کھلاڑی پیدا کرنے کا ہدف، مگر نظام مفلوج: خیبر پختونخوا میں ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز کے ہاتھ کیوں بندھے ہیں؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبر پختونخوا حکومت ہر سال کھیلوں کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے۔ سرکاری اجلاسوں، بریفنگز اور پالیسی دستاویزات میں بار بار اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ہر ضلع سے نئے کھلاڑی سامنے آنے چاہئیں اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز (DSOs) اس مقصد کے حصول میں مرکزی کردار ادا کریں۔ کاغذوں پر یہ ہدف نہ صرف معقول بلکہ ضروری بھی نظر آتا ہے، لیکن جب اس دعوے کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں ان سے نتائج تو مانگے جاتے ہیں، مگر نتائج پیدا کرنے کے لیے ضروری اختیارات، وسائل اور بنیادی ڈھانچہ فراہم نہیں کیا جاتا۔ یہی وہ تضاد ہے جس پر آج تک سنجیدگی سے بحث نہیں ہوئی۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی ضلع میں ایک باصلاحیت کھلاڑی اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سکول اور کالج کی سطح پر مقابلے، مقامی ٹورنامنٹس، مستقل کوچنگ، مناسب کھیل کے میدان، کھیلوں کا سامان، سفری اخراجات، غذائی معاونت اور ایک منظم تربیتی نظام درکار ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک یا دو عناصر بھی غائب ہوں تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں تو ان میں سے اکثر بنیادی چیزیں ہی موجود نہیں۔ فنڈز ہیں، مگر اختیار نہیں
ضلعی کھیلوں کے نظام کی سب سے بڑی کمزوری مالیاتی اختیار کا فقدان ہے۔ اگرچہ ہر ضلع کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے، لیکن اس بجٹ پر عملی اختیار ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کے پاس نہیں ہوتا۔ فنڈز کے اجرا کا اختیار ڈپٹی کمشنر کے پاس ہوتا ہے۔ اگر ڈپٹی کمشنر بروقت منظوری دے اور کھیلوں کو ترجیح دے تو ضلعی مقابلے منعقد ہو سکتے ہیں، لیکن اگر فنڈز تاخیر کا شکار ہوں یا کسی اور ترجیح پر خرچ ہو جائیں تو ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر محض تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ ایک بنیادی انتظامی تضاد ہے۔ ایک طرف حکومت کارکردگی کا مطالبہ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر سے کرتی ہے، دوسری طرف وسائل کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی مو¿ثر انتظامی نظام میں جوابدہی اور اختیار ایک ہی ادارے کے پاس ہوتے ہیں، لیکن یہاں جوابدہی ایک افسر کی اور اختیار دوسرے کے پاس ہے۔
کھیلوں میں انفراسٹرکچر سے زیادہ اہم کوچنگ ہوتی ہے۔ اگر ضلع میں تربیت یافتہ کوچ موجود نہ ہو تو لاکھوں روپے کے گراو¿نڈ بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور چند دیگر اضلاع کو چھوڑ کر بیشتر اضلاع میں مستقل کوچز کی شدید کمی ہے۔ کئی اضلاع میں مختلف کھیلوں کے لیے ایک بھی مستقل کوچ تعینات نہیں۔ اس کا براہ راست اثر ٹیلنٹ کی شناخت پر پڑتا ہے۔
