سوشل میڈیا اور ہمارے بچے
(Javeria Ansari, Karachi)
سوشل میڈیا، جس میں فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ شامل ہیں، ایک طرف تو زندگی میں بڑی آسانیوں کا ذریعہ بن چکا ہے، لیکن دوسری طرف ہماری نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد اس کا غلط استعمال کر کے جہالت کے اندھیروں میں جا رہی ہے۔ جب ہمارا طالبِ علمی کا دور تھا تو اس وقت سوشل میڈیا اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ شیطان نے اس کے ذریعے ہر برائی اور گناہ کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا اور والدین کا کردار آج کے دور میں والدین کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، مگر افسوس کہ بہت سے والدین یہ بات بھول چکے ہیں کہ ان کی اولاد ہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔ آج کل زیادہ تر والدین کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ بچوں کی ہر خواہش پوری کر دی جائے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں ذاتی موبائل فون دے دیے جاتے ہیں یا وہ والدین کے موبائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ ایک ماں نے شکایت کی کہ اس کی دوسری جماعت میں پڑھنے والی بیٹی اور اس کی سہیلیوں نے واٹس ایپ پر اتنے گروپ بنا لیے ہیں کہ وہ گھنٹوں باتیں کرتی رہتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی کم عمر بچی کو موبائل استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی؟ والدین کا کام صرف بچوں کو سہولیات فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کی ایسی تربیت کرنا بھی ہے کہ اگر برائی ان کے سامنے آئے تو وہ اسے برائی سمجھیں، خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث کے مطابق انسان کے مرنے کے بعد اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: علمِ نافع، صدقۂ جاریہ اور نیک اولاد۔ اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم اپنی اولاد کو صرف اسکول، مدرسے، ٹیوشن اور سوشل میڈیا کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہیں یا واقعی دن رات محنت کر کے انہیں اچھا انسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور حلال کمائی نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن انسان کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے پانچ سوال نہ کر لیے جائیں: عمر کن کاموں میں گزاری؟ جوانی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا؟ مال کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟ (ترمذی) کیا ہم ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار ہیں؟ آج کل حلال اور حرام کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔ مشہور ہونے اور پیسہ کمانے کی دوڑ نے حیا کو کمزور کر دیا ہے۔ بہت سی خواتین سوشل میڈیا پر اپنی نمائش کر رہی ہیں، حتیٰ کہ نجی خاندانی لمحات تک دنیا کے سامنے رکھے جا رہے ہیں، جس سے حسد، لالچ اور بے سکونی بڑھ رہی ہے۔ ہمارے رول ماڈل نبی ﷺ اور صحابیات کے بجائے ٹک ٹاکرز بنتے جا رہے ہیں۔ آن لائن کھانے اور دیگر اشیاء منگوانا جہاں سہولت ہے، وہیں نوجوانوں میں محنت سے دوری، موٹاپا اور کئی بیماریوں کا سبب بھی بن رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے فائدے ضرور ہیں، لیکن نقصانات بھی کم نہیں۔ اصل زندگی ایک بٹن دبانے سے نہیں بدلتی۔ ہر مقام تک پہنچنے کے لیے مسلسل محنت ضروری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کو صحیح حدود میں استعمال کیا جائے، بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ٹیکنالوجی دی جائے اور وہ بھی والدین کی نگرانی میں۔ بچوں کو ایسے کارٹون اور پروگرام دکھائے جائیں جن میں اخلاقیات اور اچھے اسباق ہوں، نہ کہ بے حیائی، موسیقی اور غلط مناظر۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔ یہ متن اب زبان، املا اور اندازِ تحریر کے لحاظ سے میگزین میں شائع ہونے کے قابل ہے۔ |
|