میڈل سے زیادہ میٹنگیں، کھیل سے زیادہ سیاست!

کامن ویلتھ گیمز ختم ہوئے، میڈلز کی گنتی شروع ہوئی، اور پاکستان نے حسب روایت کیلکولیٹر پر زیادہ زور ڈالا کیونکہ میڈلز پر زور دینے کے لیے زیادہ مواد موجود نہیں تھا۔ شکر ہے باکسنگ نے ایک میڈل دلا دیا، ورنہ بعض لوگ شاید یہ دلیل بھی دے دیتے کہ "میڈل نہ لینا بھی ایک حکمت عملی ہے۔"دوسری طرف بھارت نے سات گولڈ میڈلز جیت لیے۔ ان کے ہاں لوگ اب بھی یہ بحث کر رہے ہوں گے کہ آٹھواں گولڈ کیوں نہیں آیا، جبکہ ہمارے ہاں بحث یہ چل رہی ہے کہ افتتاحی تقریب میں کون پہلی قطار میں بیٹھے گا، کس کی تصویر بڑی ہوگی اور پریس ریلیز میں کس کا نام پہلے آئے گا۔

اب اگلے سال مارچ میں سیف گیمز پاکستان میں ہونے جا رہے ہیں۔ خوشی کی بات ہے، لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ تیاری کہاں ہے؟ ہماری کھیلوں کی تیاری اکثر اس طالب علم جیسی ہوتی ہے جو پورا سال کرکٹ کھیلتا ہے، امتحان سے ایک رات پہلے کتاب کھولتا ہے، اور صبح دعا کرتا ہے کہ "یا اللہ، پرچے میں وہی سوال آ جائیں جو میں نے نہیں پڑھے۔" اب خبریں آ رہی ہیں کہ دسمبر میں نیشنل گیمز کرائے جائیں گے تاکہ ٹیمیں منتخب ہوں۔ مطلب پہلے ٹیمیں تلاش کی جائیں گی، پھر ان کو اکٹھا کیا جائے گا، پھر انہیں یاد دلایا جائے گا کہ اگلے چند ماہ بعد بین الاقوامی مقابلے بھی ہونے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ہمارے کھیلوں کا پورا نظام "آخری وقت کی محبت" پر چل رہا ہے۔ جس دن بین الاقوامی ایونٹ قریب آتا ہے، اسی دن فائلیں بھی تیز چلتی ہیں، اجلاس بھی بڑھ جاتے ہیں، تصویریں بھی زیادہ بنتی ہیں، اور سوشل میڈیا پر اچانک سب کو کھیل بہت عزیز لگنے لگتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ایک اور دلچسپ بحث جاری ہے کہ سیفگیمز کے مقابلے یہاں کیوں نہیں ہوتے؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ نیشنل گیمز کہیں بھی ہوں، کیا ہماری تیاری قومی معیار کی ہے؟اگر کل اعلان ہو جائے کہ نیشنل گیمز مریخ پر ہوں گے تو شاید اگلے دن ایک کمیٹی بن جائے گی جو ثابت کرے گی کہ مریخ تک جانے والی سڑک پہلے پشاور سے گزرنی چاہیے۔ ہمارا مسئلہ اکثر مقام نہیں، ترجیحات ہوتی ہیں۔

ماضی میں خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے مشکل ترین دور میں بھی بڑے کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور قابل تعریف بھی۔ لیکن آج اگر کسی ایونٹ کے مقام کا فیصلہ سیکیورٹی، لاجسٹکس یا انتظامی سہولت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے تو اس پر جذبات سے زیادہ حقائق کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔ کھیلوں کا مقصد میڈلز ہوتے ہیں، میزبان شہر کا سیاسی اسکور نہیں۔ ہم نے کھیلوں کو بھی سیاست کی طرح چلانا شروع کر دیا ہے۔ ہر اجلاس میں ترقی ہوتی ہے۔ ہر پریس کانفرنس میں انقلاب آتا ہے۔ ہر فائل میں اصلاحات لکھی ہوتی ہیں۔ اور ہر سال آخر میں یہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ "میڈل کتنے آئے؟"پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔

ہمارے ہاں ایک اور دلچسپ روایت بھی ہے۔ اگر کسی ایسوسی ایشن سے پوچھیں کہ آپ کے کتنے فعال کھلاڑی ہیں تو جواب ملتا ہے، "ریکارڈ تیار ہو رہا ہے۔" اگر پوچھیں کہ سال میں کتنے مقابلے کرائے؟ جواب آئے گا، "منصوبہ بندی جاری ہے۔" اگر پوچھیں کہ نئے ٹیلنٹ کی تلاش کیسے کرتے ہیں؟ جواب ہوگا، "اس کے لیے ایک کمیٹی بنائی جا رہی ہے۔" ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں سب سے کامیاب کھیل "کمیٹی سازی" ہے۔ اس میں ہمارا عالمی ریکارڈ ہونا چاہیے۔ چالیس کے قریب کھیلوں کی ایسوسی ایشنز موجود ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ ایسوسی ایشن کتنی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنی سال بھر مقابلے کراتی ہیں؟ کتنی جونیئر کھلاڑی تیار کرتی ہیں؟ کتنی خواتین کے کھیلوں پر کام کرتی ہیں؟ کتنی اپنے مالی معاملات شفاف رکھتی ہیں؟ اور کتنی ایسی ہیں جن کے دفتر میں کھلاڑی زیادہ اور صرف عہدیدار کم نظر آتے ہیں؟

یہ سوال شاید اس لیے کم پوچھے جاتے ہیں کیونکہ ان کے جواب آسان نہیں۔ہمیں اکثر ایک غلط فہمی بھی رہتی ہے کہ حکومت سب کچھ کرے گی۔ حکومت گراو¿نڈ بھی بنائے۔ حکومت کوچ بھی دے۔ حکومت فنڈ بھی دے۔ حکومت کھلاڑی بھی تلاش کرے۔ حکومت میڈل بھی جیت کر دے۔پھر ایسوسی ایشن کیا کرے؟ شاید سالانہ جنرل اجلاس۔ یا پھر انتخاب۔ یا پھر اگلے انتخاب کی تیاری۔ دنیا میں کامیاب کھیلوں کے نظام صرف سرکاری فنڈ سے نہیں چلتے۔ وہ کلب کلچر، اسکول سپورٹس، یونیورسٹی مقابلوں، کوچنگ، مقامی لیگوں، سائنسی تربیت اور مسلسل مقابلوں سے بنتے ہیں۔

ہمارے ہاں اکثر کھلاڑی کو بین الاقوامی ایونٹ سے چند ہفتے پہلے یاد کیا جاتا ہے۔ پھر ہم اس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ایسے ملکوں کو ہرا دے جہاں کھلاڑی سال میں تین سو دن تربیت کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سائیکل پر بیٹھ کر فارمولا ون کی ریس میں جائے اور پھر حیران ہو کہ پہلی پوزیشن کیوں نہیں آئی۔ اصل مقابلہ میدان میں نہیں، تیاری میں جیتا جاتا ہے۔ میڈل تقریب تقسیم انعامات کے دن نہیں بنتا۔ وہ کئی سال پہلے کسی چھوٹے سے گراو¿نڈ، کسی پرانے جم، کسی مخلص کوچ اور کسی گمنام کھلاڑی کی روزانہ کی محنت میں بنتا ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہر ایونٹ کے بعد نئے اجلاس ہوں گے، نئی وضاحتیں آئیں گی، نئے وعدے ہوں گے اور پرانے نتائج۔

آخر میں ایک مشورہ مفت ہے۔ اگر ہم واقعی سیف گیمز میں بہتر کارکردگی چاہتے ہیں تو افتتاحی تقریب کی ریہرسل سے زیادہ کھلاڑیوں کی ٹریننگ کی ریہرسل کریں۔ تقاریر سے زیادہ پریکٹس کروائیں۔ تصویروں سے زیادہ مقابلے کرائیں۔ اور کمیٹیوں سے زیادہ کھلاڑی پیدا کریں۔ کیونکہ تاریخ میں کسی ملک نے میٹنگوں کی تعداد سے میڈل نہیں جیتے۔ میڈل ہمیشہ میدان میں جیتے جاتے ہیں، کانفرنس روم میں نہیں۔

#CommonwealthGames #SAFGames #PakistanSports #KPSports #NationalGames #SportsGovernance #SportsDevelopment


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1039 Articles with 800753 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More