کوئی بھی کھلاڑی قومی یا بین الاقوامی سطح تک صرف قدرتی صلاحیت کی بنیاد پر نہیں پہنچ سکتا۔ اسے برسوں کی تربیت، تکنیکی رہنمائی اور مسلسل نگرانی درکار ہوتی ہے۔ جب کوچ ہی موجود نہ ہو تو ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کس بنیاد پر نئے کھلاڑی تیار کرے؟چارسدہ کی صورتحال اس مسئلے کی واضح مثال ہے۔ گزشتہ مالی سال کے آخری چھ ماہ میں وہ ڈیلی ویج کوچز فارغ کر دیے گئے جو تقریباً تیرہ سال سے مختلف کھیلوں میں نوجوانوں کو تربیت دے رہے تھے۔ یہ فیصلہ صرف چند ملازمین کی برطرفی نہیں تھا بلکہ ایک ایسے تربیتی نظام کا خاتمہ تھا جو برسوں میں قائم ہوا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر تیرہ سال تک خدمات انجام دینے والے کوچز بھی مستقل نہیں ہو سکے اور آخرکار فارغ کر دیے گئے تو نوجوان کوچ اس شعبے میں مستقبل کیسے دیکھیں گے؟ مزید اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوچ ہی موجود نہیں ہوں گے تو حکومت کس سے توقع رکھتی ہے کہ وہ قومی سطح کے کھلاڑی تیار کرے گا؟
مالی سال 2025-26 کے ضلعی اخراجات کا جائزہ بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ کچھ اضلاع میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک کروڑ روپے سے زیادہ رقم مختص کی گئی، جبکہ کئی اضلاع کو صرف 13 لاکھ، 14 لاکھ، 20 لاکھ یا 30 لاکھ روپے دیے گئے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ مواقع کا فرق ہے۔ کم بجٹ والے ضلع کا ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر اور زیادہ بجٹ والے ضلع کا افسر ایک جیسے نتائج کیسے دے سکتے ہیں؟ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ مختص شدہ رقم پوری کی پوری کھیلوں پر خرچ نہیں ہوتی۔ مختلف ٹیکسوں، سرکاری کٹوتیوں اور انتظامی اخراجات کے بعد دستیاب بجٹ مزید کم ہو جاتا ہے۔
ایک معیاری ضلعی ٹورنامنٹ کے انعقاد پر ہی تقریباً پانچ سے چھ لاکھ روپے خرچ آتے ہیں۔ اگر کسی ضلع کے پاس کل بجٹ تیرہ یا چودہ لاکھ روپے ہو تو وہ پورے سال میں کتنے کھیلوں کے مقابلے کرا سکتا ہے؟ ظاہر ہے ایسے اضلاع میں سالانہ چند محدود سرگرمیوں سے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ ٹورنامنٹ نہ ہوں تو ٹیلنٹ کہاں سے آئے؟ کھیلوں میں ٹورنامنٹس محض تقریبات نہیں ہوتیں بلکہ یہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں نئے کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔ اگر مقابلے ہی نہیں ہوں گے تو کوچ کس بنیاد پر کھلاڑی منتخب کرے گا؟ اگر کھلاڑی منتخب نہیں ہوں گے تو صوبائی ٹیمیں کیسے بنیں گی؟اور اگر صوبائی سطح پر مقابلہ نہیں ہوگا تو قومی ٹیموں کے لیے ٹیلنٹ کہاں سے آئے گا؟
یہ ایک ایسی زنجیر ہے جس کی ہر کڑی دوسری سے جڑی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے خیبر پختونخوا میں اکثر اضلاع میں یہی زنجیر ٹوٹ چکی ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ ضلعی سپورٹس ایسوسی ایشنز کی غیر فعالیت ہے۔ بہت سے اضلاع میں مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز یا تو موجود نہیں، یا صرف کاغذوں میں رجسٹرڈ ہیں، یا پھر سال میں ایک آدھ تقریب سے آگے ان کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ دنیا بھر میں حکومت اور سپورٹس ایسوسی ایشنز مل کر ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کا نظام چلاتی ہیں، لیکن یہاں زیادہ تر بوجھ صرف ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ ماڈل عملی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتا۔
