چین کا مربوط و جدید طرزِ علاج
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین کا مربوط و جدید طرزِ علاج تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا کے تمام ممالک اس وقت ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ "مینٹل ہیلتھ ایٹلس 2024" کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد کسی نہ کسی ذہنی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں بے چینی اور ڈپریشن سب سے زیادہ عام ہیں۔ سماجی، معاشی اور ثقافتی عوامل ان مسائل کی شدت اور نوعیت کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ مختلف ممالک ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے اپنے حالات کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں چین میں ذہنی صحت کے ماہرین روایتی دانش اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرتے ہوئے علاج کے نئے اور مؤثر طریقے اختیار کر رہے ہیں، جنہیں عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ذہنی صحت کی مؤثر نگہداشت اسی وقت ممکن ہے جب علاج مقامی ثقافت اور سماجی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ چین میں ایکیوپنکچر، جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات اور مساج کے ذریعے علاج جیسے روایتی طریقے جدید نفسیاتی علاج کے ساتھ مربوط کیے جا رہے ہیں، جسے چینی اور مغربی طب کا مشترکہ نظام کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ جذباتی توازن، بہتر نیند اور ذہنی دباؤ سے جڑی جسمانی علامات میں کمی کے حوالے سے مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
چینی معاشرتی ڈھانچے میں مضبوط خاندانی اور سماجی رشتے بھی ذہنی صحت کے علاج میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فرد کو خاندان اور کمیونٹی کے ایک مضبوط نیٹ ورک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جو نفسیاتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ علاج کے دوران اگرچہ ادویات یا علمی روایتی تھراپی علامات کو کم کرتی ہیں، تاہم خاندانی تھراپی کو بھی علاج کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے تاکہ تعلقات کی بحالی اور معاونت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
خصوصاً نوجوانوں کے لیے خاندان، اسکول، کمیونٹی اور اسپتال پر مشتمل مربوط نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ علاج اور بحالی کے لیے ایک جامع سماجی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ چین میں جدید ٹیکنالوجی کو بھی ذہنی صحت کے شعبے میں مؤثر طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈپریشن سے متعلق خصوصی ڈیٹا بیس تیار کیے جا رہے ہیں، جن کی مدد سے مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظاموں کی تربیت ممکن بنائی جا رہی ہے۔ آن لائن نفسیاتی مشاورت کے پلیٹ فارمز بھی ابتدائی تشخیص اور بروقت علاج میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
طبی مراکز میں جدید ترین علاجی سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں۔ متعدد اسپتالوں میں برین کمپیوٹر انٹرفیس اور نیوروموڈیولیشن کے خصوصی کلینکس قائم کیے گئے ہیں، جہاں آواز، روشنی، برقی یا مقناطیسی تحریک کے ذریعے ڈپریشن، بائی پولر ڈس آرڈر اور شیزوفرینیا جیسے امراض کا علاج کیا جا رہا ہے۔
شدید نوعیت کے ذہنی امراض، جیسے منشیات کی لت کے علاج کے لیے بعض صورتوں میں دماغ میں نہایت باریک الیکٹروڈز نصب کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے اعصابی نظام کو متوازن کیا جاتا ہے۔
چین ذہنی صحت کے میدان میں عالمی تعاون کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ چینی ماہرین عالمی ادارۂ صحت کے مختلف اقدامات میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں ذہنی صحت، دماغی صحت اور منشیات کے استعمال سے متعلق اسٹریٹجک و تکنیکی مشاورتی گروپس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی سی ڈی۔11کے تحت ذہنی اور اعصابی امراض کی درجہ بندی کی تیاری اور عملی جانچ میں بھی چینی ماہرین نے کردار ادا کیا ہے۔
چینی ماہرین بالخصوص بیلٹ اینڈ روڈ سے منسلک ممالک کے ساتھ علمی تبادلے اور تحقیقی شراکت داری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آئندہ برسوں کے لیے چین کی حکمتِ عملی میں مخصوص کمیونٹیز کے لیے اہدافی اور بروقت روک تھام پر زور دیا جا رہا ہے۔ چین کے قومی صحت کمیشن نے 2025 سے 2027 تک کے عرصے کو "بچوں اور ذہنی صحت کی خدمات کے سال" قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بچوں، نوجوانوں، حاملہ اور زچہ خواتین اور معمر افراد کے لیے اسکریننگ، ابتدائی مداخلت اور ٹیکنالوجی سے مدد یافتہ خدمات کو وسعت دی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی اور قبولیت کے فروغ کے لیے عوامی مہمات، ٹیلی وژن پروگرامز، کمیونٹی آرٹ منصوبے اور مختصر تعلیمی ویڈیوز کے ذریعے سماجی شعور بیدار کرنے کی کوششیں بھی تیز کی جا رہی ہیں، تاکہ ذہنی امراض سے جڑے تعصبات کا خاتمہ ہو اور متاثرہ افراد کو عملی سماجی سہارا فراہم کیا جا سکے۔
وسیع تناظر میں چین کا ماڈل ذہنی صحت کے علاج میں روایت، ٹیکنالوجی اور سماجی شمولیت کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال بن کر ابھر رہا ہے، جسے ایک زیادہ ہمدرد، باشعور اور معاون معاشرے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ |
|