کھیل یا کاروبار؟ خیبر پختونخوا میں سپورٹس کی آوٹ سورسنگ اور وہ سوالات جن کے جواب اب بھی باقی ہیں

خیبر پختونخوا حکومت نے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس اور پشاور سپورٹس کمپلیکس کی مختلف کھیلوں کی سہولیات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری مو¿قف کے مطابق اس اقدام کا مقصد کھیلوں کی سہولیات کا بہتر انتظام، دیکھ بھال، آپریشن اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، لیکن اس اعلان کے بعد صوبے بھر میں کھلاڑیوں، کوچز، سپورٹس ایسوسی ایشنز، سابق قومی کھلاڑیوں، اولمپک حلقوں اور سپورٹس صحافیوں کی جانب سے متعدد سنجیدہ سوالات سامنے آئے ہیں۔اصل بحث یہ نہیں کہ آوٹ سورسنگ اچھی ہے یا بری۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ شفاف، مشاورتی اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیا گیا یا نہیں؟

سب سے پہلے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے قبل ان لوگوں سے مشاورت کی گئی جو عملی طور پر کھیلوں سے وابستہ ہیں؟ کیا کسی سپورٹس ایسوسی ایشن، رجسٹرڈ کلب، کوچ، قومی یا بین الاقوامی کھلاڑی، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے وابستہ افراد یا سپورٹس جرنلسٹس سے رائے لی گئی؟ اگر نہیں، تو پھر اس فیصلے کو اسٹیک ہولڈر پر مبنی پالیسی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کا بنیادی مقصد کھیلوں کا فروغ، کھلاڑیوں کی سرپرستی، کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد اور سپورٹس انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال ہے۔ اگر یہی بنیادی ذمہ داریاں نجی شعبے کے حوالے کر دی جائیں تو پھر ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپورٹس، اس کے افسران اور وسیع انتظامی ڈھانچے کا کردار کیا رہ جائے گا؟

بعض سپورٹس شخصیات نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ہر چیز نجی شعبے کو دینی ہے تو پھر سب سے پہلے سپورٹس ڈائریکٹوریٹ، متعلقہ دفاتر اور انتظامی نظام کو بھی آو¿ٹ سورس کر دیا جائے تاکہ سرکاری اخراجات کم کیے جا سکیں۔ اگرچہ یہ ایک علامتی تبصرہ ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود سوال انتہائی سنجیدہ ہے کہ آخر سرکاری ادارہ کس مقصد کے لیے قائم ہے؟ایک اور اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بلوچستان، سندھ، پنجاب یا دیگر صوبوں نے بھی اپنے مرکزی سپورٹس کمپلیکس اسی طرز پر نجی شعبے کے حوالے کیے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا خیبر پختونخوا ایک نئے انتظامی تجربے کی تجربہ گاہ بن رہا ہے؟ اگر حکومت کے پاس اس ماڈل کی کامیاب مثالیں موجود ہیں تو انہیں بھی عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

اس فیصلے کے ساتھ مالی شفافیت کا معاملہ بھی شدت سے زیر بحث ہے۔ سپورٹس حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے گزشتہ مالی سال کے پی سی ون کی مکمل تفصیلات جاری کرے۔ بتایا جائے کہ کن کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوئے، کتنی رقم خرچ ہوئی، کتنے کھلاڑی مستفید ہوئے اور نتائج کیا رہے۔اسی طرح نئے مالی سال کے پی سی ون کو بھی عوام کے سامنے رکھا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سے کھیلوں کے مقابلے ہوں گے، کون ان کا انعقاد کرے گا، بجٹ کیا ہوگا اور نگرانی کا نظام کیا ہوگا۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کروڑوں روپے بھی سوالات کی زد میں ہیں۔ مختلف سپورٹس حلقوں کا مطالبہ ہے کہ گزشتہ اور موجودہ مالی سال کے تمام ترقیاتی منصوبوں، ان پر ہونے والے اخراجات، جاری منصوبوں اور نئے منصوبوں کی مکمل تفصیلات جاری کی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔بعض اسٹیک ہولڈرز نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مختلف مالی منصوبوں، پی سی ونز اور ترقیاتی اخراجات کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کے مطابق احتساب صرف دوسروں کا نہیں بلکہ ہر سرکاری ادارے کا بھی ہونا چاہیے۔

سپورٹس ایسوسی ایشنز کی جانب سے ایک اور اہم سوال سالانہ گرانٹس کے بارے میں اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے گرانٹس بروقت جاری نہیں ہوتیں، جس سے کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ سترہ کروڑ روپے خرچ ہونے کے بجائے واپس چلے گئے۔ اگر یہ دعویٰ درست نہیں تو حکومت اس کی وضاحت کرے، اور اگر درست ہے تو اس کی وجوہات عوام کو بتائی جائیں۔