سرکاری سطح پر اکثر اضلاع سے کھیلوں کی سرگرمیوں کی رپورٹس طلب کی جاتی ہیں، جو بعد میں اعلیٰ حکام اور چیف سیکرٹری آفس تک بھی پہنچتی ہیں۔ رپورٹس میں تصویریں، افتتاحی تقریبات اور سرکاری اجلاس تو نظر آتے ہیں، لیکن ایک بنیادی سوال کم ہی پوچھا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں کتنے نئے کھلاڑی صوبائی ٹیموں تک پہنچے؟ کتنے کھلاڑی قومی چیمپئن شپ میں منتخب ہوئے؟ کتنے نوجوان مستقل تربیتی نظام کا حصہ بنے؟ اگر ان سوالات کے جواب موجود نہیں تو صرف رپورٹیں بھیجنے سے کھیل ترقی نہیں کرتے۔
اگر کسی ضلع میں نہ کوچ ہے، نہ بجٹ کافی ہے، نہ فنڈز بروقت ملتے ہیں، نہ انتظامی اختیار موجود ہے، نہ فعال سپورٹس ایسوسی ایشن، تو پھر ناکامی کی مکمل ذمہ داری صرف ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر پر ڈالنا کہاں تک درست ہے؟ کارکردگی کا جائزہ ضرور لیا جانا چاہیے، لیکن اس سے پہلے وسائل کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جس افسر کو بنیادی اختیارات ہی حاصل نہ ہوں، اس سے قومی معیار کے نتائج مانگنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
اگر حکومت واقعی ہر ضلع سے قومی اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی دیکھنا چاہتی ہے تو محض اہداف مقرر کرنے سے مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ تمام اضلاع میں مستقل اور تربیت یافتہ کوچز کی فوری تعیناتی کی جائے۔ کھیلوں کے بجٹ میں اضلاع کے درمیان غیر ضروری تفاوت ختم کی جائے۔ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز کو محدود مالی اور انتظامی خودمختاری دی جائے تاکہ وہ بروقت سرگرمیاں منعقد کر سکیں۔ فنڈز کے اجرا کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ مقابلے مالی سال کے اختتام پر نہیں بلکہ پورے سال ہوتے رہیں۔
ضلعی سپورٹس ایسوسی ایشنز کی کارکردگی کا سالانہ آڈٹ کیا جائے اور غیر فعال اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سکولوں، کالجوں اور ضلعی سپورٹس دفاتر کے درمیان مستقل رابطہ قائم کیا جائے تاکہ ٹیلنٹ کی تلاش کا مربوط نظام تشکیل دیا جا سکے۔ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز کی کارکردگی کا جائزہ صرف تقریبات کی تعداد سے نہیں بلکہ تیار ہونے والے کھلاڑیوں، کوچنگ پروگرامز اور مستقل تربیتی سرگرمیوں کی بنیاد پر لیا جائے۔
خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے فروغ کی اصل رکاوٹ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ ہے جہاں اختیار، وسائل اور جوابدہی تین مختلف سمتوں میں تقسیم ہیں۔ جب تک ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز کو ضروری اختیارات، مناسب بجٹ، مستقل کوچز اور فعال سپورٹس ڈھانچہ فراہم نہیں کیا جاتا، تب تک ہر ضلع سے نئے کھلاڑی پیدا کرنے کا ہدف محض ایک سرکاری نعرہ ہی رہے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے کتنے کھلاڑی پیدا کیے، بلکہ یہ ہے کہ حکومت نے اسے کھلاڑی پیدا کرنے کے لیے کیا دیا؟ اگر اس سوال کا دیانت داری سے جواب تلاش کیا جائے تو شاید خیبر پختونخوا کے کھیلوں کی بہت سی بنیادی کمزوریاں خود بخود سامنے آ جائیں۔
#KPSports #SportsGovernance #SportsDevelopment #GrassrootsSports #DistrictSports #SportsPolicy #PakistanSports #TalentDevelopment #SportsReform #YouthSports #KhyberPakhtunkhwa #InvestigativeJournalism #SportsAdministration #PublicPolicy #Accountability
|