادہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو برسوں سے کھیل کو ناتجربہ کاروں کے حوالے کیے ہوئے ہے اور ہر نئی انجری کے ساتھ اپنی نااہلی پر مہر ثبت کرتا جا رہا ہے۔
اصل سوال بہت سیدھا ہے، مگر اس سے ہمیشہ جان بوجھ کر بچا جاتا ہے۔ انٹر اسکول گیمز کا سیکرٹری اسکول پرنسپل کیوں ہوتا ہے؟ کھیل کے فیصلے وہ شخص کیوں کرتا ہے جس کا کھیل سے عملی تعلق صفر ہے؟ پرنسپل کا کام تعلیم، نظم و ضبط اور انتظامی امور ہیں۔ وہ استاد ہے، ایڈمنسٹریٹر ہے، مگر وہ اسپورٹس پروفیشنل نہیں۔ کھیل ایک مکمل ڈسپلن ہے جس کے اپنے اصول، سیفٹی اسٹینڈرڈز، میڈیکل پروٹوکول اور تکنیکی تقاضے ہیں۔ ان سب کو نظر انداز کر کے صرف اس بنیاد پر کہ “پرنسپل ذمہ دار افسر ہے”، اسے کھیل کا نگران بنا دینا کھلاڑی کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
بنوں کے کھلاڑی کا واقعہ اسی مذاق کی ایک تلخ مثال ہے۔ ایک نوجوان کھلاڑی میدان میں گرا۔ اس کے گرنے کے بعد کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ ایونٹ کی تکنیکی نگرانی کس کے پاس تھی۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کیا میڈیکل اسٹاف موجود تھا یا نہیں۔ کیا ایمبولینس ایونٹ سے پہلے الرٹ تھی؟ کیا گراونڈ کھیل کے قابل تھا؟ کیا کھلاڑیوں کو درست وارم اپ اور کول ڈاو¿ن کروایا گیا تھا؟یہ سوال اس لیے نہیں اٹھتے کیونکہ جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ کیونکہ ذمہ داری ایک ایسے عہدے کو دے دی جاتی ہے جو صرف کاغذی ہوتا ہے، عملی نہیں۔
یہاں مسئلہ فرد کا نہیں، پورے سسٹم کا ہے۔ ہم نے کھیل کو ہمیشہ ایک اضافی سرگرمی سمجھا ہے۔ اسکول کی تقریب، تقریری مقابلہ، یومِ آزادی کا فنکشن اور انٹر اسکول گیمز سب ایک ہی فائل میں بند ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھیل بھی اسی سطح پر ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ نہ اس کے لیے تربیت یافتہ عملہ، نہ مناسب بجٹ، نہ واضح ذمہ داریاں۔ جب نان پروفیشنل لوگ کھیل میں ہوں گے تو انجام یہی ہوگا جو بنوں میں ہوا۔ کھلاڑی گرتا رہے گا اور افسران ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر خود کو بری الذمہ ثابت کرتے رہیں گے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ محکمہ تعلیم کے پاس فزیکل ایجوکیشن کے اساتذہ موجود ہیں۔ صوبے میں اسپورٹس آفیسرز موجود ہیں۔ کوچز موجود ہیں۔ مگر انہیں فیصلہ سازی سے دور رکھا جاتا ہے۔ انہیں صرف میدان صاف کرنے، لائن لگانے یا حاضری بنانے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اصل اختیارات ان لوگوں کے پاس ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی کھلاڑی کی انجری کو قریب سے نہیں دیکھا، نہ اس درد کو سمجھا جو ایک نوجوان کیریئر کو ایک لمحے میں ختم کر دیتا ہے۔
دنیا بھر میں اسکول اسپورٹس کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ وہاں کھیل کو بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں ہر ایونٹ سے پہلے رسک اسیسمنٹ ہوتی ہے۔ میڈیکل ٹیم موجود ہوتی ہے۔ کوچنگ اور اسپورٹس سائنس کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، کھیل کو ناتجربہ کاروں کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے۔ یہاں کھیل تصویروں اور رپورٹس کے لیے ہوتے ہیں۔ یہاں کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ کھلاڑی محفوظ رہا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایونٹ “ہو گیا” یا نہیں۔ یہاں کسی کھلاڑی کی انجری کو بدقسمتی کہا جاتا ہے، ناکامی نہیں۔
بنوں کے کھلاڑی کا گرنا دراصل ایک وارننگ تھی، مگر ہمیں وارننگز سننے کی عادت نہیں۔ ہم ہر بار یہی کہتے ہیں کہ “ایسا کبھی کبھار ہو جاتا ہے”۔ سوال یہ ہے کہ یہ کبھی کبھار اتنا باقاعدہ کیوں ہو چکا ہے؟ ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی ضلع سے کسی نہ کسی کھلاڑی کے زخمی ہونے کی خبر کیوں آ جاتی ہے؟ اس کا جواب واضح ہے۔ کیونکہ کھیل کو سنبھالنے والے لوگ کھیل کو سمجھتے ہی نہیں۔
یہاں یہ بات بھی کھل کر کہنی چاہیے کہ جب حادثہ ہو جاتا ہے تو فوری طور پر اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ انٹر اسکول گیمز براہ راست محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ مگر اصل ذمہ داری کا تعین کبھی نہیں کیا جاتا۔ سہولت کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں، انکوائریاں شروع ہو جاتی ہیں، اور چند دن بعد فائل بند۔
یہی رویہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ رویہ پیغام دیتا ہے کہ کھلاڑی کی جان ثانوی ہے۔ یہ رویہ ناتجربہ کاری کو تحفظ دیتا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دو ٹوک فیصلہ کیا جائے۔ یا تو ہم کھیل کو سنجیدگی سے لیں، یا پھر ہر انجری کے بعد اسی طرح افسوس کے بیانات دیتے رہیں۔حل کوئی مشکل نہیں۔ انٹر اسکول گیمز کی تکنیکی ذمہ داری صرف اور صرف اسپورٹس پروفیشنلز کو دی جائے۔ ر ایونٹ میں تربیت یافتہ کوچ، فزیکل ایجوکیشن ایکسپرٹ اور میڈیکل اسٹاف کی موجودگی لازمی ہو۔ پرنسپل کا کردار انتظامی سپورٹ تک محدود رکھا جائے، نہ کہ کھیل کے فیصلوں تک۔ سیفٹی اسٹینڈرڈز پر سمجھوتہ کرنے والوں کا تعین ہو اور ان سے باز پرس ہو۔
کھیل شوق نہیں، ذمہ داری ہے۔ کھلاڑی تصویر نہیں، انسان ہے۔ اور بنوں کا واقعہ ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ اگر اب بھی ہم نے کھیل کو ناتجربہ کاروں کے حوالے رکھا، تو آنے والے دنوں میں صرف کھلاڑی نہیں گریں گے، پورا سسٹم منہ کے بل گرے گا۔ یہ کالم ایک سوچ کے خلاف ہے۔ وہ سوچ جو کھیل کو غیر ضروری سمجھتی ہے۔ وہ سوچ جو ناتجربہ کاری کو قبول کرتی ہے۔ بنوں کا کھلاڑی خاموش سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں گرا۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے۔
#InterSchoolGames #SportsMismanagement #PlayerSafety #SchoolSports #SportsGovernance #LetProfessionalsLead #AthleteProtection #Bannu #KPKSports #EducationVsSports
|