لیز کی لیز، کھیل کی کھیل!
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
ہمارے ہاں کھیلوں سے زیادہ دلچسپ اگر کوئی کھیل ہے تو وہ فائلوں کا کھیل ہے۔ میدان میں گیند کم گھومتی ہے، فائلیں زیادہ گھومتی ہیں۔ کھلاڑی پسینہ بہاتے ہیں اور دفاتر میں قلم۔ لیکن بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ اصل مقابلہ کھیل کے میدان میں نہیں بلکہ نوٹنگ شیٹ کے صفحات پر ہو رہا ہوتا ہے۔
تازہ قصہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس اور پشاور سپورٹس کمپلیکس کا ہے، جنہیں نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ٹینڈر طلب کیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہیں، سوالوں کی پوری ٹیم سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
کہانی کا پہلا کردار زمین ہے۔
حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کی زمین پی ڈی اے کی ہے، جبکہ پشاور سپورٹس کمپلیکس، جسے قیوم سپورٹس کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے، کنٹونمنٹ بورڈ کی زمین پر قائم ہے۔ دونوں جگہوں پر صوبائی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ مالک نہیں بلکہ لیز ہولڈر ہے۔
اب اصل سوال شروع ہوتا ہے۔
اگر کوئی شخص کرائے کے مکان میں رہتا ہو تو کیا وہ مالک کی اجازت کے بغیر وہی مکان کسی تیسرے شخص کو کرائے پر دے سکتا ہے؟
عام آدمی فوراً جواب دے گا، "ہرگز نہیں۔"
پھر سوال یہ بنتا ہے کہ اگر یہی اصول ایک عام شہری پر لاگو ہوتا ہے تو کیا یہی اصول سرکاری اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے یا ان کے لیے قانون کی کوئی الگ پچ تیار کی جاتی ہے؟
اگر اصل لیز معاہدے میں سب لیز کی اجازت موجود ہے تو معاملہ بالکل واضح ہے۔ اگر نہیں ہے تو پھر سوال اٹھانا بھی عوام کا حق ہے اور جواب دینا متعلقہ ادارے کی ذمہ داری۔
اصل مسئلہ ٹینڈر نہیں، شفافیت ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں فائلیں اس وقت تک خفیہ رہتی ہیں جب تک کوئی سوال نہ پوچھ لے۔ سوال پوچھ لیا جائے تو سوال پوچھنے والا مشکوک بن جاتا ہے، مگر فائل پھر بھی سامنے نہیں آتی۔
اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو اصل لیز معاہدہ عوام کے سامنے رکھ دیا جائے۔ اگر پی ڈی اے اور کنٹونمنٹ بورڈ نے تحریری اجازت دی ہے تو وہ بھی جاری کر دی جائے۔ اس کے بعد شاید آدھے سوال خود بخود ختم ہو جائیں۔
لیکن اگر خاموشی برقرار رہے تو سوال بڑھتے جاتے ہیں۔
ہمارے سرکاری نظام میں ایک عجیب روایت ہے۔ جب عوام معلومات مانگیں تو کہا جاتا ہے کہ معاملہ زیر غور ہے۔ جب صحافی سوال پوچھے تو کہا جاتا ہے کہ منفی رپورٹنگ ہو رہی ہے۔ جب عدالت پوچھے تو پوری فائل چند گھنٹوں میں تیار ہو جاتی ہے۔
کھیلوں کے میدانوں کی اصل ضرورت کھلاڑی ہیں، نہ کہ قانونی ابہام۔
یہ وہی صوبہ ہے جہاں کھیلوں کے فروغ کے نام پر پالیسیاں بنتی ہیں، سیمینار ہوتے ہیں، تصاویر بنتی ہیں، مگر کئی میدانوں میں گھاس سے زیادہ سوال اگتے ہیں۔
اب اگر کھیل کے میدان بھی قانونی تشریح کا میدان بن جائیں تو نوجوان کہاں کھیلیں گے؟
کبھی سوچتا ہوں اگر یہ معاملہ کرکٹ میچ ہوتا تو کمنٹیٹر کیا کہتے؟
"گیند پی ڈی اے نے پھینکی، سپورٹس ڈائریکٹوریٹ نے پکڑی، پھر بغیر تھرڈ امپائر کے کسی اور کے ہاتھ میں دے دی۔ اب سب کی نظریں امپائر کے فیصلے پر ہیں۔"
شاید یہی ہماری سرکاری کرکٹ ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر چیز کے لیے این او سی چاہیے۔ ایک درخت کاٹنا ہو، عمارت بنانی ہو، سڑک کھودنی ہو، اجازت درکار ہوتی ہے۔ لیکن جب سوال عوامی اثاثوں کا ہو تو سب سے پہلے این او سی ہی غائب ہو جاتی ہے۔
کسی نے خوب کہا تھا کہ "سرکاری فائل کبھی نہیں مرتی، صرف ایک میز سے دوسری میز پر منتقل ہوتی ہے۔"
شاید اسی لیے ہمارے کھیل بھی فائلوں میں زیادہ اور میدانوں میں کم نظر آتے ہیں۔
یہ کالم کسی فیصلے کو غیر قانونی قرار نہیں دیتا، نہ ہی کسی ادارے پر الزام لگاتا ہے۔ صرف اتنا کہتا ہے کہ اگر قانون اجازت دیتا ہے تو قانون دکھا دیجیے۔ اگر معاہدہ سب لیز کی اجازت دیتا ہے تو معاہدہ سامنے لے آئیے۔ اگر اجازت نامہ موجود ہے تو اسے عوام سے کیوں چھپایا جا رہا ہے؟
شفافیت کا مطلب صرف پریس ریلیز جاری کرنا نہیں بلکہ دستاویزات سامنے رکھنا بھی ہے۔
آخر میں ایک چھوٹا سا سوال۔
اگر کل پی ڈی اے یا کنٹونمنٹ بورڈ یہ کہہ دیں کہ انہوں نے سب لیز کی اجازت ہی نہیں دی، تو پھر اس ٹینڈر کا کیا ہوگا؟
اور اگر اجازت دی ہے تو پھر اسے چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟
شاید اس پورے قصے کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ کھیل ابھی شروع بھی نہیں ہوا، مگر سوالات نے پہلے ہی اسکور بورڈ پر برتری حاصل کر لی ہے۔
کھیل کے میدان آباد ہونے چاہییں، سرمایہ کاری بھی ہونی چاہیے، نجی شعبے کی شمولیت بھی خوش آئند ہے، لیکن ایک شرط کے ساتھ... کھیل قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے، کیونکہ جب قانون پویلین میں بیٹھ جائے تو پھر میچ نہیں، تماشا ہوتا ہے۔ |