کیا قومی ہاکی میں میرٹ صرف ایک نعرہ رہ گیا ہے؟کیا بیوروکریسی ہاکی کو برباد کر رہی ہے؟


پاکستان کی قومی ہاکی ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں شکست صرف میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ اعتماد، شفافیت اور گورننس بھی سوالات کی زد میں آ چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پاکستان ہاکی دنیا کی سب سے کامیاب ٹیموں میں شمار ہوتی تھی۔ اولمپکس، ورلڈ کپ اور ایشین گیمز میں پاکستان کا نام عزت اور برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس کامیابی کے پیچھے صرف باصلاحیت کھلاڑی نہیں بلکہ ایک ایسا انتخابی نظام بھی موجود تھا جس پر کھلاڑیوں اور عوام دونوں کو اعتماد تھا۔ قومی چیمپئن شپ کو قومی ٹیم کی بنیاد تصور کیا جاتا تھا، جہاں سے بہترین کھلاڑی سامنے آتے، قومی تربیتی کیمپ تشکیل پاتا اور کئی مراحل کی جانچ کے بعد حتمی ٹیم منتخب کی جاتی تھی۔

بدقسمتی سے آج وہی نظام سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں قومی ہاکی، خصوصاً خواتین کی جونیئر ٹیم کے انتخاب کے حوالے سے سامنے آنے والے اعتراضات نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا پاکستان میں میرٹ واقعی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے یا پھر یہ صرف تقریروں اور بیانات تک محدود ہو چکا ہے؟جن سوالات نے جنم لیا ہے، وہ اتنے اہم ضرور ہیں کہ ان پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ کھیلوں کے اداروں میں شفافیت صرف اچھے نظم و نسق کا تقاضا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد بھی ہوتی ہے۔

اعتراضات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خواتین کی جونیئر قومی ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کا انتخاب مبینہ طور پر نیشنل چیمپئن شپ مکمل ہونے سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق منتخب کھلاڑیوں کے سفری دستاویزات اور دیگر انتظامات بھی پہلے سے کیے جا رہے تھے۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک انتظامی غلطی نہیں ہوگی بلکہ پورے سلیکشن سسٹم کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن جائے گی۔یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کون منتخب ہوا اور کون نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ٹیم پہلے ہی منتخب ہو چکی تھی تو پھر قومی چیمپئن شپ کا مقصد کیا تھا؟ اگر مقابلوں کی کارکردگی سے انتخاب پر کوئی اثر نہیں پڑنا تھا تو پھر ملک بھر سے کھلاڑیوں کو کیوں بلایا گیا؟ کیوں انہیں یہ امید دی گئی کہ ان کی محنت قومی ٹیم تک پہنچنے کا راستہ بن سکتی ہے؟

دنیا کے تقریباً تمام کامیاب ہاکی ممالک میں قومی چیمپئن شپ کو سلیکشن کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ آسٹریلیا، نیدرلینڈز، جرمنی، بیلجیئم اور برطانیہ جیسے ممالک میں قومی سطح کے مقابلے صرف ٹرافی جیتنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ یہی مقابلے قومی ٹیم کے انتخاب کی بنیاد بنتے ہیں۔ کوچز اور سلیکٹرز انہی مقابلوں میں کھلاڑیوں کی تکنیکی مہارت، فٹنس، ذہنی مضبوطی، دباو¿ میں کھیلنے کی صلاحیت اور ٹیم ورک کا جائزہ لیتے ہیں۔

پاکستان میں بھی برسوں تک یہی روایت رہی۔ قومی چیمپئن شپ کے بعد تربیتی کیمپ لگتا، کھلاڑیوں کا کئی ہفتوں تک مشاہدہ کیا جاتا، فٹنس ٹیسٹ ہوتے اور پھر حتمی ٹیم سامنے آتی۔ اس پورے عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ ہر کھلاڑی کو یقین ہوتا تھا کہ اس کی قسمت کا فیصلہ میدان میں ہونے والی کارکردگی کرے گی، نہ کہ بند کمروں میں ہونے والی ملاقاتیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے ہر قومی ٹیم کے اعلان کے بعد میرٹ پر سوالات اٹھنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مرتبہ فیصلے درست بھی ہوتے ہیں، لیکن چونکہ ان کی وجوہات عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں، اس لیے شکوک و شبہات ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔

شفافیت کی کمی کسی بھی ادارے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔ اگر فیصلے درست ہوں لیکن ان کی وضاحت نہ کی جائے تو وہ بھی متنازع دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر فیصلوں کے ساتھ مکمل دستاویزی ریکارڈ موجود ہو تو شدید اختلاف رکھنے والے افراد بھی کم از کم اس عمل کی شفافیت کو تسلیم کرتے ہیں۔پاکستان ہاکی کو آج سب سے زیادہ اسی شفافیت کی ضرورت ہے۔

