ایف ایل 2 ایم ایم اے چیمپئن شپ اختتام پذیر، 22 سنسنی خیز مقابلوں نے پاکستان میں مکسڈ مارشل آرٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کردی
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور: پاکستان سپورٹس بورڈ اینڈ کوچنگ سینٹر کے جمنازیم ہال میں ہونے والی آر ایف ایل 2 (RFL 2) مکسڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ صرف ایک کھیلوں کا ایونٹ نہیں تھی بلکہ اس نے پاکستان میں کمبیٹ سپورٹس، بالخصوص ایم ایم اے کے تیزی سے فروغ پاتے ہوئے سفر کی ایک واضح تصویر پیش کی۔ ملک کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے نامور اور ابھرتے ہوئے فائٹرز نے ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان میں مکسڈ مارشل آرٹس اب محدود حلقوں کا کھیل نہیں بلکہ نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے والا ایک منظم کھیل بن چکا ہے۔
چیمپئن شپ کے دوران مجموعی طور پر 22 مقابلے منعقد ہوئے جن میں 4 پروفیشنل اور 18 ایمیچر فائٹس شامل تھیں۔ ہر مقابلہ اپنے اندر الگ سنسنی، حکمت عملی، جسمانی فٹنس اور تکنیکی مہارت لیے ہوئے تھا۔ فائٹرز نے نہ صرف جارحانہ انداز اپنایا بلکہ دفاعی صلاحیتوں، برداشت اور کھیل کے اعلیٰ اخلاق کا بھی شاندار مظاہرہ کیا۔
پروفیشنل مقابلوں میں راولپنڈی کے پیشن اسپارٹن کلب کے کاشف علی اور فہیم خان، ڈی آئی خان کے ایل ڈی ایف سی لائنز ڈینز فائٹنگ کلب کے ذیشان محسود اور کوئٹہ کے محمد مہدی سمیت دیگر فائٹرز نے اپنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ان مقابلوں نے شائقین کو اعلیٰ معیار کی فائٹنگ دیکھنے کا موقع فراہم کیا جبکہ نوجوان فائٹرز کے لیے بھی یہ مقابلے سیکھنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوئے۔
اگرچہ پروفیشنل فائٹس نے حاضرین کی توجہ حاصل کی، تاہم ایمیچر مقابلوں میں شریک نوجوان فائٹرز نے بھی ثابت کیا کہ پاکستان میں نئے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ہر فائٹر نے اپنی اکیڈمی اور شہر کی نمائندگی کرتے ہوئے بھرپور اعتماد اور جذبے کے ساتھ مقابلہ کیا۔
ایمیچر مقابلوں کے فاتحین میں 50 کلوگرام میں ثناء اللہ خان (ٹیم الفا رونن، پشاور)، 47 کلوگرام میں مجیب الرحمان (ٹیم الفا رونن، پشاور)، 52 کلوگرام میں محمد مغیرہ (ٹیم الفا رونن، پشاور)، 65 کلوگرام میں سجاد خان لودھی (انڈر گراؤنڈ وولف، راولپنڈی)، 70 کلوگرام میں محمد طلحہ (ککس، راولپنڈی)، 56 کلوگرام میں نصر اللہ (ککس، راولپنڈی)، 61 کلوگرام میں عبداللہ زمان (زمان ایکسٹریم، ٹیکسلا)، 70 کلوگرام میں ہارون (ککس، راولپنڈی)، 79 کلوگرام میں افنان محسود (ایل ڈی ایف سی، ڈی آئی خان)، 56 کلوگرام میں ضیا الرحمن (بادشاہ ووشو اکیڈمی، کراچی)، 70 کلوگرام میں سجاد اسکارپین (ٹیم اسکارپین سپورٹس، کوئٹہ)، 65 کلوگرام میں محمد کرار (بادشاہ ووشو اکیڈمی، کراچی)، 56 کلوگرام میں حضرت علی (آر ایف سی ایم ایم اے، سوات)، 56 کلوگرام میں شہاب چنگیزی (اے ایف این، پشاور)، 56 کلوگرام میں احمد عماد (انڈر گراؤنڈ وولف، راولپنڈی)، 65 کلوگرام میں اسام تاجک (زمان ایکسٹریم، ٹیکسلا)، 56 کلوگرام میں محب اللہ (ککس، راولپنڈی) اور 58 کلوگرام میں یحییٰ (پیشن اسپارٹن، راولپنڈی) شامل تھے۔
یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم اکیڈمیاں اور کلب نوجوان فائٹرز کو منظم انداز میں تربیت دے رہے ہیں۔ پشاور، راولپنڈی، کراچی، کوئٹہ، ڈی آئی خان، ٹیکسلا اور سوات سے تعلق رکھنے والے فائٹرز کی کامیابی نے ملک میں ایم ایم اے کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کو اجاگر کیا۔
مقابلوں کے دوران ریفریز کے سربراہ ناصر خان یوسفزئی تھے جبکہ شفیع الرحمان، محمد زمان اور نعمت اللہ نے بھی ریفریز کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ آفیشلز میں وقار حیدر، ہمایوں چنگیزی، اشفاق مہمند، بصیر احمد، محمد علی، عرفان خان اور صابر شاہ شامل تھے، جنہوں نے ایونٹ کو منظم انداز میں چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
چیمپئن شپ کی نگرانی پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اور آئی ایف ٹی فائٹ پاس کے نائب صدر اسامہ محبوب اعوان نے کی۔ ان کے ساتھ صوبائی سیکرٹری امین احمد، صوبائی صدر شفیع الرحمان اور کراٹے ایسوسی ایشن کے صدر خالد نور بھی موجود تھے، جنہوں نے مقابلوں کے انتظامی اور تکنیکی امور کا جائزہ لیا۔
اختتامی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر، شاہ فیصل اور ڈائریکٹر یوتھ افیئرز عباس آفریدی نے بطور مہمانان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فائٹرز میں ٹرافیاں، میڈلز اور انعامات تقسیم کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
تقریب میں رحمت گل، نجم اللہ، خضر اللہ، نعمت اللہ اور شیہان محمد نعیم سمیت مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے عہدیدار بھی شریک ہوئے، جنہوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور کمبیٹ سپورٹس کے فروغ کے لیے ایسے ایونٹس کی اہمیت پر زور دیا۔
منتظمین کے مطابق آر ایف ایل 2 چیمپئن شپ کا انعقاد کمشنر پشاور اور سیکرٹری سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز کے تعاون سے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کا مقصد نوجوان فائٹرز کو قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا، ایم ایم اے کے معیار کو بہتر بنانا اور پاکستان میں کمبیٹ سپورٹس کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مکسڈ مارشل آرٹس کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف شہروں میں نئی اکیڈمیاں قائم ہو رہی ہیں، تربیتی سہولیات بہتر ہو رہی ہیں اور نوجوان اس کھیل کی جانب تیزی سے راغب ہو رہے ہیں۔ ایسے قومی سطح کے مقابلے نہ صرف نئے ٹیلنٹ کو سامنے لاتے ہیں بلکہ انہیں مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔
آر ایف ایل 2 چیمپئن شپ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ اگر نوجوانوں کو مناسب سہولیات، باقاعدہ مقابلے اور ادارہ جاتی سرپرستی فراہم کی جائے تو پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس کے میدان میں بھی عالمی سطح پر اپنی شناخت مضبوط بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے مقابلے صرف میڈلز جیتنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ مستقبل کے چیمپئنز تیار کرنے، کھیل کے معیار کو بلند کرنے اور ملک میں کمبیٹ سپورٹس کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
#RFL2 #MMAPakistan #CombatSports #PakistanSportsBoard #Peshawar #MixedMartialArts #KhyberPakhtunkhwa #SportsNews |