����تصوف کیا ہے

تصوف کا معنی وحقیقت اکابر اولیا کے اقوال کی روشنی میں
تصوف کیا ہے؟
عمران عطاری ابو حمزہ
03170263320
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تصوف کیا ہے؟ اس کے متعلق بزرگانِ دین رحمھم اللہ سے بے شمار اقوال منقول ہیں ، کیونکہ ہر ایک نے اپنے مقام و مرتبہ اور حال کے اعتبار سے تصوف کی تعریف کی ہے۔ چنانچہ، امام ابو القاسم عبد الکریم بن ھوازن قشیری “ رسالہ قشیریہ” میں فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا رُوَیم بن احمدسے تصوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تصوف یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کو اپنے ربّ کی مرضی پر چھوڑ دے کہ وہ جو چاہے اس سے کام لے ۔
حضرت جنید بغدادی سے تصوف کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تصوف یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی سے بھی کوئی تعلق نہ رکھا جائے ۔ (الرسالۃ القشیریۃ، باب التصوف، ص ۳۱۳)
حضور غوث الاعظم آپ نے اپنی کتاب ’’سر الاسرار‘‘ میں ولایت کے باب میں بحث کرتے ہوئے تصوف کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ لفظِ تصوف چار حروف کا مجموعہ ہے:
1۔ لفظ تصوف کے پہلے حرف ’’ت‘‘ سے مراد ’’توبہ‘‘ ہے۔ یہ توبہ اعضائے ظاہری اور اعضائے باطنی دونوں کی ہے۔ ظاہر کی توبہ گناہوں اور مخالفات کو چھوڑ کر طاعات کی طرف جانا ہے اور باطن کی توبہ یہ ہے کہ اس کا قلب اور روح اللہ کے ہر امر کے ساتھ موافق ہوجائے، اوصافِ مذمومہ اور اخلاقِ رذیلہ کو چھوڑ کر اس کا باطن اوصافِ حمیدہ کے ساتھ مالا مال ہو جائے۔ جب تک ظاہر و باطن کے اعتبار سے اس طرح کی توبہ نہیں کرتا، اس وقت تک وہ ولی تصوف کی ’’ت‘‘ کا سفر مکمل نہیں کرتا۔
2۔ لفظ ’’تصوف‘‘ کا دوسرا حرف ’’ص‘‘ ہے۔ جب ظاہر و باطن تائب ہو جائیں تو ’’ص‘‘ میں صفائے قلب اور صفائے سِر ہے یعنی دل صفاتِ بشریہ سے پاک کر دیا جائے اور دنیا کے علائق اور شہوتوں کے ساتھ دل نہ لگے۔ دنیا کے علائق سے مراد یہ ہے کہ کثرتِ طعام، کثرتِ کلام، کثرتِ نوم نہ رہے۔ کثرت کے ساتھ دنیاوی مال و دولت کی دلچسپیاں، حبِ جاہ و منصب، حبِ مال و اولاد نہ رہے۔ اگر ان تمام علائق دنیوی سے دل پاک ہو جائے اوراللہ کے ساتھ محبت و تعلق میں بندے کی روح اور اس کا سِرّمتعلق ہو جائے تو گویا اس نے ولایت میں تصوف کی راہ میں ’’ص‘‘ کا سفر مکمل کرلیا۔گویا ماسوی اللہ جو کچھ ہے اس سے قرار نہ ملے۔۔۔ جب تک خدا کا ذکر نہ ہو اس کا دل بے رغبت اور زندگی بے مزہ رہے۔۔۔ جب تک خدا کے لقاء کی بات نہ ہو وہ بے تاب رہے۔ اس لیے اللہ والوں کی علامت یہ ہے کہ وہ دن میں بے قرار ہوتے ہیں اور رات کو مصلے پر باقرار ہوتے ہیں، کیونکہ اس وقت مولا سے ملاقات و مناجات کا وقت آتا ہے۔ جو لذت وہ سجود میں پاتے ہیں، وہ لذت آرام دہ بستر پر نہیں پاتے۔ جب تک طبیعت کے یہ میلانات بدل نہ جائیں، تصوف میں سالک ’’ص‘‘ کا سفر طے نہیں کرتا۔
3۔ تصوف میں تیسرا حرف ’’واؤ‘‘ ہے۔ واؤ میں ولایت ہے۔ ’’ت‘‘ اور ’’ص‘‘ کی دو منزلیں طے کر کے تیسرے مرتبے پر بندہ ولی بنتا ہے۔ ظاہر و باطن کی باکمال و باتمام توبہ اور قلب و سِر کی باتمام و باکمال صفا کے مرحلے جب عبور ہو جائیں تو صوفی تصوف کی راہ میں ولایت پر آتا ہے۔ اس مقام پر اس کے اپنے اخلاق ختم ہو جاتے ہیں اور خدا کے سارے اخلاق اس پر نافذ ہوجاتے ہیں۔ پھر تخلقوا بأخلاق اللہ کے مصداق ولی کے اپنے اخلاق نہیں رہتے بلکہ ﷲ کے اخلاق کا رنگ اس کے اندر جاگزیں ہوجاتا ہے۔
4۔ تصوف میں چوتھا حرف ’’ف‘‘ ہے۔ اس سے مراد فنا ہے۔ بندہ کس طرح اللہ کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور کس طرح اس کی محبت میں فنا ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ صرف مسلمانوں کا رب نہیں بلکہ وہ ہر ایک کو عطا کرتا ہے خواہ کوئی اُسے مانے یا نہ مانے، ہر ایک کے لیے اس کی ربوبیت عام ہے۔ اسی طرح ولی اپنی ولایت میں اس درجہ کا حامل ہوتا ہے کہ اس کے قلب میں رحمتِ عامہ موجود ہوتی ہے۔ کوئی جو کچھ چاہے اس کے ساتھ سلوک کرے، وہ تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے، خندہ پیشانی سے پیش آتا ہے، انتقام نہیں لیتا، نفرت و حقارت اس سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ گویا وہ اپنے نفس سے فنا ہوجاتا ہے اور متخلق با خلاق اللہ ہوتا ہے۔پھر وہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق کے رنگ میں اس قدر رنگا جاتا ہے کہ حدیث مبارک کے مصداق اس کی آنکھ میں اللہ تعالیٰ کا نور ہوتا ہے، کان میں اللہ کی سماعت ہوتی ہے، اس کے ذوق میں اللہ ربّ العزت کا امر ہوتا ہے، اس کے چلنے پھرنے میں اللہ تعالیٰ کی ترجیحات ہوتی ہیں۔
حضور غوث الاعظم نے فرمایا: ولایت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک بندہ اپنی صفاتِ بشریہ سے فنا نہ ہو جائے اور صفاتِ احدیت کے رنگ میں رنگا نہ جائے۔
حضور غوث الاعظم نے فرمایا:کل شی ہالک الا وجہ ﷲ.’’ہر شے ہلاک ہو جاتی ہے مگر خدا کی محبت باقی رہ جاتی ہے۔جب تک بندہ اللہ کی رضا میں فنا نہ ہو اور خدا کی رضا کے ساتھ اس کی بقا نہ ہو اس وقت تک اس کی ولایت کامل نہیں ہوتی۔

 
Mufti Imran Madani
About the Author: Mufti Imran Madani Read More Articles by Mufti Imran Madani: 52 Articles with 71595 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.