درختوں کی سونامی یا درختوں کی قربانی؟ جب گراﺅنڈ کے نام پر پشاور کی سانسیں کاٹی جا رہی ہوں
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
|
سکول میں جاگنگ ٹریک کیلئے کاٹے گئے ایک پرانے درخت کا حصہ |
|
ہر سال بارشوں کا موسم آتا ہے تو سرکاری اشتہارات، سیمینار، تصاویر اور بیانات کی بھرمار شروع ہو جاتی ہے۔ کہیں "گرین پاکستان" کا نعرہ لگتا ہے، کہیں "بلین ٹری سونامی" کی کامیابیاں گنوائی جاتی ہیں، تو کہیں وزرائ اور افسران پودے لگا کر کیمرے کے سامنے مسکراتے ہوئے ماحول دوستی کا پیغام دیتے ہیں۔ چند دن بعد یہ تصاویر اخبارات کے صفحات اور سوشل میڈیا کی ٹائم لائن سے غائب ہو جاتی ہیں، لیکن ایک سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ کیا ہم واقعی درخت لگا رہے ہیں، یا صرف تصویریں لگا رہے ہیں؟
یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب پشاور جیسے شہر میں، جو پہلے ہی شدید فضائی آلودگی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور کم ہوتی سبزہ زاروں کا شکار ہے، سرکاری منصوبوں کے دوران دہائیوں پرانے درخت خاموشی سے کاٹ دیے جائیں۔جی ٹی روڈ پر واقع گورنمنٹ حسنین شہید المعروف سٹی نمبر ون سکول میں صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی نگرانی میں ایک جاگنگ ٹریک تعمیر کیا جا رہا ہے۔ کھیلوں کی سہولیات بنانا یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ ہر شہری کو ورزش اور صحت مند سرگرمیوں کی سہولت ملنی چاہیے۔ لیکن سوال جاگنگ ٹریک کا نہیں، سوال اس منصوبے کے دوران کاٹے جانے والے ان درختوں کا ہے جو مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً چالیس سے پچاس سال پرانے تھے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعدد درخت نہ تو جاگنگ ٹریک کی راہ میں رکاوٹ تھے اور نہ ہی ان کی موجودگی سے تعمیراتی کام متاثر ہو رہا تھا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر یہ صرف درختوں کی کٹائی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کی ناکامی اور ماحولیات سے بے حسی کی مثال ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ترقی کا مطلب اکثر کنکریٹ، سیمنٹ اور اینٹیں سمجھ لیا گیا ہے۔ درخت اگر راستے میں آ جائے تو اسے کاٹ دینا آسان سمجھا جاتا ہے، لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ درخت صرف لکڑی نہیں تھا۔ وہ ہزاروں انسانوں کو آکسیجن فراہم کر رہا تھا، گرمی کم کر رہا تھا، پرندوں کی پناہ گاہ تھا، دھول کو روک رہا تھا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر ماحول چھوڑ رہا تھا۔
پشاور آج پاکستان کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں گرمی کی شدت ہر سال نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ درخت کم ہوتے جا رہے ہیں اور کنکریٹ کے جنگل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر ایک سرکاری ادارہ خود برسوں پرانے درخت کاٹ رہا ہو تو عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں۔
یہ منصوبہ مارچ میں افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر کھیل مینا خان موجود تھے جبکہ ریجنل سپورٹس آفیسر پشاور کاشف فرحان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ منصوبے کی نگرانی بھی صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کر رہا ہے۔ اس لیے سوال کسی ایک ٹھیکیدار سے زیادہ اس پورے انتظامی نظام سے ہے۔