ایک نوجوان کھلاڑی کئی سال تک ضلعی، صوبائی اور قومی سطح پر مسلسل محنت کرتا ہے۔ وہ اپنی تعلیم، روزگار اور ذاتی زندگی پر سمجھوتہ کر کے کھیل کو وقت دیتا ہے۔ اس کے ذہن میں صرف ایک خواب ہوتا ہے کہ ایک دن وہ پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔ لیکن اگر اسے یہ محسوس ہونے لگے کہ کارکردگی کے بجائے دیگر عوامل زیادہ اہم ہیں تو اس کی محنت کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ قومی ٹیلنٹ ضائع ہونے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں بہت سے باصلاحیت نوجوان یا تو کھیل چھوڑ دیتے ہیں یا پھر کسی اور شعبے کا رخ کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی ٹیم میں حقیقی مقابلہ کمزور پڑ جاتا ہے اور معیار مسلسل گرتا چلا جاتا ہے۔

اعتراضات کا ایک اور اہم پہلو قومی چیمپئن شپ پر ہونے والے مالی اخراجات سے بھی متعلق ہے۔ اگر مختلف صوبوں سے ٹیموں کو بلایا گیا، ان کے سفر، رہائش، خوراک اور دیگر انتظامات پر سرکاری یا فیڈریشن کے وسائل خرچ ہوئے تو عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اس ایونٹ سے حاصل کیا ہوا اور اس کے طے شدہ مقاصد کس حد تک پورے ہوئے۔اسی لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے وضاحت کریں کہ نیشنل چیمپئن شپ نے قومی ٹیم کے انتخاب میں عملی طور پر کیا کردار ادا کیا، اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس کے نتائج کیا حاصل ہوئے۔

اس تمام بحث کا ایک اور اہم پہلو کھیلوں میں بیوروکریسی کے کردار سے متعلق ہے۔ یہ سوال آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے مختلف کھیلوں میں زیر بحث رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کھیلوں کے ادارے صرف انتظامی مہارت سے کامیاب ہو سکتے ہیں، یا پھر تکنیکی فیصلوں میں کھیل سے وابستہ ماہرین کی مرکزی حیثیت ہونی چاہیے؟حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی کامیاب کھیل کے نظام کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیوروکریٹس بجٹ، منصوبہ بندی، سرکاری قواعد، مالی نظم و نسق اور انتظامی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں، جبکہ سابق بین الاقوامی کھلاڑی، کوچز اور تکنیکی ماہرین کھیل کی عملی ضروریات، سلیکشن، تربیت، حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی نفسیات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان دونوں کے اختیارات میں توازن ختم ہو جائے۔ اگر انتظامی افسر تکنیکی معاملات میں فیصلہ سازی شروع کر دیں یا تکنیکی ماہرین کو محض رسمی حیثیت دے دی جائے تو پھر اعتراضات جنم لینا فطری بات ہے۔ دنیا کے کامیاب کھیلوں کے نظام میں انتظامی اور تکنیکی ذمہ داریوں کے درمیان واضح تقسیم موجود ہوتی ہے۔ بجٹ اور پالیسی اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ کہ قومی ٹیم میں کون کھیلے گا، بنیادی طور پر تکنیکی عمل ہونا چاہیے۔

پاکستان میں اکثر مسئلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ کس نے کیا بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ فیصلہ کیوں کیا گیا، اس کی دستاویزی بنیاد کیا تھی اور اس کی وضاحت عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئی۔یہی وجہ ہے کہ قومی ٹیم کے ہر اعلان کے بعد سوشل میڈیا، سابق کھلاڑیوں اور کھیل سے وابستہ حلقوں میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اگر سلیکشن کمیٹی اپنے فیصلوں کے ساتھ مختصر تکنیکی رپورٹ جاری کر دے تو شاید ان میں سے زیادہ تر اعتراضات خود بخود ختم ہو جائیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی بعض اوقات ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جو بظاہر غیر معمولی نظر آتے ہیں۔ کوئی تجربہ کار کھلاڑی انجری کی وجہ سے قومی چیمپئن شپ نہیں کھیل پاتا، لیکن پھر بھی قومی ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ کہیں کسی نوجوان کھلاڑی کو مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت موقع دیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ان فیصلوں کی وضاحت بھی کی جاتی ہے۔ اسی شفافیت کی وجہ سے اختلافات پیدا ہونے کے باوجود اداروں پر اعتماد قائم رہتا ہے۔

پاکستان ہاکی کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اصل بحران افراد کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں کوچز بدلے، سلیکٹرز تبدیل ہوئے، فیڈریشن کے عہدیدار بدلے اور مختلف انتظامی تجربات بھی کیے گئے، لیکن قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی میں وہ بہتری نہیں آ سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف چہروں کی تبدیلی کافی نہیں، بلکہ قواعد اور طریقہ کار کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔

