کے پی اولمپک ایسوسی ایشن کے انتخابات کیوں موخر ہوئے؟ آئین، آئی او سی کی اصلاحات، پی ایس بی کی پالیسی اور غیر منسلک ایسوسی ایشنز پر بڑے سوالات
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور: خیبر پختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن (KPOA) کے انتخابات 13 فروری 2022 کو چار سالہ مدت کے لیے منعقد ہوئے تھے۔ آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد نئے انتخابات فروری 2026 میں ہونا تھے، تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود انتخابی عمل شروع نہیں ہو سکا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے آئین میں وہ ترامیم بتائی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) کے اپ ڈیٹ شدہ اولمپک چارٹر اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) کی نئی گورننس ہدایات کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ذوالفقار بٹ کے مطابق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے موجودہ انتظامیہ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع دی ہے تاکہ آئین کو نئے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ ان کے مطابق نیا آئین جنرل کونسل سے منظور ہونے کے بعد ہی انتخابات کرائے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ آئین تقریباً 90 فیصد تک آئی او سی کے چارٹر سے مطابقت رکھتا ہے، تاہم چند بنیادی نکات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
سید ذوالفقار بٹ کے مطابق موجودہ ایگزیکٹو کمیٹی میں تقریباً 33 سے 34 ارکان شامل ہیں، جبکہ نئے آئین کے تحت اس تعداد کو کم کرکے 20 ارکان تک محدود کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی سب سے بڑی ساختی تبدیلی ہے، جبکہ چند دیگر معاملات پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر تک آئین مکمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد انتخابات نئے آئین کے مطابق ہوں گے۔
یہ سوال بھی مسلسل اٹھایا جاتا ہے کہ متعدد کھیلوں کی فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز میں ایک ہی افراد کئی برسوں سے مختلف عہدوں پر موجود ہیں۔اس پر سید ذوالفقار بٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ متعلقہ فیڈریشنز کا ہے۔ ان کے مطابق بعض فیڈریشنز اپنے بین الاقوامی آئین اور قوانین کے تحت خودمختار حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے ہر فیڈریشن کی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔
پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB) نے کھیلوں کی قومی فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز کے لیے گورننس پالیسی متعارف کر رکھی ہے، جس میں عہدیداروں کی عمر، مدتِ عہدہ، شفافیت اور انتظامی اصلاحات سے متعلق واضح اصول موجود ہیں۔پالیسی کے مطابق اگر کوئی فیڈریشن پی ایس بی سے مالی معاونت حاصل کرتی ہے تو اس کے لیے بورڈ کے مقررہ ضوابط اور الحاق کی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اگر کوئی فیڈریشن صرف بین الاقوامی ادارے سے منسلک ہو اور پی ایس بی سے فنڈنگ حاصل نہ کرتی ہو تو اس کی قانونی حیثیت مختلف ہو سکتی ہے۔
صوبے میں ایسی کھیلوں کی ایسوسی ایشنز بھی موجود ہیں جن کے بارے میں سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ وہ نہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے منسلک ہیں اور نہ ہی پاکستان سپورٹس بورڈ سے ان کا باضابطہ الحاق موجود ہے، تاہم وہ عملی طور پر سرگرم ہیں۔اگر ایسی تنظیمیں سرکاری یا عوامی وسائل سے مالی معاونت بھی حاصل کرتی رہی ہیں تو یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہی ہیں، ان کی نگرانی کون کرتا ہے، ان کی جوابدہی کس کے سامنے ہے، اور ان پر کون سے گورننس اصول لاگو ہوتے ہیں۔
کے پی اولمپک ایسوسی ایشن کے انتخابات کی تاخیر صرف ایک انتخابی معاملہ نہیں بلکہ کھیلوں کی گورننس، آئینی اصلاحات، شفافیت، الحاق، مالی نگرانی اور ادارہ جاتی احتساب سے جڑا ایک وسیع موضوع ہے۔ آئین میں تبدیلی کے بعد انتخابات تو ہو جائیں گے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا تمام کھیلوں کی تنظیموں کے لیے ایک ہی گورننس معیار نافذ ہو سکے گا، یا مختلف ادارے مختلف قوانین کے تحت ہی چلتے رہیں گے؟ #DeepDive #SportsGovernance #PakistanOlympicAssociation #KPOA #IOC #PakistanSportsBoard #SportsPolicy #SportsAdministration #Governance #KhyberPakhtunkhwa
|