کیا درختوں کی کٹائی کی منظوری محکمہ جنگلات سے لی گئی؟ کیا ماحولیاتی تحفظ کے قوانین پر عمل کیا گیا؟ کیا ان درختوں کا سروے کیا گیا تھا؟ کیا کوئی متبادل ڈیزائن موجود تھا جس سے درخت بچائے جا سکتے تھے؟ اگر تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے تو متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا جا رہا؟ اور اگر اجازت نہیں لی گئی تو پھر خاموشی کیوں ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں سرکاری منصوبوں میں شفافیت کی کمی ایک معمول بن چکی ہے۔ جب تک میڈیا سوال نہ اٹھائے، عوام آواز نہ بلند کریں یا سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل نہ ہوں، اکثر متعلقہ ادارے حرکت میں نہیں آتے۔ اگر یہی صورتحال ہے تو پھر احتساب کا نظام کہاں ہے؟
اس معاملے کا ایک اور افسوسناک پہلو بھی ہے۔ حکومت ایک طرف اربوں روپے نئے پودے لگانے پر خرچ کرتی ہے، دوسری طرف وہی حکومت یا اس کے ماتحت ادارے ایسے بالغ درخت ختم کر دیتے ہیں جنہیں اس مقام تک پہنچنے میں نصف صدی لگ گئی۔ ایک پودا لگا دینا آسان ہے، مگر اسے چالیس یا پچاس سال تک زندہ رکھنا اصل کامیابی ہوتی ہے۔ کسی بالغ درخت کی جگہ دس نئے پودے بھی لگا دیے جائیں تو بھی وہ کئی دہائیوں تک اس کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔
اصل ترقی وہ ہوتی ہے جو ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ دنیا بھر میں ترقیاتی منصوبے درختوں کو بچانے کے لیے اپنے ڈیزائن تبدیل کرتے ہیں۔ سڑکیں موڑ دی جاتی ہیں، فٹ پاتھ کا رخ بدل دیا جاتا ہے، پارکنگ کی جگہ کم کر دی جاتی ہے، لیکن درختوں کو بچایا جاتا ہے کیونکہ وہاں درخت کو رکاوٹ نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ درخت صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت، معیشت اور شہری معیارِ زندگی کا بھی مسئلہ ہیں۔ آلودہ ہوا سے سانس کی بیماریاں بڑھتی ہیں، گرمی سے بجلی کی کھپت بڑھتی ہے، پانی کی قلت میں اضافہ ہوتا ہے اور شہری زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ ان تمام مسائل کی قیمت آخرکار عام شہری ادا کرتا ہے۔یہ کالم کسی ترقیاتی منصوبے کی مخالفت نہیں۔ نہ ہی کھیلوں کی سہولیات کے خلاف ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ترقی اور ماحولیات ایک ساتھ نہیں چل سکتے؟ کیا ایک جاگنگ ٹریک اس طرح نہیں بنایا جا سکتا تھا کہ دہائیوں پرانے درخت محفوظ رہتے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟
اس واقعے کے بعد حکومت خیبر پختونخوا، صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ، محکمہ جنگلات اور متعلقہ ماحولیاتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کو جواب دیں۔ بتایا جائے کہ کتنے درخت کاٹے گئے، کس افسر نے منظوری دی، قانونی تقاضے کیسے پورے کیے گئے، کتنے متبادل درخت لگائے جائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی۔خاموشی کبھی بھی عوامی اعتماد پیدا نہیں کرتی۔ سوالوں کے جواب ہی اعتماد بحال کرتے ہیں۔آخر میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے۔
اگر چالیس سے پچاس سال پرانے درخت بھی سرکاری منصوبوں کے سامنے محفوظ نہیں، تو پھر "گرین پاکستان" کا اصل مطلب کیا ہے؟ کیا درخت صرف افتتاحی تقریبات میں لگانے کے لیے ہیں، یا انہیں زندہ رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے؟درخت لگانا یقیناً نیکی ہے، لیکن موجودہ درختوں کو بچانا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ جو درخت آج کاٹا جا رہا ہے، اس کا سایہ شاید ہماری آنے والی نسلیں کبھی دوبارہ نہ دیکھ سکیں۔
#SavePeshawarTrees #TreeConservation #EnvironmentalJustice #GreenPakistan #ClimateAction #ProtectNature #UrbanForests #PublicAccountability #GovernmentTransparency #Peshawar #KPNews #EnvironmentalProtection #ClimateCrisis #InvestigativeJournalism #SustainableDevelopment #AirPollution #EcoJustice #SaveOurTrees #EnvironmentMatters #Transparency
|