چین میں کینسر کے علاج میں نمایاں پیش رفت
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین میں کینسر کے علاج میں نمایاں پیش رفت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں بچوں اور نوجوانوں میں کینسر کے علاج اور بقا کی شرح میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جو صحت عامہ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ طبی جریدے دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق چین میں کینسر سے متاثرہ بچوں اور نوعمروں کی مجموعی پانچ سالہ بقا کی شرح 77.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بعض اقسام کے کینسر میں یہ شرح عالمی معیار سے بھی بلند ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت طبی اصلاحات، علاج کے معیاری نظام اور قومی سطح پر مربوط طبی نیٹ ورک کے قیام کا نتیجہ ہے۔
یہ چین میں 19 سال یا اس سے کم عمر مریضوں میں کینسر سے بقا کے رجحانات پر پہلی جامع اور منظم تحقیق ہے۔ اس مطالعے میں 2018 سے 2020 کے دوران تشخیص ہونے والے تقریباً 95 ہزار 200 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق 14 سال سے کم عمر بچوں میں پانچ سالہ بقا کی شرح 77.8 فیصد رہی، جبکہ 15 سے 19 سال کے نوعمروں میں یہ شرح 75.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکیوں میں بقا کی شرح 79 فیصد رہی، جو لڑکوں کی 75.8 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔
تحقیق میں یہ بات خاص طور پر نمایاں کی گئی کہ عالمی ادارۂ صحت کے گلوبل انیشی ایٹو فار چائلڈہُڈ کینسر 2030 کے تحت ترجیح دی گئی بچوں کے چھ بڑے کینسرز میں چین کی پانچ سالہ بقا کی شرح 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بعض اقسام میں یہ شرح 93.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ہدف عالمی ادارۂ صحت کے مقررہ 60 فیصد معیار سے کہیں زیادہ ہے۔
ان چھ اقسام میں ایکیوٹ لمفوبلاسٹک لیوکیمیا، برکٹ لِمفوما، ہوڈکن لِمفوما، ریٹینوبلاسٹوما، وِلمز ٹیومر اور لو گریڈ گلیوما شامل ہیں، جو مجموعی طور پر بچوں کے کینسر کے 50 سے 60 فیصد کیسز پر مشتمل ہیں اور جن کے علاج کے مؤثر اور آزمودہ طریقے موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین میں بچوں کے عام کینسرز، خصوصاً لیوکیمیا اور لِمفوما، کے علاج میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ نیوروبلاسٹوما، ریٹینوبلاسٹوما اور ہوڈکن لِمفوما جیسے کینسرز کے نتائج اب اعلیٰ آمدنی والے ممالک کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
تحقیق میں اس پیش رفت کی وجوہات میں صحت کے شعبے میں مسلسل اصلاحات، طبی انشورنس کی کوریج میں توسیع، بین الصوبائی طبی اخراجات کی بہتر ادائیگی، سنگین امراض کے مریضوں کے لیے معاون پالیسیوں، علاج کے معیاری پروٹوکولز اور قومی سطح پر مربوط علاج کے نیٹ ورک کا قیام شامل ہیں۔
اگرچہ مجموعی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، تاہم تحقیق میں چین کے مختلف علاقوں کے درمیان بقا کی شرح میں نمایاں فرق کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ کم ترقی یافتہ علاقوں میں کینسر سے بقا کی مجموعی شرح 72.6 فیصد رہی، جبکہ زیادہ ترقی یافتہ علاقوں میں یہ 84.9 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ تفاوت خاص طور پر نوعمروں میں زیادہ واضح پائی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 23.5 فیصد مریضوں نے ابتدائی علاج اپنے آبائی علاقے سے باہر جا کر حاصل کیا۔ ایسے مریضوں میں اموات کا خطرہ ان مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا جنہوں نے مقامی سطح پر علاج کروایا۔ تحقیق کے مطابق بین الصوبائی علاج حاصل کرنے والوں اور مقامی علاج کروانے والوں کے درمیان بقا کی شرح میں فرق بعض صورتوں میں 18.2 فیصد تک پہنچ گیا۔
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ علاقائی عدم مساوات کی بنیادی وجوہات میں طبی وسائل کی غیر مساوی تقسیم، مالی مشکلات، انشورنس نظام میں خلا اور سماجی معاونت کے ناکافی ڈھانچے شامل ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ علاقائی سطح پر بچوں کے کینسر کے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں، ریفرل نظام کو معیاری بنایا جائے اور کم وسائل والے علاقوں میں تشخیص کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات خاص طور پر ان کینسرز کے لیے نہایت اہم ہیں جن میں ابھی بھی تشویشناک خلا موجود ہے، جن میں لیوکیمیا، جگر کے ٹیومرز، ہڈیوں کے مہلک ٹیومرز اور نرم بافتوں کے سرطان شامل ہیں، خصوصاً نوعمروں میں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں سے نوعمری اور پھر جوانی میں داخلے کے دوران علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
چین میں بچوں اور نوجوانوں کے کینسر کے علاج میں حاصل ہونے والی یہ پیش رفت عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے اور عالمی ادارۂ صحت کے اہداف کے حصول میں چین کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ تاہم علاقائی عدم مساوات جیسے مسائل اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ طبی ترقی کے ثمرات کو یکساں طور پر تمام طبقات تک پہنچانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سفارش کردہ اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے تو چین نہ صرف اپنی اندرونی مشکلات پر قابو پا سکتا ہے بلکہ بچوں کے کینسر کے علاج کے عالمی معیار کے تعین میں بھی مزید مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ |
|