ایک مضبوط ادارہ وہ نہیں ہوتا جہاں اچھے لوگ موجود ہوں بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں مضبوط قوانین موجود ہوں۔ جہاں فیصلے شخصیات کے بجائے تحریری اصولوں کے مطابق کیے جائیں۔ جہاں ہر اخراجات کا مکمل ریکارڈ ہو، ہر سلیکشن کی واضح بنیاد ہو اور ہر اعتراض کا جواب دستاویزات کے ذریعے دیا جا سکے۔پاکستان ہاکی میں اصلاحات کے لیے کسی غیر معمولی انقلاب کی ضرورت نہیں۔ چند بنیادی اقدامات بھی بہت بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے قومی ٹیم کے انتخاب کا تحریری معیار عوام کے سامنے رکھا جائے۔ واضح کیا جائے کہ حالیہ کارکردگی، فٹنس، تجربہ، تکنیکی مہارت، نظم و ضبط اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں سے ہر عنصر کو کتنی اہمیت دی جائے گی۔ اس سے کھلاڑیوں کو بھی معلوم ہوگا کہ انہیں کن شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھانی ہے۔دوسرا، ہر قومی چیمپئن شپ کے بعد سلیکشن کمیٹی ایک مختصر تکنیکی رپورٹ جاری کرے۔ اس رپورٹ میں یہ بتایا جائے کہ کن کھلاڑیوں کو کن بنیادوں پر منتخب کیا گیا اور اگر کسی نمایاں کھلاڑی کو نظر انداز کیا گیا تو اس کی بنیادی وجہ کیا تھی۔

تیسرا، اگر کسی غیر معمولی صورتحال میں کسی ایسے کھلاڑی کو منتخب کیا جاتا ہے جس نے قومی چیمپئن شپ میں شرکت نہیں کی یا مکمل نہیں کھیل سکا، تو اس فیصلے کی بھی واضح وضاحت دی جائے۔ اس سے غیر ضروری افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگا۔چوتھا، قومی چیمپئن شپ اور دیگر بڑے ایونٹس کے مالی اخراجات کی سالانہ رپورٹ جاری کی جائے۔ عوامی وسائل عوام کی امانت ہوتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے ہونی چاہییں۔ یہ عمل صرف احتساب کے لیے نہیں بلکہ ادارے کی ساکھ مضبوط بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔

پانچواں، جدید ٹیکنالوجی کو سلیکشن کے عمل کا حصہ بنایا جائے۔ ہر قومی چیمپئن شپ کے میچز کی ویڈیو ریکارڈنگ، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار، فٹنس رپورٹس اور تکنیکی تجزیے محفوظ کیے جائیں تاکہ کسی بھی فیصلے کی بنیاد صرف رائے نہیں بلکہ ریکارڈ ہو۔یہ تمام اقدامات دنیا کے کئی کامیاب کھیلوں کے نظام میں پہلے ہی موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔

البتہ ایک اور بات بھی اتنی ہی اہم ہے۔ کسی بھی الزام کو ثبوت کے بغیر حقیقت مان لینا درست نہیں۔ صحافت اور قانون دونوں کا بنیادی اصول یہی ہے کہ الزام اور ثبوت کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔ اگر اعتراضات بے بنیاد ہیں تو متعلقہ اداروں کو انہیں دستاویزی شواہد سے رد کرنا چاہیے۔ اگر کہیں انتظامی کمزوری موجود ہے تو اسے تسلیم کر کے اصلاح کرنی چاہیے۔ دونوں صورتوں میں خاموشی مسئلے کا حل نہیں بنتی بلکہ شکوک و شبہات میں اضافہ کرتی ہے۔

پاکستان ہاکی اس وقت صرف خراب نتائج کے بحران سے نہیں بلکہ اعتماد کے بحران سے بھی گزر رہی ہے۔ اعتماد وہ سرمایہ ہوتا ہے جسے بنانے میں برسوں لگتے ہیں لیکن کھونے میں صرف چند فیصلے کافی ہوتے ہیں۔قومی ہاکی کو دوبارہ عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے کے لیے صرف نئے کوچ، زیادہ بجٹ یا غیر ملکی دورے کافی نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ایسا نظام درکار ہوگا جس پر کھلاڑی، کوچ، سابق اسٹارز، شائقین اور عوام سب اعتماد کر سکیں۔

اصل کامیابی اس دن ہوگی جب ہر نوجوان کھلاڑی کو یقین ہوگا کہ قومی ٹیم تک پہنچنے کا واحد راستہ اس کی کارکردگی ہے، سفارش نہیں۔ جب قومی چیمپئن شپ واقعی ٹیلنٹ کی نرسری بنے گی، جب سلیکشن تحریری اصولوں کے مطابق ہوگی، جب ہر اخراجات کا مکمل حساب موجود ہوگا اور جب ہر سوال کا جواب ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر دیا جائے گا۔اگر ایسا ہو گیا تو پاکستان ہاکی ایک مرتبہ پھر مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوگا، مقابلے کا معیار بلند ہوگا اور قومی ٹیم کو بھی بہترین ٹیلنٹ میسر آئے گا۔

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1021 Articles with 789120 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More