عمران خان کرکٹ سٹیڈیم پی سی بی کے حوالے کرنے کی تیاری پر سنگین سوالات
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور میں تقریباً دو ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم کو پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حوالے کرنے کی تیاری جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اور پی سی بی کے درمیان اس حوالے سے رابطے جاری ہیں جبکہ لاہور کے قذافی سٹیڈیم اور کراچی کے نیشنل بینک سٹیڈیم کے ایم او یوز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اسی طرز پر پشاور کے لیے معاہدہ تیار کیا جا سکے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ سٹیڈیم پی سی بی کے حوالے کرنے سے بین الاقوامی کرکٹ پشاور آئے گی، انتظامی معیار بہتر ہوگا اور بڑے ایونٹس کی میزبانی ممکن ہوگی۔ لیکن اس دعوے سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس معاہدے سے خیبر پختونخوا کو مالی طور پر کیا فائدہ ہوگا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ایبٹ آباد کرکٹ گراؤنڈ کی مثال آج بھی موجود ہے۔ مشرف دور میں یہ گراؤنڈ پی سی بی کے حوالے سالانہ صرف سات ہزار روپے کے عوض کیا گیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین اور انفراسٹرکچر کے بدلے سالانہ سات ہزار روپے کا معاہدہ کیا گیا، جو آج کے دور میں ایک معیاری کرکٹ بیٹ کی قیمت سے بھی کم ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ دستیاب دستاویزات کے مطابق 2015 کے بعد سے پی سی بی نے یہ سات ہزار روپے بھی صوبائی حکومت کو ادا نہیں کیے۔ اگر یہ ریکارڈ درست ہے تو سوال صرف کم رقم کا نہیں بلکہ معاہدے پر عمل درآمد کا بھی ہے۔ اگر معاہدے کی ادائیگی ہی نہیں ہوئی تو حکومت نے گزشتہ دس برس میں کیا کارروائی کی؟
کیا کسی نے واجبات کی وصولی کا مطالبہ کیا؟ یا سرکاری اثاثے بغیر کسی مؤثر نگرانی کے استعمال ہوتے رہے؟ دوسری طرف پی سی بی نے ایبٹ آباد گراؤنڈ پر قومی ٹیموں کے کیمپ، ڈومیسٹک میچز اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے مسلسل فائدہ اٹھایا، لیکن صوبائی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کو اس کے متناسب مالی فوائد حاصل نہیں ہوئے۔ اگر ایبٹ آباد ماڈل صوبے کے لیے منافع بخش ثابت نہیں ہوا تو پھر یہی ماڈل پشاور میں کیوں دہرایا جا رہا ہے؟
اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق حکومت اس منصوبے کو بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی سے جوڑ رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف سٹیڈیم کسی ادارے کے حوالے کر دینے سے بین الاقوامی میچز کی ضمانت نہیں ملتی۔ اس کے لیے آئی سی سی کی منظوری، سکیورٹی، براڈکاسٹنگ، فیوچر ٹور پروگرام اور متعدد دیگر عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔
اگر عمران خان کرکٹ سٹیڈیم پی سی بی کے حوالے کیا جاتا ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ معاہدے کی مدت کتنی ہوگی، سالانہ فیس یا ریونیو شیئر کیا ہوگا، سٹیڈیم کی آمدنی میں صوبے کا حصہ کتنا ہوگا، مقامی کرکٹ کو کتنے دن ملیں گے اور اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا سپورٹس ڈائریکٹوریٹ آج بھی وسائل کی کمی، کوچز کی بحالی، کھیلوں کے سامان اور بجٹ کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں صوبے کے سب سے قیمتی کرکٹ اثاثے کا انتظام کسی دوسرے ادارے کو دینا، بغیر واضح مالی ضمانت کے، ایک ایسا فیصلہ ہو سکتا ہے جس کے اثرات کئی برس تک محسوس کیے جائیں۔
اگر حکومت واقعی شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو اسے ایم او یو پر دستخط سے پہلے مکمل معاہدہ، مالی شرائط، ریونیو شیئرنگ فارمولا اور ایبٹ آباد گراؤنڈ معاہدے کی مکمل تفصیلات بھی عوام کے سامنے لانی چاہئیں۔ کیونکہ سوال صرف ایک سٹیڈیم کا نہیں بلکہ اربوں روپے کے عوامی اثاثے اور خیبر پختونخوا کے مستقبل کے مفاد کا ہے۔ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا تو خدشہ یہی ہے کہ دو ارب روپے کا عمران خان کرکٹ سٹیڈیم بھی ایبٹ آباد گراؤنڈ کی طرح ایک ایسا معاہدہ بن جائے گا جس میں فائدہ ایک ادارے کو ہوگا جبکہ نقصان صوبے کے حصے میں آئے گا۔
#ImranKhanCricketStadium #PCB #KPSports #Peshawar #SportsGovernance #Accountability #Cricket #InvestigativeJournalism |