اسی طرح بعض سپورٹس شخصیات نے سرکاری رہائش، گاڑیوں، ایندھن، یوٹیلٹی بلز اور دیگر انتظامی مراعات کا بھی آزادانہ آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اصلاحات کا آغاز ہمیشہ ادارے کے اندر سے ہونا چاہیے۔کھیلوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ عوامی ٹیکس سے تعمیر ہونے والے کھیلوں کے میدان کسی فرد یا ادارے کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوامی اثاثہ ہیں۔ اس لیے ان کی آو¿ٹ سورسنگ سے پہلے اس کے سماجی، مالی اور انتظامی اثرات کا مکمل جائزہ لینا ضروری تھا۔

ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر کل نجی ادارے کھیلوں کی سہولیات کا انتظام سنبھال لیں گے تو کیا عام کھلاڑی، طالب علم اور کم وسائل رکھنے والے نوجوان انہی شرائط پر ان سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے یا کھیل رفتہ رفتہ صرف ادائیگی کرنے والوں تک محدود ہو جائے گا؟

مختلف سپورٹس حلقوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں صوبے کے دور دراز اضلاع کے کھلاڑی خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا موجودہ قیادت نے شانگلہ، تورغر، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، بنوں اور دیگر پسماندہ اضلاع کا باقاعدہ دورہ کیا؟ کیا وہاں کے کھلاڑیوں، کوچز اور ایسوسی ایشنز سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے گئے؟ اگر نہیں تو پھر اصلاحات کا آغاز صرف بڑے شہروں سے کیوں؟

کھیل صرف تمغے جیتنے کا ذریعہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کو منشیات، جرائم اور دیگر منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا سب سے موثر ذریعہ بھی ہیں۔ اسی لیے سپورٹس حلقوں کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی ہر پالیسی کو صرف مالی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ اس کے سماجی اثرات کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔بعض اسٹیک ہولڈرز نے عمران خان کے اس وڑن کا بھی حوالہ دیا جس میں کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی پالیسی کو اسی تناظر میں جانچا جانا چاہیے کہ آیا اس سے کھیل مضبوط ہوں گے یا صرف انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہوگا۔

بعض حلقوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر حکومت ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کی مثال دیتی ہے تو کیا وہاں موجود شفافیت، احتساب، آزاد آڈٹ، مضبوط نگرانی اور سخت قوانین کو بھی اپنایا جا رہا ہے یا صرف آوٹ سورسنگ کے تصور کو نقل کیا جا رہا ہے؟کچھ سپورٹس شخصیات نے بعض دیگر انتظامی معاملات، سرکاری ہاسٹلز کے استعمال، سہولیات کی تقسیم اور وسائل کے انتظام پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اگر ایسے معاملات موجود ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

یہ تمام سوالات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن حکومت کا مو¿قف بھی اہم ہے۔ اگر واقعی سرکاری نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا اور نجی شعبہ بہتر سہولیات، زیادہ سرگرمیاں اور اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کر سکتا ہے تو اس امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کے کئی ممالک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کامیابی سے چل رہی ہے، لیکن ان کی کامیابی کی بنیاد شفافیت، واضح معاہدے، مضبوط نگرانی، مسابقتی عمل اور جوابدہی ہوتی ہے۔لہٰذا اصل مسئلہ آوٹ سورسنگ نہیں بلکہ اس کا طریقہ کار، اس کی شفافیت اور اس پر عوام کا اعتماد ہے۔

اگر حکومت اس فیصلے پر سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ گزشتہ اور موجودہ پی سی ونز، ترقیاتی فنڈز، سالانہ گرانٹس، کھیلوں کے مقابلوں، آوٹ سورسنگ کے مالی ماڈل، اسٹیک ہولڈر مشاورت، انتخابی معیار اور نگرانی کے نظام کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھے۔کیونکہ کھیلوں کی اصل طاقت عمارتیں نہیں بلکہ کھلاڑی ہوتے ہیں، اور کھلاڑیوں کا اعتماد کسی بھی پالیسی کی کامیابی کی پہلی شرط ہے۔ اگر اس اعتماد کو نظر انداز کیا گیا تو آوٹ سورسنگ کا یہ فیصلہ انتظامی اصلاح کے بجائے ایک نئے تنازعے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر شفافیت، احتساب اور مشاورت کو بنیاد بنایا گیا تو یہی فیصلہ خیبر پختونخوا کے کھیلوں کے لیے ایک مثبت موڑ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

آخر میں سوال صرف ایک ہے: کیا حکومت پہلے ان تمام سوالات کے جواب دے گی، یا آوٹ سورسنگ کا عمل سوالات سے پہلے مکمل ہو جائے گا؟
#KPSports #KhyberPakhtunkhwa #SportsPolicy #SportsGovernance #SportsInfrastructure #PublicPrivatePartnership #Outsourcing #Transparency #Accountability #PublicFunds #SportsAssociations #Athletes #SportsDevelopment #GoodGovernance #InvestigativeJournalism
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1029 Articles with 796497 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More