عالمی سائنسی تحقیق میں چین کی برتری
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
عالمی سائنسی تحقیق میں چین کی برتری تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ
آج کی دنیا میں سائنسی تحقیق اور جدت طرازی کسی بھی ملک کی ترقی، اقتصادی قوت اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے اہم پیمانوں میں شمار ہوتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، حیاتیاتی علوم، ماحولیات اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں تیزی سے جاری عالمی مسابقت کے دوران چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں تحقیق و ترقی کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ حالیہ بین الاقوامی درجہ بندیوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ چین نہ صرف سائنسی تحقیق کے حجم کے اعتبار سے دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہے بلکہ اعلیٰ معیار کی تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے عالمی سائنسی منظرنامے کو بھی نئی شکل دے رہا ہے۔
حال ہی میں جاری ہونے والی 2026 نیچر انڈیکس ریسرچ لیڈرز رینکنگ کے مطابق چین مسلسل ایک بار پھر دنیا میں سائنسی تحقیق کا سب سے بڑا شراکت دار بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 سے 2025 کے دوران چین کے تحقیقی حصہ یا "شیئر" میں 22.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عالمی ٹاپ 10 ممالک میں چین واحد ملک رہا جس نے "ڈبل ڈیجٹ"پر مشتمل ترقی کی شرح برقرار رکھی۔
نیچر انڈیکس کو عالمی سطح پر تحقیقی کارکردگی جانچنے کے معتبر ترین پیمانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس درجہ بندی میں مختلف ممالک، جامعات اور تحقیقی اداروں کی کارکردگی کو عالمی سطح پر شائع ہونے والے معیاری تحقیقی مقالات کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق چین نے سات میں سے پانچ بڑے سائنسی شعبوں میں دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان شعبوں میں طبیعیاتی علوم، کیمیاء، حیاتیاتی علوم، اطلاقی علوم اور ارضی و ماحولیاتی علوم شامل ہیں۔
کیمیاء کے میدان میں چین کی ترقی خاص طور پر قابلِ توجہ رہی ہے۔ نیچر کے تجزیے کے مطابق 2015 کے بعد سے اس شعبے میں چین کی تحقیقی پیداوار میں تقریباً 350 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں عالمی سطح پر کیمیائی تحقیق میں چین کا حصہ 53 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ دوسرے نمبر پر موجود امریکہ کا حصہ صرف 15 فیصد رہا۔ یہ اعداد و شمار اس شعبے میں چین کی نمایاں برتری کو ظاہر کرتے ہیں۔
اطلاقی علوم کے شعبے میں عالمی سطح پر پہلی 31 پوزیشنوں پر چینی ادارے موجود ہیں جبکہ کیمیاء کے میدان میں پہلی 14 پوزیشنیں بھی چین کے حصے میں آئیں۔ اسی طرح ارضی اور ماحولیاتی علوم کے شعبے میں دنیا کے دس بہترین اداروں میں سے نو کا تعلق چین سے ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چین بنیادی تحقیق کے ساتھ ساتھ عملی اور صنعتی نوعیت کی تحقیق میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
رواں سال نیچر انڈیکس میں پہلی مرتبہ سماجی علوم اور اطلاقی علوم کو بھی شامل کیا گیا۔ سماجی علوم کے شعبے میں، جس پر طویل عرصے تک مغربی اداروں کی اجارہ داری رہی، چین کی ممتاز جامعہ سنگہوا یونیورسٹی عالمی سطح پر سرفہرست پانچ اداروں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ چین اب صرف سائنسی اور تکنیکی شعبوں ہی نہیں بلکہ سماجی اور انسانی علوم میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہا ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز نے مجموعی درجہ بندی میں ایک مرتبہ پھر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس ادارے نے صحت عامہ اور سماجی علوم کے علاوہ دیگر پانچوں شعبوں میں عالمی قیادت برقرار رکھی۔ مجموعی طور پر دنیا کے ٹاپ 10 اداروں میں سے نو ادارے چین سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر پہلے 100 تحقیقی اداروں میں چینی اداروں کی تعداد 47 سے بڑھ کر 51 ہو گئی ہے۔
جامعات کی درجہ بندی میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی جہاں زے جیانگ یونیورسٹی نے ہارورڈ یونیورسٹی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی نمبر ایک تحقیقی جامعہ کا اعزاز حاصل کر لیا۔ 2015 سے مسلسل سرفہرست رہنے والی ہارورڈ یونیورسٹی کی یہ برتری پہلی مرتبہ ختم ہوئی ہے۔ مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی ٹاپ 10 جامعات میں باقی تمام نو مقامات بھی چینی جامعات نے حاصل کیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ کامیابیاں محض تحقیقی مقالات کی تعداد میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ تحقیق کے معیار میں نمایاں بہتری کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ کئی برس قبل چین سے شائع ہونے والے تحقیقی مقالات شاذ و نادر ہی عالمی جرائد میں دکھائی دیتے تھے، لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔ 2025 میں صرف نیچر جریدے میں شائع ہونے والے 200 سے زائد تحقیقی مقالات کے رابطہ مصنفین کا تعلق چین سے تھا۔
بین الاقوامی تحقیقی اداروں کی دیگر رپورٹس بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتی ہیں۔ آسٹریلین اسٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اہم اور حساس ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں چین کی تحقیقی قیادت اب ایک مستقل اور ساختی حقیقت بن چکی ہے۔ اسی طرح عالمی دانشورانہ املاک کی تنظیم کی رپورٹ میں بھی چین کو جدت طرازی اور بین الاقوامی سائنسی تعاون کے فروغ میں ایک اہم کردار قرار دیا گیا۔
چین کی بڑھتی ہوئی تحقیقی صلاحیت عالمی سائنسی تعاون کے نئے دروازے بھی کھول رہی ہے۔ نیچر انڈیکس کے ساتھ شائع ہونے والے ایک تجزیے میں بتایا گیا کہ چین اور جنوبی کوریا کے درمیان قدرتی اور طبی علوم میں مشترکہ تحقیقی مقالات کی تعداد صرف ایک سال کے دوران تقریباً 50 فیصد بڑھ گئی۔ یہ دنیا میں تیزی سے فروغ پانے والی سائنسی شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی طبی جریدے "دی لینسٹ" کے ایک اداریے میں کہا گیا کہ چین کی سائنسی ترقی کو ایک عالمی موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کیونکہ جدید دور کے پیچیدہ چیلنجز، خواہ وہ موسمیاتی تبدیلی ہو، وبائی امراض ہوں یا توانائی کے مسائل، ان کا حل صرف عالمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
چین کی حالیہ کامیابیاں اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ تحقیق، تعلیم اور جدت طرازی میں مسلسل سرمایہ کاری کسی بھی قوم کی طویل المدتی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ آج چین کی جامعات، تحقیقی مراکز اور سائنسی ادارے نہ صرف عالمی درجہ بندیوں میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں بلکہ انسانی ترقی اور سائنسی پیش رفت کے عالمی عمل میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، حیاتیاتی علوم اور سبز ترقی جیسے شعبوں میں چین کی مزید پیش رفت نہ صرف ملکی ترقی کو نئی رفتار دے سکتی ہے بلکہ عالمی سائنسی تعاون اور انسانی فلاح کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔
|
|