مختصر مگر اہم بات ( چوتھی کہانی " نقطہ نواز " )

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

( مختصر مگر اہم بات )

( نقظہ نواز )

( چوتھی کہانی )

( محمد یوسف میاں برکاتی )

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج کی " مختصر مگر اہم بات " کی کہانی بھی پچھلی کہانیوں کی طرح ہمارے لیئے بڑی اہم ہے اور اس کہانی میں بھی ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا آپ جانتے ہیں کہ ماچس کی تیلی میں مصالحہ بہت تھوڑا ہوتا ہے لیکن پورے شہر کو آگ لگانے کے لیئے کافی ہوتا ہے بالکل اسی طرح زندگی میں کیا ہوا کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا ایسا عمل جو حکم خداوندی کے خلاف ہو وہ بروز محشر ہمارے ساری نیکیوں پر بھاری پڑ سکتا ہے اور وہ عمل ہمیں جہنم میں لیجانے کے لیئے کافی ہوگا بالکل اسی طرح زندگی میں کیا ہوا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل جو نیکی کا ہو وہ ہمارے لیئے بخشش کا ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ ہمارا رب بڑا نقطہ نواز ہے نہ جانے ہمیں کس نقطہ پر اپنے رحمت کے دروازے کھولتے ہوئے بخشش کے پروانے جاری کردے اور نہ جانے کس نقطہ پر ہماری پکڑ کر کے ہمیں جہنم میں داخل کرنے کے احکامات جاری کردے اسی لیئے کہا گیا کہ زندگی میں نیکیاں کرتے رہنا چاہیئے جبکہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک بہت مالدار اور رئیس آدمی رہتا تھا جس کا نام غالباً شیخ یاسر تھا ایک دن اس نے ایک خواب دیکھا اس خواب میں کسی کہنے والے نے اس سے کہا کہ تمہارے گھر کے سامنے ایک پھل فروش ہے یعنی فروٹ بیچنے والا اسے عمرہ کروادو وہ شخص جب صبح اٹھا تو اس نے اس خواب کو ان دیکھا کردیا لیکن دوسری رات اسے پھر یہ ہی خواب دیکھنے کو ملا اس شخص نے پھر اس خواب کو ان دیکھا کردیا لیکن جب شیخ یاسر نے تیسری بار یہ خواب دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ مجھے اس خواب کے بارے میں معلوم کرنا چاہیئے لہذہ اپنے محلے کے امام مسجد کے پاس پہنچا اور ساری حقیقت بیان کی تو امام مسجد نے انہیں کہا کہ اگر تین مرتبہ آپ کو یہ بات خواب کے ذریعے کہی گئی تو یقیناً اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ویسے بھی کافی نوازا ہوا ہے اگر آپ اس شخص کو عمرہ کروا دیتے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے لہذہ شیخ یاسر اس پھل فروش کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ میں تمہیں عمرہ کے لیئے لے کر جانا چاہتا ہوں وہ پھل فروش یہ بات سن کر حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ صاحب میں کہاں گناہگار بندہ جو ایک وقت کی نماز تک نہیں پڑھتا اور کہاں عمرے کی سعادت لیکن شیخ یاسر نے اسے سمجھایا اور تسلی دی کہ تمہیں کسی قسم کی فکر کی ضرورت نہیں ہے تمہارا سارا خرچہ میں برداشت کروں گا تو اس نے کہا کہ پھر میرے پیچھے میرے بیوی بچوں کا گزارا کیسے ہوگا تو شیخ نے کہا کہ یہ میری زمہ داری ہے مسلسل سمجھانے پر وہ شخص راضی ہوگیا اور یوں شیخ یاسر اس پھل فروش کو لے کر مکہ مکرمہ کی طرف عمرے کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے روانہ ہوگیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب عمرے کی ادائیگی کے مقررہ دن پورے ہوگئے اور جس دن ان دونوں کی واپسی تھی اور وہ دونوں حرم شریف میں موجود تھے تو پھل فروش نے شیخ یاسر سے کہا کہ نہ جانے زندگی میں پھر یہاں کبھی آنے کا موقع ملے نہ ملے کیوں نہ میں ایک بار دو رکعت نماز پڑھ لوں تو شیخ نے خوش ہوکر کہا کہ کیوں نہیں لہذہ اس پھل فروش نے نیت کی اور نماز پڑھنے لگا جب دوسری رکعت کے سجدے میں گیا تو سجدہ طویل ہوگیا اور جب کچھ زیادہ وقت لگا تو شیخ یاسر نے آواز لگائی اٹھو ہمیں جانا ہوگا لیکن وہ پھل فروش سجدے سے نہیں اٹھا کیوں کہ اس کی روح سجدے کی حالت میں پرواز کرگئی تھی یہ منظر دیکھ کر لوگوں کی ایک کثیر تعداد جمع ہوگئی اور لوگوں کے منہ سے سبحان اللہ کی صدائیں گونجنے لگیں شیخ یاسر حیران و پریشاں کھڑا دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ مجھے تین راتوں تک مسلسل خواب میں یہ تلقین کی گئی کہ اس شخص کو عمرہ کروادوں اور یہ شیخ صاحب نماز تک نہیں پڑھتا تھا آخر اللہ کے نزدیک یہ اتنا محبوب کیوں تھا ؟ یہ سوال اس کے ذہن میں گردش کرتا رہا اور اسی سوال کو لیئے جب وہ واپس جدہ پہنچا اور اس پھل فروش کے گھر جاکر اس کی بیوی بچوں کو یہ خبر سنائی تو اس کی بیوی بھی حیران ہوگئی کہ اس کے شوہر کو اتنا بڑا رتبہ کیسے حاصل ہوا شیخ یاسر نے پوچھا کہ وہ زندگی میں یا تو کوئی نہ کوئی ایسا نیک عمل ضرور کرتا تھا جو اس کے لیئے اتنے بڑے مقام کا باعث بنا لیکن اس راز تک وہ پہنچ نہ پائے ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک عورت جو معزور تھی اور اس کی ایک چھوٹی سی بچی تھی وہ اس پھل فروش کا گھر ڈھونڈتے ہوئے پہنچی اتفاق ایسا تھا کہ اس وقت شیخ یاسر بھی وہیں موجود تھا تب اس عورت نے پھل فروش کی بیوی کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگی کہ تمہارا شوہر بڑا نیک دل انسان تھا وہ روزانہ میرے گھر کے باہر راشن رکھ کر دروازے پر دستک دیتا اور چلا جاتا کبھی اندر نہیں آتا تھا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی کہ میرے رب اس شخص کو اعلی مقام عطا کرنا جو میرے اور میری بچی کا اتنا خیال کرتا ہے اس عورت کی یہ بات سن کر شیخ یاسر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ سمجھ گیا کہ اس کی یہ نیکی اس کو یہ مقام فلا گئی اور اس کی بیوی کے سامنے بھی اپنے شوہر یعنی پھل فروش کی اس نیکی کا راز کھلا تو وہ بھی رونے لگی اور کہنے لگی کہ میں ہمیشہ اس سے یہ ہی شکوہ کرتی رہی کہ گھر کا گزارا نہیں ہوتا لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میرا شوہر تو ایک نیک دل انسان ہونے کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا مقرب اور محبوب بندہ بن چکا تھا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بھی بندے سے راضی ہو جاتا ہے تو اسے دنیا میں زیادہ وقت نہیں رہنے دیتا بلکہ اپنے پاس بلا لیتا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ اس کا محبوب بندہ ہوتا ہے جو اس کی مخلوق کا خیال رکھے اور خاص طور پر یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھے جیسے اس پھل فروش نے کیا یہ ہی سبق اور بڑی اہم بات تھی جو ہمیں آج کی کہانی سے سیکھنے کو ملتی ہے بیشک ہمراہ رب بڑا نقطہ نواز ہے یہ اس کی مصلحت اور منشاء پر منحصر ہے کہ وہ ہماری زندگی میں کیئے ہوئے کونسے نیک عمل پر خوش ہوکر ہمیں کوئی بڑا مقام عطا کردے اپنا محبوب بندہ بناکر اپنے خاص بندوں میں شامل کردے یا پھر ہمارے کیئے ہوئے سارے نیک اعمال کے مقابلہ میں کسی ایک اور چھوٹے سے چھوٹے سے گناہ کو ہمارے سارے نیک اعمال پر بھاری کرکے ہماری نیکیوں کو ہمارے ہی منہ پر مارتے ہوئے ہمیں جہنم واصل کردے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بڑی نعمت ہے بس اس زندگی کو ہمیں اس پروردگار کے احکامات اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے گزارنی چاہئے کیونکہ یہ زندگی مستقل رہنے والی چیز نہیں ہے بلکہ عارضی ہے جب اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو پھر ایک سیکنڈ کا بھی مزید وقت نہیں ملتا لہذہ اللہ رب العزت نے جتنا وقت ہمارے لیئے مقرر کیا ہے اسے اس کی نعمت سمجھ کر اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے گزاریں گے تو یقیناً وہ رب بڑا غفور بھی ہے اور رحیم بھی وہ ہمیں کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا نہ زندگی میں اور نہ ہی محشر میں آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں زندگی گزارنے کا جتنا بھی وقت عطا کیا ہے اسے اس رب العالمین کے احکامات پر عمل کرنے اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ اور سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنا محبوب بندہ بناکر اپنے خاص بندوں میں شامل کردے مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔ 
محمد یوسف میاں برکاتی
About the Author: محمد یوسف میاں برکاتی Read More Articles by محمد یوسف میاں برکاتی: 202 Articles with 190832 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.