چین میں دیہی احیا کی نئی علامت
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین میں دیہی احیا کی نئی علامت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین کے وسطی صوبے حوبے کے ایک گاؤں میں دیہی زندگی کی روایت اور جدید شہری ثقافت کا ایک منفرد امتزاج سامنے آ رہا ہے، جہاں ایک سادہ فارم ہاؤس میں قائم کیفے دیہی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کی نئی علامت بن چکا ہے۔ شیانگ وان گاؤں میں واقع یہ کیفے، جس کا نام "ہیلو نیو ولیجرز" ہے، اب مقامی آبادی کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکا ہے۔
ابتدا میں غیر مانوس سمجھی جانے والی کافی کی خوشبو اب گاؤں کے ماحول میں گھل مل گئی ہے۔ مقامی افراد کام کے بعد یہاں آرام کے لیے آتے ہیں یا دوستوں کے ساتھ بیٹھک لگاتے ہیں، جبکہ یہ مقام آہستہ آہستہ سماجی میل جول کے ایک نئے مرکز کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق، جہاں پہلے مہمان نوازی گھروں میں کی جاتی تھی، اب کیفے میں بیٹھ کر کافی اور مٹھائی کے ساتھ ملاقات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کیفے کے منتظمین کے مطابق سال 2025 کے دوران یہاں تقریباً ایک لاکھ افراد کی آمدورفت ہوئی، جبکہ آمدن 14 لاکھ یوآن سے تجاوز کر گئی۔ روزانہ اوسطاً 80 کپ کافی فروخت ہوتی ہے، جبکہ اختتامِ ہفتہ پر یہ تعداد 150 کپ تک پہنچ جاتی ہے۔
کیفے کی بانی نے آرٹ ڈیزائن میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مقامی حکومت میں ملازمت اختیار کی تھی، تاہم دیہی احیا کی قومی پالیسی سے متاثر ہو کر انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور مختلف صوبوں کے دیہی علاقوں کا دورہ کیا۔ بالآخر انہوں نے شیانگ وان گاؤں کا انتخاب کیا، جہاں سیاحت کے امکانات اور زرعی بنیادوں نے انہیں کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے سفید دیواروں اور سرخ چھتوں والے 600 مربع میٹر کے ایک فارم ہاؤس کو کرائے پر لے کر 2022 میں کیفے کا آغاز کیا۔ کیفے کے اندر سبزہ اور قدرتی سجاوٹ کو نمایاں رکھا گیا ہے، جبکہ خوشگوار موسم میں کھلی فضا میں بھی کافی پیش کی جاتی ہے۔
یہ کیفے محض مشروبات کا مرکز نہیں بلکہ مقامی زرعی مصنوعات کے لیے فروغ کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق دیہی علاقوں میں معیاری زرعی اجناس کی فروخت برانڈنگ اور مستقل فروختی ذرائع کی کمی کے باعث محدود رہتی ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے کیفے نے مقامی مصنوعات کی نئی پیکجنگ متعارف کرائی اور آن لائن فروخت کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی ممکن بنائی۔
گزشتہ برس مقامی مصنوعات وسیع پیمانے پر فروخت کی گئیں، جبکہ مقامی نمائندے ان مصنوعات کی جمع آوری میں تعاون فراہم کرتے ہیں۔ اس اقدام سے کسانوں میں خوشی پائی جاتی ہے کیونکہ ان کی محنت کو بہتر منڈی میسر آ رہی ہے۔
کیفے نے زرعی معاونت کے تحت خصوصی رعایتی پیکجز بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں کافی، دیسی انڈہ اور مقامی ناشتہ کم قیمت پر فراہم کیا جاتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد شہری اور دیہی صارفین کو مقامی مصنوعات سے متعارف کرانا ہے۔
یہ مقام بچوں کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بھی بن چکا ہے، جہاں وہ اسکول کے بعد ہوم ورک کرتے ہیں، جبکہ خواتین کے لیے بیکری کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ وہ روایتی خوراک کے ساتھ نئی مہارتیں بھی سیکھ سکیں۔
کیفے کے قیام کے بعد عملے کی تعداد دو سے بڑھ کر دس سے زائد ہو گئی ہے، جن میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو روزگار کے لیے واپس اپنے آبائی علاقوں میں آئے ہیں۔ اس کے علاوہ معذور افراد کو بھی روزگار فراہم کیا گیا ہے، جسے دیہی شمولیت کی ایک مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں چین کے دیہی علاقوں میں مختلف نوعیت کے کیفے تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، جو جھیلوں، پہاڑوں، کھیتوں اور باغات کے قریب قائم کیے جا رہے ہیں۔ کافی، جو کبھی شہری اور مغربی ثقافت کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب چین میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، اور اندازوں کے مطابق اس کی کھپت 2025 تک ایک کھرب یوآن سے تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ کیفے شہری سیاحوں کو قدرتی ماحول کی طرف راغب کر رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو نئے خیالات اور معاشی مواقع میسر آ رہے ہیں۔ یوں یہ مراکز دیہی سیاحت کے فروغ اور گاؤں کی مجموعی شکل و صورت میں تبدیلی کا سبب بن رہے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق کافی کو ذریعہ اور گاؤں کو مرکز بنا کر شروع کیا جانے والا یہ ماڈل دیہی سیاحت، روزگار اور صنعتی ترقی کو نئی جہت دے رہا ہے۔ مجموعی طور پر شیانگ وان گاؤں میں قائم کیفے دیہی چین میں جاری معاشی اور سماجی تبدیلیوں کی ایک واضح مثال بن چکا ہے، جو دیہی احیا کی حکمتِ عملی کو عملی شکل دینے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ |
|